لکڑی کا فرش پاک کرنے کا طریقہ
بسم اللہ الرحمن الرحيم
لکڑی کے فرش کو پاک کرنے کا طریقہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
لکڑی کا فرش زمین میں مستقل پیوست ہونے کی وجہ سے زمین ہی کے حکم میں ہوتا ہے، لہذا اس کی پاکی کے لیے اس پر پانی بہانا شرط نہیں، بلکہ اگر نجاست کو موپ کے ذریعے صاف کر دیا پھر وہ جگہ خشک ہو گئی اور اس پر سے نجاست کا اثر (رنگ، بو) دور ہو گیا تو بھی وہ جگہ پاک ہو جائے گی، جیسا کہ زمین کے متعلق حکم ہے کہ وہ خشک ہونے اور اثرِ نجاست کے زائل ہو جانے سے پاک ہو جاتی ہے یعنی اس پر نماز جائز ہے، ہاں اس سے تیمم نہیں ہو سکتا۔ البتہ مذکورہ صورت میں نجاست صاف کرنے کی وجہ سے موپ (پوچا) ناپاک ہو جائے گا، جسے دھو کر پاک کرنا ہوگا، ورنہ بغیر پاک کیے اسے جس جگہ استعمال کریں گے وہ بھی ناپاک ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ لکڑی کے فرش پر نجاست لگنے کی وجہ سے جو جگہ ناپاک ہوئی، اسے پاک کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اس جگہ پر کچھ پانی ڈالیں، پھر پاک کپڑے یا موپ سے اسے صاف کر تے ہوئے خشک کر دیں، اسی طرح تین مرتبہ کریں تو وہ جگہ پاک ہو جائے گی، جیسا کہ زمین کے متعلق حکم ہے کہ یوں بھی زمین پاک ہو جاتی ہے اور اس پر نماز پڑھنا جائز ہوتا ہے، بلکہ اس صورت میں اس سے تیمم کرنا بھی درست ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ تینوں مرتبہ کے لیے ہر بار نیا پاک کپڑا یا موپ استعمال کرنا ہوگا یا پہلے والے کو پاک کر کے استعمال کریں۔
فقیہِ حنفیہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1069ھ / 1658ء) لکھتے ہیں: و إذا ذهب أثر النجاسة عن الأرض و قد جفت و لو بغير الشمس على الصحيح طهرت و جازت الصلاة عليها لقوله صلى اللہ عليه و سلم: أيما أرض جفت فقد زكت دون التيمم منها . . . ويطهر ما بها أي الأرض من شجر و كلأ أي عشب قائم أي نابت فيها بجفافه . . . و ذهاب أثرها تبعا للأرض على المختار“ ترجمہ: اور جب زمین سے نجاست کا اثر جاتا رہے اور وہ خشک ہو جائے، اگرچہ صحیح قول کے مطابق سورج کے علاوہ (کسی اور ذریعے) سے خشک ہو تو وہ پاک ہو جاتی ہے اور اس پر نماز جائز ہوتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ جو بھی زمین خشک ہو گئی تو وہ پاک ہو گئی سوائے اس سے تیمم کرنے کے (کہ اس جگہ سے تیمم نہیں ہو سکتا۔) اور جو کچھ زمین کے ساتھ ہے، مثلاً درخت اور گھاس جو زمین میں قائم یعنی اُگے ہوئے ہوں، وہ خشک ہونے اور نجاست کے اثر کے ختم ہو جانے سے زمین کے تابع ہو کر مختار قول کے مطابق پاک ہو جاتے ہیں۔ (نور الایضاح مع مراقي الفلاح، کتاب الطهارۃ، صفحہ 104 - 105، مکتبة المدینه، کراچی)
علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231ھ / 1815ء) تبعا للأرض" کے تحت لکھتے ہیں: يلحق بما ذكر في هذا الحكم كل ما كان ثابتا فيها كالحيطان و الخص بالخاء المعجمة و هو حجيزة السطح و غير ذلك ما دام قائما عليها فيطهر بالجفاف و ذهاب الأثر هو المختار اهـ قلت و هذا يقتضي أن نحو الأبواب المتصلة كذلك كذا بحثه بعض الأفاضل“ ترجمہ: اس حکم میں جو ذکر کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ہر وہ چیز لاحق ہوگی جو زمین میں قائم ہو، جیسے دیواریں اور خُص یعنی چھت کی اوٹ( سر کی، Reed Screen) اور اس کے علاوہ دیگر چیزیں، جب تک کہ وہ زمین پر قائم رہیں، پس وہ خشک ہونے اور نجاست کے اثر کے جاتے رہنے سے پاک ہو جائیں گی، یہی مختار قول ہے۔ میں کہتا ہوں: یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ متصل دروازوں کی مثل اشیاء بھی اسی طرح ہیں (یعنی یہی حکم رکھتی ہیں)، جیسا کہ بعض فاضل علماء نے اس کی تحقیق کی ہے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الطهارة، باب الأنجاس و الطهارة عنها، صفحہ 165، دار الکتب العلمیة، بیروت(
