جرم والی مہندی میں قرآن چھونا اور نماز پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جِرم والی مہندی لگالی ہو تو قرآن مجید چھونے اور نماز پڑھنے کے احکام
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
تہہ والی مہندی، جو جسم تک پانی پہنچنے سے رکاوٹ ہے، ایسی مہندی لگے ہونے کی حالت میں نہ قرآن پاک چھو سکتے ہیں، اور نہ نماز پڑھ سکتے ہیں؛ کیونکہ مہندی لگے ہونے کی صورت میں وضو میں مہندی کے نیچے پانی نہیں پہنچے گا، اور اس طرح وضو نہیں ہوگا، اور بغیر وضو قرآن پاک کو چھونا اور نماز پڑھنا، حرام ہے، لہذا اس مہندی کو اتار کر وضو کر کے قرآن پاک کوہاتھ لگایا جائے۔ ہاں! اگر اُس تہہ والی مہندی کو اُتارنا ممکن نہ ہو، یا اُتارنے میں شدید حرج ہو، تو اب حرج و مشقت کی وجہ سے اُس مہندی والی جگہ کےنچلے حصے کو دھونا معاف ہوجائے گا، اور اس کے لگے ہونے کی حالت میں ہی وضو درست ہوجائے گا اور اس صورت میں وضو کر کے قرآن پاک کو چھونا اور نماز پڑھنا دونوں جائز ہو جائے گا، لیکن یہ یاد رہے کہ اپنے ارادےسے ایسی حالت پیدا کرنا جو وضو و غسل اور فرض یا واجب عبادت کو اپنی شرائط کے ساتھ پورا کرنے میں رکاوٹ بنے، یہ شرعاً ناجائز و گناہ ہے۔
اگر جرم دار مہندی کا اتارنا، ممکن ہو تو وضو و غسل کے لئے اسے اتارنا ہوگا، بغیر اتارے وضو و غسل نہ ہوگا، چنانچہ فتح القدیر میں ہے: و لو لزق بأصل ظفرہ طین یابس و نحوہ أو بقی قدر رأس الإبرۃ من موضع الغسل لم یجز ترجمہ: اگر اس کے ناخن کے اوپر خشک مٹی یا اس کی مثل کوئی اور چیز چپک گئی یا دھونے والی جگہ پر سوئی کے ناکے کے برابر جگہ باقی رہ گئی تو جائز نہیں ہے (یعنی وضوو غسل نہیں ہو گا۔) (فتح القدیر، کتاب الطھارات، جلد 1، صفحہ 16،دار الفکر، بیروت)
اگر جرم دار مہندی کے اتارنے میں مشقت و حرج ہو، تو اس کا اتارنا معاف ہوگا، اور اسے اتارے بغیر بھی وضو وغسل ہوجائے گا، اور نماز ہوجائے گی، جیسا کہ امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت، امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: حرج کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ وہاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو جیسے آنکھ کے اندر۔ دوم مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی۔ سوم بعد علم و اطلاع کوئی ضرر ومشقت تو نہیں مگر اس کی نگہداشت، اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے جیسے مکھی مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا گرہ کھایا ہوا بال۔ قسم اول ودوم کی معافی توظاہر اور قسم سوم میں بعد اطلاع ازالہ مانع ضرور ہے مثلاً جہاں مذکورہ صورتوں میں مہندی، سرمہ، آٹا، روشنائی، رنگ، بیٹ وغیرہ سے کوئی چیز جمی ہوئی دیکھ پائی، تو اب یہ نہ ہو کہ اُسے یوں ہی رہنے دے اور پانی اوپر سے بہادے، بلکہ چھڑا لےکہ آخر ازالہ میں تو کوئی حرج تھا ہی نہیں، تعاہد میں تھا، بعد اطلاع اس کی حاجت نہ رہی و من المعلوم ان ماکان لضرورة تقدر بقدرھا (اور یہ بات معلوم ہے کہ جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو، وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے۔) (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 611، 610، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اپنے ارادے سے ایسی حالت پیدا کرنا، جو وضو و غسل، اور فرض یا واجب عبادت کو اپنی شرائط کے ساتھ پورا کرنے میں رکاوٹ بنے، ناجائز و گناہ ہے، جیسا کہ ایک مسئلہ سے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: اگر حقہ سے منہ کی بو متغیر ہو، بے کلی کئے منہ صاف کئے مسجد میں جانے کی اجازت نہیں ۔ ۔ ۔ مگر جو حقہ ایسا کثیف و بے اہتمام ہو کہ معاذ اللہ تغیرِ باقی پیدا کرے کہ وقتِ جماعت تک بو زائل نہ ہو، تو قربِ جماعت میں اس کا پینا شرعاً ناجائز کہ اب وہ ترکِ جماعت و ترکِ سجدہ یا بدبو کے ساتھ دخولِ مسجد کا موجب ہو گا اور یہ ممنوع و ناجائز ہیں اور ہر مباح فی نفسہ کہ امرِ ممنوع کی طرف مؤدی ہو، ممنوع و ناروا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 94، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5230
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 31 جولائی 2026ء