logo logo
AI Search

رات کے وقت غسل کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

رات کے وقت غسل کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

رات کے وقت غسل کرنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ احادیثِ مبارکہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا رات کے وقت غسل فرمانا ثابت ہے۔ 

صحیح مسلم شریف میں روایت ہے، حضرت عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سألت عائشة عن وتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، فذكر الحديث۔ قلت: كيف كان يصنع في الجنابة؟ أكان يغتسل قبل أن ينام أم ينام قبل أن يغتسل؟ قالت: كل ذلك قد كان يفعل، ربما اغتسل فنام، و ربما توضأ فنام، قلت: الحمد لله الذي جعل في الأمر سعة“ ترجمہ: میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا: جنابت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا معمول کیا تھا؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل فرما لیتے تھے یا غسل سے پہلے سو جاتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ دونوں طرح عمل فرماتے تھے، کبھی غسل فرما کر سوتے تھے اور کبھی وضو کر کے سوتے تھے۔ میں نے کہا: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی۔ (صحيح مسلم، رقم الحدیث 307، ص 129، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

سنن النسائی میں روایت ہے:عن غضيف بن الحارث: أنه سأل عائشة رضي اللہ عنها: أي الليل كان يغتسل رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قالت: «ربما اغتسل أول الليل، و ربما اغتسل آخره» قلت: الحمد لله الذي جعل في الأمر سعة“ ترجمہ: غضیف بن الحارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کس حصے میں غسل فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے شروع میں غسل فرماتے اور کبھی رات کے آخر میں۔ میں نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ (سنن النسائی، رقم الحدیث 222، ص 58، دار ابن کثیر)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5240
تاریخ اجراء: 09 صفر المظفر 1448ھ / 23 جولائی 2026ء