logo logo
AI Search

کیا بغیر وضو قرآن پاک پڑھ سکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بے وضو قرآن پاک پڑھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

بے وضو شخص کے لیے قرآن کریم کو چھونا منع ہے، پڑھنے کی ممانعت نہیں، لہذا قرآن کریم کو بغیر چھوئے بے وضو پڑھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، حتی کہ بغیر چھوئے اوپر سے دیکھ کر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تاہم جس پر غسل فرض ہو یا حیض و نفاس والی عورت، اس کے لیے قرآن کریم پڑھنا ناجائز و حرام ہے، اگرچہ بغیر چھوئے پڑھے۔

علامہ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 956ھ / 1549ء) لکھتے ہیں: و لا تكره قراءة القرآن للمحدث ظاهرا أي: على ظهر لسانه حفظا بالإجماع و روى أصحاب السنن عن علي رضي اللہ عنه: أن رسول اللہ صلي اللہ عليه و سلم كان يخرج من الخلاء فيقرئنا القرآن و يأكل معنا اللحم و كان لا يحجبه أو لا يحجزه عن قراءة القرآن شيء ليست الجنابة“ ترجمہ: بے وضو شخص کے لیے ظاہراً یعنی بغیر دیکھے حافظہ سے قرآن کریم پڑھنا بالاجماع مکروہ نہیں اور اصحابِ سنن نے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جائے حاجت سے باہر تشریف لاتے تو ہمیں قرآن پڑھاتے اور ہمارے ساتھ گوشت تناول فرماتے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کوئی بھی چیز جو جنابت نہ ہو، قرآن کریم کی تلاوت سے نہ روکتی یا مانع نہ ہوتی۔ (غنية المتملی شرح منية المصلي، شرائط الصلاة، الشرط الأول الطهارة من الحدث، جلد 1، صفحہ 121، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) بے چھوئے آیات قرآنیہ پڑھنے کے حوالے سے فرماتے ہیں: پڑھنا بے وضو جائز ہے، نہانے کی حاجت ہو تو حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 366، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: بے وضو کو قرآن مجید یا اس کی کسی آیت کا چھونا حرام ہے۔ بے چھوئے زبانی یا دیکھ کر پڑھے تو کوئی حرج نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 326، مکتبة المدینہ، کراچی)

علامہ محمد بن محمد ابن امیر حاج حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 879ھ / 1474ء) لکھتے ہیں: و لا يجوز للجنب والحائض و النفساء قراءة القرآن لقوله صلي اللہ علیه و سلم: لا تقرأ الحائض و لا الجنب شيئاً من القرآن، و رواه الترمذي و ابن ماجه و حسنه المنذري و صححه النووي“ ترجمہ: جنبی شخص، حائضہ اور نفاس والی عورت کے لیے قرآن کی تلاوت جائز نہیں؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے: حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ اسے امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا، اور علامہ منذری نے اسے حسن اور امام نووی نے صحیح قرار دیا ہے۔ (حلبة المجلی في شرح منية المصلي، سنن الغسل، جلد 1، صفحہ 177، دار الكتب العلمية، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: حیض و نفاس والی عورت کو قرآن مجید پڑھنا دیکھ کر یا زبانی، اور اس کا چھونا، اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے، یہ سب حرام ہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 379، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FAM-1279
تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر 1448ھ / 28 جولائی 2026ء