logo logo
AI Search

بندہ شرعی معذور کب بنتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا صرف بیماری کی وجہ سے شرعی معذور کا حکم ہوتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے کہ کیا صرف بیماری کی وجہ سے آدمی شرعی معذور بن جاتا ہے؟

جواب

جی نہیں! محض بیماری لاحق ہونے سے آدمی شرعی معذور نہیں بن جاتا۔ شرعی معذور ہونے کے لیے مخصوص شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ اس لیے ہر بیمار شخص شرعی اصطلاح میں معذور نہیں کہلاتا، بلکہ شرعی معذور وہ شخص ہوتا ہے جسے کوئی ایسی بیماری یا عذر لاحق ہو جو وضو توڑنے والا ہو، مثلاً پیشاب کے قطرے آنا، ہوا خارج ہونا وغیرہ، اور کیفیت یہ ہو کہ وہ عذر اس تسلسل کے ساتھ پایا جائے کہ ایک نماز کے وقت میں اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وہ وضو کر کے فرض نماز ادا کر سکے۔ ایسی صورت میں وہ شخص شرعی معذور کہلائے گا۔

عذر ثابت ہوجانے کے بعد وہ ہر نماز کے وقت میں وضو کرے گا اور اس وقت کے اندر جتنی نمازیں چاہے اسی وضو سے ادا کرسکتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا جس کی وجہ سے وہ شرعی معذور بنا ہے۔ البتہ کسی دوسرے سبب سے وضو ٹوٹ جائے، مثلاً جس شخص کو قطرے آنے کا مرض ہے اس سے ہوا خارج ہوجائے، تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح فرض نماز کا وقت ختم ہونے سے معذور کا وضو ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا اگلی نماز کے وقت نیا وضو کرنا ہوگا۔ ایک مرتبہ شرعی معذور بن جانے کے بعد اگر ہر نماز کے وقت میں کم از کم ایک مرتبہ وہی عذر پایا جائے جس کی وجہ سے معذوری ثابت ہوئی تھی تو معذوری باقی رہے گی، اگرچہ درمیان میں اتنا وقفہ مل جائے کہ وضو کرکے نماز ادا کی جاسکے۔ اور اگر ایک مکمل نماز کا وقت ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں وہ عذر ایک مرتبہ بھی نہ پایا جائے تو شرعی معذوری ختم ہوجائے گی۔ بعد میں دوبارہ وہی عذر پیدا ہو تو نئے سرے سے شرعی معذوری ثابت کرنے کے لیے دوبارہ ایک مکمل نماز کا وقت اس طرح گزرنا ضروری ہوگا۔ نیز اگر کسی جائز تدبیر سے عذر کو ختم یا کم کیا جاسکتا ہو تو اس تدبیر کو اختیار کرنا لازم ہے؛ مثلاً کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے خون بہتا ہو اور بیٹھ کر پڑھنے سے خون نہ بہے تو بیٹھ کر نماز پڑھنا لازم ہوگا۔

عذر شرعی کے ثبوت کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: ”شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا و هو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله“ ترجمہ: پہلی مرتبہ عذر ثابت ہونے کے لیے شرط ہے کہ وہ عذر پورے ایک نماز کے وقت کو گھیر لے اور یہی زیادہ ظاہر ہے، جیسا کہ عذر کا ختم ہونا بھی اسی وقت ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ نماز کے ایک پورے وقت کو گھیر لے (یعنی پورے وقت میں وہ عذر نہ پایا جائے)۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، کتاب الطھارۃ، صفحہ 40، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وُضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وُضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وُضو نہیں جاتا، جیسے قطرے کا مرض، یا دست آنا، یا ہوا خارِج ہونا، یا دُکھتی آنکھ سے پانی گرنا، یا پھوڑے، یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا، یا کان، ناف، پِستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وُضو توڑنے والی ہیں، ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکاتو عذر ثابت ہوگیا۔ ۔ ۔ جب عذر ثابت ہو گیا تو جب تک ہر وقت میں ایک ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے، معذور ہی رہے گا، مثلاً عورت کو ایک وقت تو اِستحاضہ نے طہارت کی مہلت نہیں دی اب اتنا موقع ملتا ہے کہ وُضو کرکے نماز پڑھ لے مگر اب بھی ایک آدھ دفعہ ہر وقت میں خون آجاتا ہے تو اب بھی معذور ہے۔ یوہیں تمام بیماریوں میں اور جب پورا وقت گزر گیا اور خون نہیں آیاتو اب معذورنہ رہی جب پھر کبھی پہلی حالت پیدا ہو جائے تو پھر معذور ہے اس کے بعد پھر اگر پورا وقت خالی گیا تو عذر جاتا رہا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 385، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

مزید فرماتے ہیں: ’’فرض نماز کا وقت جانے سے معذور کا وُضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (نیز) معذورکا وُضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے، ہاں اگر کوئی دوسری چیزوُضو توڑنے والی پائی گئی تو وُضو جاتا رہا۔ مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہے، ہوا نکلنے سے اس کا وُضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے، قطرے سے وُضو جاتا رہے گا۔ اگر کسی ترکیب سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہوجائے تو اس ترکیب کا کرنا فرض ہے، مثلاً کھڑے ہوکر پڑھنے سے خون بہتا ہے اور بیٹھ کر پڑھے تو نہ بہے گا تو بیٹھ کر پڑھنا فرض ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 385 - 387،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5396
تاریخ اجراء: 08 ربیع الاول 1448ھ / 22 اگست 2026ء