logo logo
AI Search

Foot Splint لگا ہو تو وضو میں اس پر مسح کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پاؤں پر Foot Splint لگا ہو تو وضو میں اس پر مسح کر نے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے پاؤں پر ایک اسپلنٹ Foot Splint)) لگا ہوا ہے۔ وضو کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ یہ اسپلنٹ اتارا جا سکتا ہے، لیکن اگرچہ اسے اتارنا آسان ہے، دوبارہ پہننا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اسے پہننے کے لیے ٹخنے (Ankle) کو سیدھا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں کیا میں وضو کرتے وقت اسپلنٹ پر مسح کر سکتا ہوں؟

جواب

فٹ اسپلنٹ  Foot Splint)) عموماً اس انداز سے باندھا جاتا ہے کہ اسے کھولنا اور دوبارہ پاؤں میں پہن کر کسنا مشکل نہیں ہوتا، لہٰذا اگر کسی مرض کی وجہ سے اس کو باندھ رکھا ہے، اور اس کو اتارنے سے ضرر نہیں ہوگا، اور دوبارہ اس کو بغیر ضرر اور بغیر شدید تکلیف کے خود باندھ سکتے ہیں، تو اس صورت میں وضو کے دوران اسے اتار کر پاؤں دھونا لازمی ہے، محض مسح کر لینا کافی نہیں ہوگا۔ تاہم! اگر ہڈی ٹوٹنے یا کسی شدید تکلیف وغیرہ عذرکے باعث اسے یوں باندھا گیا ہو کہ کھول کر باندھنے سے شدید اور نا قابل برداشت درد ہو، یا مرض کے بڑھ جانے یا دیر سے ٹھیک ہونے کا صحیح اندیشہ ہو، یا بعد میں بغیر شدید تکلیف یا بغیر ضرر کے باندھ نہیں سکے گا، تو وضو کے دوران اسے اتارنا ضروری نہیں، بلکہ اس مجبوری کی حالت میں جسم کے جتنے حصے پر پانی بہایا جا سکتا ہو وہاں پانی بہائیں اور بقیہ حصے میں اگر بندھے ہوئے اسپلنٹ پر پانی بہانا ممکن اور بے ضرر ہو، تو پانی بہانا ضروری ہے؛ البتہ اگر پانی بہانا ممکن نہ ہو یا اس سے شدید تکلیف یا مرض کے بڑھنے کا صحیح اندیشہ ہو، تو اس پر محض مسح کر لینا ہی کافی ہوگا۔

تحفۃ الفقہاء میں ہے ”إن كان الغسل مما يضر بالعضو المنكسر والجرح والقرح فإنه يسقط ويشرع المسح على الجبائر وكذا إذا كان لا يضره ولكن في نزع الجبائر خوف زيادة العلة أو زيادة الضرر“ ترجمہ: اگر ٹوٹے ہوئے عضو، زخم یا پھوڑے کو پانی سے دھونا اس کے لیے نقصان دہ ہو تو اس عضو کو دھونا ساقط ہو جاتا ہے، اور اس کی جگہ پٹی پر مسح کرنا مشروع ہوتا ہے، اسی طرح اگر پانی سے دھونا بذاتِ خود مضر نہ ہو، لیکن پٹی کھولنے سے مرض بڑھ جانے یا کسی اور نقصان کے لاحق ہونے کا اندیشہ ہو، (تو اس صورت میں بھی دھونا ساقط ہو جاتا ہے اور پٹی پر مسح کرنا جائز و کافی ہوتا ہے) ۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 01، صفحہ 89، 90، دار الكتب العلمية، بيروت)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا: ”زید کی ران میں پھوڑا یا اور کوئی بیماری ہے ڈاکٹر کہتا ہے پانی یہاں نقصان کرے گا مگر صرف اسی جگہ مضر ہے اور بدن پر ڈال سکتا ہے اس حالت میں وضو یا غسل کے لیے تیمم درست ہے یا نہیں؟ اگر درست ہے تو تیمم غسل کا ویسا ہی ہے جیسا وضو کا؟ یا کیا حکم ہے؟

آپ رَحْمَۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”صورتِ مسئولہ میں غسل یا وضو کسی کیلئے تیمم جائز نہیں وضو کیلئے نہ جائز ہونا تو ظاہر کہ ران کو وضو سے کوئی علاقہ نہیں اور غسل کیلئے یوں نا روا کہ اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہے لہٰذا وضو تو بلاشبہ تمام و کمال کرے اور غسل کی حاجت ہو تو اگر مضرت صرف ٹھنڈا پانی کرتا ہے گرم نہ کرے گا اور اسے گرم پانی پر قدرت ہے تو بیشک پورا غسل کرے اتنی جگہ کو گرم پانی سے دھوئے باقی بدن گرم یاسرد جیسے سے چاہے، اور اگر ہر طرح کا پانی مضر ہے یا گرم مضر تو نہ ہوگا مگر اسے اس پر قدرت نہیں توضرر کی جگہ بچا کر باقی بدن دھوئے اور اس موضع پر مسح کر لے اور اگر وہاں بھی مسح نقصان دے مگر دوا یا پٹی کے حائل سے پانی کی ایک دھار بہا دینی مضر نہ ہوگی تو وہاں اُس حائل ہی پر بہادے باقی بدن بدستور دھوئے اور اگر حائل پر بھی پانی بہانا مضر ہو تو دوا یا پٹی پر مسح ہی کرلے اگر اس سے بھی مضرت ہو تو اُتنی جگہ خالی چھوڑ دے۔ جب وہ ضرر دفع ہو تو جتنی بات پر قدرت ملتی جائے بجا لاتا جائے ۔۔۔ یہی سب حکم وضو میں ہیں۔ اگر اعضائے وضو میں کسی جگہ کوئی مرض ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 01 (ب) ، صفحہ 617 - 618، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مسائلِ طہارت کا انسائیکلوپیڈیا “ کتاب میں ہے ”کسی زخم پر پٹی یا پلاسٹر وغیرہ بندھا ہو کہ اس کے کھولنے میں ضرر یا حرج ہو، اگرچہ یوں ہی کہ کھول کر پھر ویسا نہ باندھ سکے گا اور کھولنے میں ضرر کا اندیشہ ہے، تو اب اگر اس پٹی پر پانی بہانا ممکن ہو تو پٹی پر پانی بہائے، ورنہ پٹی پر مسح کر لے اور اگر پٹی پر مسح بھی ضرر کرے تو مسح بھی معاف ہے اور جب جتنی صحت حاصل ہوتی جائے، اس کے مطابق عمل کرتا جائے۔ “ (مسائل طہارت کا انسائیکلوپیڈیا، صفحہ 37، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5264

تاریخ اجراء: 21 صفر المظفر 1448ھ/05 اگست 2026ء