logo logo
AI Search

فلمیں ڈرامے دیکھنے سے وضو ٹوٹنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا فلمیں ڈرامے دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حضور سوال یہ تھا کہ اگر ایک باوضو آدمی ٹی وی کے اوپر ڈرامہ دیکھ رہا ہو، یا پھر موبائل کے اوپر فیس بک استعمال کر رہا ہو، یا ٹک ٹاک دیکھ رہا ہو، تو کیا اس صورت میں اس کا وضو برقرار رہے گا ؟ یا اسے نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا؟ اس کا اس کے وضو پر کیا اثر ہوگا؟

جواب

اولاً یاد رہے کہ آج کل مروجہ ڈرامے کئی گناہوں کا مجموعہ ہوتے ہیں، جیسے بے حیائی، بے پردگی، اور فحاشی پر مشتمل مناظر، میوزک وغیرہ، لہٰذا ان کا دیکھنا ناجائز وگناہ ہے، اسی طرح فیس بک یا ٹک ٹاک پر بھی اگر ایسی چیزیں دیکھیں گے، تو گنہگار ہوں گے، اور اب تک جو ایسی چیزیں دیکھ چکے، ان سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنا، اور آئندہ نہ دیکھنے کا عہد کرنا لازم ہے۔

رہی بات کہ دیکھنے سے وضو پر اثر پڑے گا یا نہیں؟، تو اس حوالے سے حکم شرعی یہ ہے کہ اگر ڈرامے وغیرہ دیکھنے سے شہوت آئے اور مذی یا منی نکلے، تو ایسی صورت میں وضو یا غسل لازم ہوگا، لیکن اگر مذی یا منی وغیرہ کچھ نہیں نکلا، تو صرف دیکھنے کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ! فلمیں ڈرامے وغیرہ گناہوں بھرے مناظر دیکھنے کے بعد وضو کرنا مستحب ہے، لہذا اگر باوضو شخص نے اس طرح کے مناظر دیکھے ہیں، تو توبہ تو لازم ہے، اور مستحب یہ ہے کہ وہ دوبارہ وضو بھی کرلے۔

شعب الایمان میں ہے "عن ابن مسعود:۔۔۔زنا العين النظر، وزنا الشفتين التقبيل، وزنا اليدين البطش، وزنا الرجلين المشي" ترجمہ: حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےکہ آنکھ کا زنا بدنگاہی ہے، اور ہونٹوں کا زنا بوسہ لینا ہے، اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، اور پاؤں کا زنا (گناہ کی طرف) چلنا ہے۔ (شعب الایمان، ج 5، ص 394، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لیکونن فی امتی اقوام یستحلون الحر و الحریر و الخمر و المعازف" ترجمہ: ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں، جو عورتوں کی شرمگاہ (زنا)، اور ریشمی کپڑوں، اور شراب، اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے۔ (صحیح البخاری، کتاب الاشربۃ، ص 1045، رقم الحدیث 5590، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ایک اور حدیث پاک میں نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’من قعد الی قینۃ یستمع منھا صب اللہ فی اذنیہ الآنک یوم القیمۃ“ ترجمہ: جو کوئی گانے والی کے پاس بیٹھ کر اس کا گانا سنے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دونوں کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالے گا۔ (کنزالعمال، ج 15، ص 220، 221، رقم الحدیث 40669، مؤسسة الرسالة، بیروت)

امام اہلسنت، امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "مزامیر یعنی آلاتِ لہو و لعب بروجہ لہو لعب بلاشبہ حرام ہیں، جن کی حرمت اولیاء و علماء دونو ں فریق مقتدا کے کلمات ِ عالیہ میں مصرح، ان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شک نہیں کہ بعد اصرار کبیرہ ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 78، 79، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی عالمگیری میں ہے "(نواقض الوضوء) منها ما يخرج من السبيلين من البول والغائط والريح الخارجة من الدبر والودي والمذي والمني" ترجمہ: وضو توڑنے والی چیزوں میں سے ہے (ہروہ چیز) جو سبیلین سے نکلے، جیسے پیشاب، پاخانہ، دبر سے خارج ہونے والی ہوا، ودی، مذی اور منی۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 9، مطبوعہ: کوئٹہ)

نورالايضاح میں ہے "والثالث مندوب: للنوم على طهارة وإذا استيقظ منه. وللمداومة عليه. وللوضوء على الوضوء و بعد غيبة وكذب ونميمة وكل خطيئة وإنشاد شعر" ترجمہ: تیسری قسم مستحب وضو کی ہے، (جیسے) باوضو ہو کر سونا، نیند سے بیدار ہونے کے بعد وضو کرنا، ہمیشہ باوضو رہنے کے لیے، وضو پر وضو کرنے کے لیے، غیبت، جھوٹ، چغلی، ہر گناہ کے بعد، اور شعر پڑھنے کے بعد وضو کرنا۔ (نورالایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 59، 60، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5223

تاریخ اجراء: 27 محرم الحرام 1448ھ/13 جولائی 2026ء