logo logo
AI Search

زخم کے اندر خون بہے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

زخم سے نکلنے والے خون سے کب وضو ٹوٹتا ہے اور کب نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی ٹانگ پر ایک گہرازخم ہے جس نے لمبائی اور چوڑائی میں کافی جگہ (تقریبا دو انچ جگہ) گھیر رکھی ہے۔ پانی اس زخم کو نقصان دیتا ہے اس وجہ سے زید اسے پانی سے بچاتا بھی ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ اس زخم کے ایک حصے سے خون نکل کر بہتا ہوا دوسرے حصے پر چلا جاتا ہے لیکن اس زخم کےاندر ہی رہتا ہے اس کے دائرے سے باہر نہیں نکلتا توعرض یہ ہے کہ اگر اس زخم کی ایک طرف سے خون نکل کر بہا اور دوسری جانب آگیا لیکن زخم کے اندر ہی رہا توزید کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں؟

سائل: سعد عطاری (شاد باغ لاہور)

جواب

زید کے مذکورہ زخم کی ایک طرف سے خون نکل کر بہتے ہوئے زخم کی دوسری طرف جانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا جب تک وہ بہتے ہوئے زخم کے دائرے سے باہر تندرست حصے کی طرف نہ نکلے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ ایسا زخم جس کی چوڑائی اور گہرائی نظر آرہی ہو، اس کی ایک جانب سے خون یا پیپ نکل کر دوسری جانب بہہ جائے تو اس سے اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹتا جب تک وہ خون یا پیپ بہہ کر ایسی جگہ نہ پہنچ جائے جسے وضو یا غسل میں دھونا ضروری ہو کیونکہ ایسے زخم والا حصہ جب تک تندرست نہ ہوجائے شرعی طورپر وہ بدن کے باطنی حصے کے حکم میں ہے اور جسم کے اندرونی حصے میں خون کے بہنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

فتاوی بزازیہ میں ہے: و فی جامع الصغیر: الدم اذالم یحدرعن راس الجرح لکن علا و صار اکثرعن راس الجرح لا ینقض ترجمہ: جامع الصغیر میں ہے کہ خون جب زخم کے سر سے نہ ڈھلکے لیکن اوپر آئے اور زخم کے سر سے زیادہ ہوجائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (فتاوی بزازیہ، جلد 1، صفحہ 17، مطبوعہ کوئٹہ)

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃاللہ علیہ اپنے رسالے الفوائد المخصصۃ باحکام کی الحمصۃ میں فرماتے ہیں: ان الدم و القیح و الصدید اذا علا علی الجرح و لم یسل عنہ الی موضع صحیح من البدن لاینقض الوضوء سواء کان الجرح کبیرا او صغیرا ۔ ۔ ۔ و یؤید ھذا ما فی خزانۃ الروایات فی الجراحۃ البسیطۃاذا خرج الدم من جانب و تجاوز الی جانب اٰخر لکن لم یصل الی موضع صحیح فانہ لاینقض الوضوء لانہ لم یصل الی موضع یلحقہ حکم التطہیر ترجمہ: خون، پیپ پانی جب سر زخم پر چڑھے اور اس سے ہٹ کر بدن کی کسی صحتمند جگہ نہ بہے تو وضو نہ ٹوٹے گا، خواہ زخم بڑا ہو یا چھوٹا۔ ۔ اس کی تائید پھیلے ہوئے زخم سے متعلق خزانۃ الروایات کی اس عبارت سے ہوتی ہے: جب خون زخم کی ایک جانب سے نکلے اور دوسری جانب تجاوز کرے لیکن کسی تندرست جگہ نہ پہنچے تو وہ ناقض وضو نہیں، کیونکہ وہ کسی ایسی جگہ نہیں پہنچا جسے حکم تطہیر لاحق ہو۔ (مجموعۃ رسائل ابن عابدین، الرسالۃ الثالثۃ، الفوائد المخصصۃ باحکام کی الحمصۃ، جلد 1، صفحہ 112، مطبوعہ بیروت)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ فتاوی رضویہ میں زخم وغیرہ سے خون نکلنے کے احکام پر مشتمل اپنےتحقیقی رسالے الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم میں فقہائے کرام کے اقوال مختلفہ کے ذکر کے بعد خلاصہ اور نچوڑ بیان کرتے ہوئےلمبے، چوڑے اور گہرے زخم کے متعلق فرماتے ہیں: اب رہا مسئلہ زخم۔ فاقول(میں کہتا ہوں): بندہ ضعیف کو یہ سمجھ میں آتا ہے اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے کہ پھیلے ہوئے زخم کی تین صورتیں ہیں: ۔ ۔ ۔ و الثالثۃ: بسیط عریض ظاھر غورہ مرئی قعرہ ۔ ۔ ۔ فمجال نظر فان الغور الذی ظھر کان من باطن البدن قطعا واذا ظھر ظھر ولم یتناولہ حکم التطھیر بعد فعسی ان یکون باقیا علی حکمہ الاصلی حتی یبرء فینزل علیہ حکم التطہیر ویلتحق بالظاھر شرعا ایضاکما التحق حسا وحینئذ یکون سیلان الدم فیہ سیلانا فی الباطن و یؤیدہ ماتقدم عن الدرر عن المحیط ان مایوازی الدم من اعلی الجرح مکانہ فقضیتہ ان لونبع الدم فیہ حتی یوازی حرفہ من کل جانب لم یضرلانہ علولا انحدار فیلزمہ ان لو نبع فی اعلاہ ثم انحدر فیہ ولم یجاوزہ لم ینقض لانہ منتقل فی مکانہ لاعن مکانہ ۔ و کانّ ھذا ھو ملحظ مافی المشکلات و خزانۃ الروایات و لا ینافیہ مافی النھر و السراج وط علی المراقی ان فائدۃ ذکرالحکم دفع ورود داخل العین و باطن الجرح اذ حقیقۃ التطہیر فیہما ممکنۃ و انما الساقط حکمہ۔ فلیس ظاھرا فی جعلہ ظاھرا الا ظاھرا و ھو ظاھر بخلاف ماکان ظاھرا ثم عرض عارض فانہ لایخرجہ عن الخروج الی الدخول کما علمت فلیس فیھا ان کل مالایطلب تطہیرہ بالفعل لعذر فالسیلان علیہ لایضرکما اوھم بعض و افہم بعض۔ و بالجملۃ ماکان ظاھرا لایصیر بالعذر باطنا کما افاد ابن الکمال و ما کان باطنا لعلہ لایصیر ظاھرا مالم ینزل علیہ حکم التطہیر کما یفھم من المشکلات و خزانۃ الروایات او النھر و الینابیع و طحطاوی المراقی وردالمحتار ایضا

