logo logo
AI Search

وضو میں چہرہ دھونے کی حد

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وضو میں چہرے کا کتنا حصہ دھونا لازم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو میں چہرہ دھونے کا کیا طریقہ ہے یعنی کہاں سے کہاں تک دھونا ضروری ہے؟

جواب

وضو میں چہرہ دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ پورے چہرے کو اس طرح دھویا جائے کہ چہرے کی حدود کے اندر موجود ہر ہر حصے پر کم از کم دو قطرے پانی بہہ جائے، یہ فرض ہے، چوڑائی میں چہرہ کی حد ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک ہے، اس میں کان کی لو (یعنی جس جگہ عام طور پر عورتیں بالیاں ڈالتی ہیں) چہرے کی حدود میں شامل نہیں۔ اور لمبائی میں چہرے کی حد پیشانی کی ابتدا (یعنی جہاں سے عادتاً سر کے با ل اُگنا شروع ہوتے ہیں اس) سے ٹھوڑی کے نیچے تک یعنی نچلے دانت جس ہڈی پر ہیں، یہ ہڈی ٹھوڑی کانچلا حصہ کہلاتی ہے اور یہ چہرے میں شامل ہے،لہذا چہرے کی اس پوری حد میں شامل ہر حصے کو دھونا فرض ہے، یہاں تک کہ اس حد میں موجود اگر داڑھی کے بال گھنے نہ ہوں تو بالوں کے ساتھ نیچے کی کھال دھونا بھی فرض ہے، اور اگر گھنے ہوں کہ کھال نظر نہ آئے تو صرف بالوں کا دھونا فرض ہے۔ البتہ ٹھوڑی سے نچلا حصہ جو گلے سے ملتا ہے، وہ چہرے کی حدود میں شامل نہیں ہے۔

الجوھرۃ النیرۃ میں ہے: ”حد الوجہ: من قصاص الشعر الی اسفل الذقن طولاً و من شحمۃ الاذن الی شحمۃ الاذن عرضا“ یعنی چہرے کی حد لمبائی میں بالوں کے اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی میں ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 3، المطبعۃ الخیریۃ)

فتاوی رضویہ میں ضروریات وضو شمار کرتے ہوئے فرمایا: ”(9) ٹھوڑی کی ہڈی اُس جگہ تک جہاں نیچے کے دانت جمے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 1، ص 598، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے: ”شروعِ پیشانی سے (یعنی جہاں سے بال جمنے کی انتہا ہو) ٹھوڑی تک طول میں اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک مونھ ہے، اس حد کے اندر جلد کے ہر حصہ پر ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہے۔“(بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 288، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بنایہ، مجمع الانھرومراقی الفلاح میں ہے: و اللفظ للبنایۃ: ”شحمۃ الاذن معلق القرط“ یعنی کان کی لو بالی لٹکانے کی جگہ ہے۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ، جلد 1، صفحہ 161، مطبوعہ: بیروت)

کان کی لو چہرہ کی حدود میں شامل نہیں، حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: ”و فی ابی السعود عن شیخہ : قد استفید من قولہ فی التنویر و الدرر: ”و ما بین شحمتی الاذنین عرضا“ عدم فرضیۃ غسل شیئ من الشحمتین“ یعنی حاشیہ ابی سعود میں ان کے شیخ سے مروی ہے: تنویر و درر کے قول: ”و ما بین شحمتی الاذنین عرضا“ سے مستفاد ہے کہ کانوں کی دونوں لو میں سے کسی حصے کا دھونا فرض نہیں ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 371، مطبوعہ: بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”مُنہ، ہاتھ، پاؤں تینوں عضووں کے تمام مذکور ذرّوں پر پانی کا بہنا فرض ہے ۔ ۔ ۔ ہاتھ پھر جانا یا تیل کی طرح پانی چُپڑ لینا تو بالاجماع کافی نہیں اور صحیح مذہب میں ایک بوند ہرجگہ سے ٹپک جانا بھی کافی نہیں کم سے کم دو بوندیں ہر ذرہ ابدان مذکورہ پر سے بہیں۔ درمختار میں ہے: ”غسل الوجہ ای اسالۃ الماء مع التقاطر ولو قطرۃ وفی الفیض اقلہ قطرتان فی الاصح اھ“ چہرے کا دھونا یعنی ''تقاطر'' کے ساتھ پانی بہانا اگر چہ ایک ہی قطرہ ٹپکے ، اور فیض میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ کم از کم دو دو قطرے ٹپکیں اھ (فتاوی رضویہ، جلد 1 (الف)، صفحہ 287، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بہار شریعت میں ہے: ”داڑھی کے بال اگر گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا فرض ہے اور اگر گھنے ہوں تو گلے کی طرف دبانے سے جس قدر چہرے کے گردے میں آئیں ان کا دھونا فرض ہے اور جڑوں کا دھونا فرض نہیں اور جو حلقے سے نیچے ہوں ان کا دھونا ضرور نہیں اور اگر کچھ حصہ میں گھنے ہوں اور کچھ چَھدرے، تو جہاں گھنے ہوں وہاں بال اور جہاں چھدرے ہیں، اس جگہ جلد کا دھونا فرض ہے۔ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 289، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-006
تاریخ اجراء: 04 ربیع الاول 1448ھ / 18 اگست 2026ء