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ناپاک زمین اگر خشک ہو جائے اور نجاست کا اثر یعنی رنگ و بو جاتا رہے پاک ہو گئی، خواہ وہ ہوا سے سوکھی ہویا دھوپ یا آگ سے، مگر اس سے تیمم کرنا ،جائز نہیں، نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں۔ درخت اور گھاس اور دیوار اور ایسی اینٹ جو زمین میں جڑی ہو، یہ سب خشک ہو جانے سے پاک ہو گئے اور اگر اینٹ جڑی ہوئی نہ ہو تو خشک ہونے سے پاک نہ ہو گی، بلکہ دھونا ضروری ہے۔ یوہیں درخت یا گھاس سوکھنے کے پیشتر کاٹ لیں تو طہارت کے لیے دھونا ضروری ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 2،صفحہ 401، مکتبة المدینہ، کراچی)
امام کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتے ہیں: و إذا قصد تطهير الأرض صب عليها الماء ثلاث مرات وجففت في كل مرة بخرقة طاهرة وكذا لو صب عليها ماء بكثرة و لم يظهر لون النجاسة و لا ريحها فإنها تطهر“ ترجمہ: اور جب زمین کو پاک کرنا مقصود ہو تو اس پر تین مرتبہ پانی ڈالا جائے گا اور ہر مرتبہ اسے کسی پاک کپڑے کے ساتھ خشک کیا جائے گا اور اسی طرح اگر اس پر کثرت سے پانی بہا دیا جائے اور نجاست کا رنگ اور اس کی بو ظاہر نہ ہو تو وہ پاک ہو جائے گی۔ (فتح القدیر، كتاب الطهارات، باب الأنجاس و تطهيرها، جلد 1، صفحہ 199، دار الفکر، بیروت)
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: و لو أريد تطهيرها عاجلا يصب عليها الماء ثلاث مرات وتجفف في كل مرة بخرقة طاهرة“ ترجمہ: اور اگر زمین کو جلدی پاک کرنے کا ارادہ ہو تو اس پر تین مرتبہ پانی ڈالا جائے اور ہر مرتبہ اسے پاک کپڑے سے خشک کر دیا جائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، جلد 1، صفحہ 563، دار المعرفة، بیروت)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء)لکھتے ہیں: جعل ذلك بمنزلة غسل الثوب في الإجانة والتنشيف بمنزلة العصر“ ترجمہ: اس (زمین کو تین مرتبہ دھونے کے عمل) کو برتن میں کپڑا دھونے کے اور (تین مرتبہ پاک کپڑے سے پانی) خشک کرنے کو نچوڑنے کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، جلد 1، صفحہ 238، دار الكتاب الإسلامي)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اس جنس ارض کو کبھی نجاست نہ پہنچی ہو، یا پہنچی تو پاک ہو گئی ہو یعنی اصلا اس کا کوئی حصہ نہ رہا ہو، جیسے پانی سے دھل کر یا آگ سے جل کر اجزائے نجاست سب نکل یا جل جائیں (تو تیمم جائز ہے۔) دھوپ یا ہوا سے خشک ہو کر جبکہ نجاست کا کوئی اثر رنگ و بو نہ رہے تو وہ شے نماز کے لیے پاک ہو جاتی ہے، مگر اس سے تیمم جائز نہیں ہوتا؛ کہ دھوپ یا ہوا استیصال نجاست نہیں کرتی، کچھ اجزائے خفیفہ باقی رہ جاتے ہیں جو نماز میں معاف ہیں اور تیمم میں معاف نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 707، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1284
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 31 جولائی 2026ء