 تیسری صورت یہ کہ بسیط و عریض ہے جس کا عُمق ظاہر ہے گہرائی نظر آ رہی ہے ۔ ۔ تیسری صورت تو وہ جو لان گاہِ نظر ہے اس لئے کہ گہرائی جو ظاہر ہو گئی ہے یہ قطعاً پہلے باطن بدن میں شامل تھی اور جب ظاہر ہوئی تو اس حالت میں ظاہر ہوئی کہ ابھی اسے حکمِ تطہیر شامل نہیں تو شاید یہ اپنے اصلی حکم پر ( باطن بدن ہونے پر) باقی رہے، یہاں تک کہ زخم اچھا ہو جائے تو اس پر حکمِ تطہیر وارد ہو اور یہ ظاہر شرعی میں شامل ہو جائے جیسے بروقت ظاہر حسّی میں شامل ہے ایسی صورت میں اس کے اندر خون بہنا باطن میں بہنا ہے اس کی تائید اس کلام سے ہوتی ہے جو بحوالہ دررعن المحیط سے نقل ہوا کہ زخم کے بالائی حصے سے جو خون کے مقابل ہے وہ خون ہی کی جگہ ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس میں خون اُبل کر ہر طرف سے اس کے کنارے کے مقابل ہو گیا تو مضر نہ ہو اس لئے کہ یہ چڑھنا ہے ڈھلکنا نہیں، اس پر لازم آتا ہے کہ اگر بالائی حصے میں اُبلے پھر اس کے اندر ہی ڈھلک آئے اور اس سے باہر تجاوز نہ کرے تو ناقض نہ ہو اس لئے کہ وہ اپنی جگہ کے اندر منتقل ہونے والا ہے اپنی جگہ سے منتقل ہونے والا نہیں۔ گویا یہی مشکلات اور خزانۃالروایات کی عبارت کا مطمع نگاہ ہے اور نہر، سراج اور طحطاوی علی مراقی الفلاح کی عبارت اس کے منافی نہیں: اس حکم کو بیان کرنے کا فائدہ داخل چشم اور باطن زخم سے وارد ہونے والے اعتراض کا دفعیہ ہے اس لئے کہ حقیقتِ تطہیر ان دونوں میں ممکن ہے صرف حکمِ تطہیر ساقط ہے اھ۔ یہ عبارت بجز ظاہر حسی کے اُسے ظاہر بدن قرار دینے میں ظاہر نہیں اور ظاہر حسی ہونا توظاہر ہے بخلاف اس کے جو پہلے ظاہر بدن تھا پھر اس پر کوئی عارض در آیا کہ یہ اسے خروج سے نکال کر دخول میں نہ ملا دے گا جیسا کہ معلوم ہوا تو مشکلات میں یہ نہیں کہ ہر وہ جس کی تطہیر بالفعل کسی عذر کی وجہ سے مطلوب نہیں تو اس پر خون بہنا مضر نہیں جیسا کہ بعض نے اس کا وہم پیدا کیا اور بعض کی عبارت سے مفہوم ہوا۔ مختصر یہ کہ جو پہلے ظاہر تھا وہ عذر کی وجہ سے باطن نہ ہو جائے گا جیسا کہ ابنِ کمال نے افادہ فرمایا اور جو باطن تھا امید یہی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو جائے گا جب تک کہ اس پر حکم تطہیر وارد نہ ہو۔ جیسا کہ مشکلات اور خزانۃالروایات سے مفہوم ہوتا ہے یا نہر، ینابیع، طحطاوی علی مراقی الفلاح اور رد المحتار سے بھی۔ ملخصا و ملتقطاً۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحہ 451 تا 455، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0580
تاریخ اجراء: 18 جمادی الاول 1444ھ / 13دسمبر 2022ء