ناپاکی کی حالت میں منسوخ آیات کی تلاوت کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
ناپاکی کی حالت میں منسوخ آیات کی تلاوت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
آیت رجم ﴿الشيخ و الشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة﴾ کی تلاوت اگرچہ منسوخ ہو چکی ہے لیکن منسوخ ہونے سے یہ کلام اللہ ہونے سے خارج نہیں ہوئی، لہذا قرآن پاک کی طرح اسے بھی حیض و نفاس یا جنابت کی حالت میں پڑھنا، اسی طرح وضو نہ ہو، تو اِسے چھونا ناجائز و گناہ ہے۔
منسوخ التلاوۃ آیت کا حکم بھی قرآن پاک جیسا ہے یعنی اسے بھی غسل نہ ہونے کی صورت میں پڑھنا، اسی طرح وضونہ ہو، تو اسے چھونا ناجائز و گناہ ہے۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: (و) يحرم به (تلاوة القرآن) ترجمہ: حدث اکبر کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرنا حرام ہے۔
اس کے تحت رد المحتار علی الدرالمختارمیں خاتم المحققین، علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ(سالِ وفات/ 1252ھ) لکھتے ہیں: (قوله: تلاوة القرآن) أي ولو بعد المضمضة كما يأتي، وفي حكمه منسوخ التلاوة“ ترجمہ: (مصنف کا قول کہ: قرآن کی تلاوت کرنا) اگرچہ کلی کرنے کے بعد ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ آگے آئے گا۔ اور اس کے حکم میں وہ آیات بھی شامل ہیں جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الطھارۃ، جلد 01، صفحہ 172، دار الفكر، بيروت)
اسی طرح منہل الواردین اوررد المحتار علی الدر المختارمیں خاتم المحققین، علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 1252ھ) لکھتے ہیں: و اللفظ للآخر: (قوله: و مسه) أي مس القرآن و كذا سائر الكتب السماوية. قال الشيخ إسماعيل: و في المبتغى: و لا يجوز مس التوراة و الإنجيل و الزبور و كتب التفسير. اهـ. و به علم أنه لا يجوز مس القرآن المنسوخ تلاوة و إن لم يسم قرآنا متعبدا بتلاوته، خلافا لما بحثه الرملي، فإن التوراة و نحوها مما نسخ تلاوته و حكمه معا فافهم“ ترجمہ: (مصنف کا قول کہ: قرآن کو چھونا) اور اسی طرح دیگر آسمانی کتابوں کو بھی۔ شیخ اسماعیل رحمہ اللہ نے فرمایا: اور المبتغیٰ میں ہے کہ تورات، انجیل، زبور اور کتبِ تفسیر کو چھونا،جائز نہیں۔ اھ۔ اسی سے معلوم ہوا کہ وہ قرآن جس کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہو، اسے چھونا بھی جائز نہیں، اگرچہ اسے وہ قرآن نہ کہا جائے جس کی تلاوت بطورِ عبادت کی جاتی ہے۔ یہ اس کے خلاف ہے جو علامہ رملی رحمہ اللہ نے بحث کی ہے؛ کیونکہ تورات وغیرہ ان کتابوں میں سے ہیں جن کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہو چکے ہیں، لہٰذا اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطھارۃ، جلد 01، صفحہ 173، دار الفكر، بيروت) (منھل الواردین من بحار الفیض علی ذخر المتأھلین و النساء فی مسائل الحیض، صفحہ 267، دار الفكر)
آیت کے منسوخ التلاوۃ ہونےکے باوجود یہ کلام اللہ ہونے سے خارج نہیں ہوئی، منحۃ الخالق میں مزید لکھتے ہیں: و قد تقدم أن ما نسخ تلاوته و حكمه كالتوراة ونحوها فتلاوته للجنب و من بمعناه مكروهة على الصحيح كما اعتمده الحلبي؛ لأن ما بدل منه بعض غير معين و كونه منسوخا لا يخرجه عن كونه كلام اللہ تعالى كالآيات المنسوخة من القرآن، وأما مسه فقد علم حكمه مما نقله القهستاني عن الذخيرة و هو عدم الجواز حتى للمحدث“ ترجمہ: اور پہلے گزر چکا ہے کہ جس کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہو چکے ہوں، وہ تورات وغیرہ کی طرح ہے، لہٰذا صحیح قول کے مطابق جنب اور اس کے ہم معنی شخص کے لیے اس کی تلاوت مکروہ ہے، جیسا کہ علامہ حلبی رحمہ اللہ نے اسی کو معتمد قرار دیا؛ کیونکہ اس میں سے کچھ حصہ غیر معین طور پر تبدیل کیا گیا ہے، اور محض منسوخ ہو جانا اسے کلامِ الٰہی ہونے سے خارج نہیں کرتا، جیسے قرآن کی منسوخ آیات۔ رہا اس کا چھونا، تو اس کا حکم وہی ہے، جو قہستانی نے ذخیرہ سے نقل کیا ہے، یعنی محدث کے لیے بھی اس کا چھونا، جائز نہیں۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق و منحۃ الخالق، جلد 01، صفحہ 212، دار الكتاب الإسلامي)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL- 0469
تاریخ اجراء: 13رمضان المبارک1447ھ/03مارچ2026ء