حالت جنابت میں کھانے پینے کا سامان خریدنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حالت جنابت میں کھانے پینے کا سامان لانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر مرد حالت جنابت میں چکی سے آٹا لے کر آئے، تو کیا وہ آٹا ناپاک ہو گا؟
جواب
حالت جنابت میں اگر مرد چکی سے آٹالے کر آئے، تو وہ آٹا ناپاک نہیں ہوگا، کیونکہ ایسی حالت میں حقیقی طور پر بدن ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ حکمی طور پر ناپاک ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جنبی کا پسینہ بھی پاک ہے، اور اس حالت میں دوسروں سے مصافحہ بھی کر سکتا ہے، اور اپنے روزمرہ کے ضروری کام کاج بھی کر سکتا ہے۔
تنبیہ: غسل فرض ہو جائے، تو بلاوجہ غسل میں تاخیر نہیں کرنی چاہئےکہ حدیث میں ہے جس گھر میں جنب (بے غسل فرد) ہو، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے، لہذا بہتر یہی ہے کہ جلد از جلد غسل کر لیا جائے یا کم ازکم وضو کر لیا جائے، کیونکہ جنبی اگر وضو کر لے، تو اب رحمت کے فرشتوں کے آنے کی رکاوٹ ختم ہوجاتی ہے۔
بالترتیب جزئیات ملاحظہ ہوں۔
صحیح بخاری میں ہے ”عن أبي هريرة قال: لقيني رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم و أنا جنب فأخذ بيدي فمشيت معه حتى قعد فانسللت فأتيت الرحل فاغتسلت ثم جئت و هو قاعد فقال: "أين كنت يا أبا هر" فقلت له فقال: سبحان اللہ يا أبا هر إن المؤمن لا ينجس“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ، صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم، مجھ سے اس حال میں ملے کہ میں جنابت کی حالت میں تھا، آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، تو میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم بیٹھ گئے، تو میں چپکے سے نکلا، اور منزل پر آیا، غسل کیا، پھر حاضر ہو گیا، جبکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم وہیں تشریف فرما تھے، پس نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! کہاں تھے؟ میں نے (سارا واقعہ) عرض کیا تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ، اے ابو ہریرہ! بے شک مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ (صحيح البخاري، صفحہ 68، حدیث 285، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”الإنسان إذا أصابته الجنابة لم ينجس وإن صافحه جنب أو مشرك لم ينجس“ ترجمہ: انسان پر جب جنابت طاری ہو، تو وہ ناپاک نہیں ہوتا، اور اگر جنبی یا مشرک اس سے ہاتھ ملائیں، تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ (شرح سنن أبي داود للعینی، جلد 1، صفحہ 205، مطبوعہ: رياض)
درج بالا حدیث مبارک کے تحت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: "أي: لا يصير عينه نجسا... و فيه دليل على جواز تأخير الاغتسال للجنب و أن يسعى في حوائجه" ترجمہ: یعنی اس کی ذات نجس نہیں ہوتی، اور اس حدیث میں جنبی کے لیے غسل میں تاخیر کرنے اور اپنی ضروریات کے کام کرنے کے جواز پر دلیل ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 2، صفحہ 141، مطبوعہ: کوئٹہ)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: "یعنی جنابت نجاست حقیقیہ نہیں تاکہ جنبی سے مصافحہ وغیرہ منع ہو ۔۔۔۔ اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جنبی کا پسینہ یا جھوٹا نجس نہیں۔ ۔۔۔تیسرے یہ کہ جنابت کی حالت میں ضروری کام کاج کرنا جائز ہے۔ چوتھے یہ کہ جنبی سے مصافحہ معانقہ بلکہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز (ہے) ۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 307، 308، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
الجوھرۃ النیرۃ میں ہے ”وعرق الجنب والحائض والنفساء طاهر“ ترجمہ: جنبی، حائضہ اور نفاس والی عورت کا پسینہ پاک ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 64، مطبوعہ: لاہور)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”إن الملائكة لا تحضر جنازة كافر بخير، ولا جنبا حتى يغتسل أو يتوضأ وضوءه للصلاة“ ترجمہ: بےشک فرشتے کافر مردے کے پاس بھلائی کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور جنبی شخص کے پاس بھی نہیں آتے جب تک وہ غسل نہ کر لے یا نماز جیسا وضو نہ کر لے۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 1، صفحہ 281، رقم الحدیث 1087، مطبوعہ: بیروت)
علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالی ٰ علیہ لکھتے ہیں: ” (فيتوضأ) فإنه إذا فعل ذلك لم تنفر الملائكة عنه ولم تمتنع عن دخول بيت هو فيه“ ترجمہ: (جنبی شخص جب غسل سے پہلے کھانا یا سونا چاہے) تو وہ وضو کر لے کہ جب وہ یہ (یعنی وضو) کر لیتا ہے تو فرشتے اس سے دور نہیں جاتے اور جس گھر میں وہ ہو، وہاں داخل ہونے سے بھی نہیں رکتے۔ (فیض القدیر، جلد 3، صفحہ 325، مطبوعہ: مصر)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5253
تاریخ اجراء: 28 محرم الحرام1448ھ/14 جولائی 2026ء