کیا ٹیک لگا کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا ٹیک لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اوّلاً یاد رہے کہ محض ٹیک لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، بلکہ ٹیک لگا کر اونگھنے سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ ایسا ہوشیار رہے کہ پاس کے لوگ جو باتیں کرتے ہوں، ان میں سے اکثر باتوں پر یہ مطلع ہو۔ ہاں ٹیک لگا کر سونے سے بعض صورتوں میں وضوٹوٹ جاتا ہے، اور بعض میں نہیں ٹوٹتا، اس کے متعلق درج ذیل تفصیل ہے کہ:
اگر سونے والے کی سرین زمین وغیرہ پر خوب جمی ہوئی نہ ہو، اور ایسی ہیئت پر سویا، جو غافل ہوکر نیند آنے سے مانع نہ ہو، تو ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر ایسی صورت نہ ہو یعنی سونے کے دوران سرین جمے ہوئے ہوں، یا ایسی حالت پر سویا، جو غافل ہو کر نیند آنے سے مانع ہو، تو ان صورتوں میں وضو نہیں ٹوٹے گا۔
اونگھ سے وضو نہ ٹوٹنے کے متعلق جزئیات:
اونگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا، جیساکہ رد المحتار میں ہے ”فی الخانیۃ:النعاس لا ینقض الوضوء، وھو قلیل نوم لا یشتبہ علیہ اکثر ما یقال عندہ“ ترجمہ: خانیہ میں ہے: اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اونگھ سے مراد تھوڑی نیند ہے، ایسے شخص پر اکثر باتیں مشتبہ نہیں ہوتیں جو اس کے پاس کی جاتی ہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 298، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاویٰ رضویہ میں ہے اونگھ ناقضِ وضو نہیں جبکہ ایسا ہوشیار رہے کہ پاس کے لوگ جو باتیں کرتے ہوں اکثر پر مطلع ہو، اگرچہ بعض سے غفلت بھی ہوجاتی ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ الف، صفحہ 491، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سونے سے وضوٹوٹنے کے متعلق غنیۃ المستملی میں ہے ” فالحاصل ان القاعدة الكلية المعتمد عليها في النقض بالنوم وجود كمال الاسترخاء مع عدم تمكن المقعدة“ ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ نیند کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کے مسئلے میں جس کلی قاعدے پر اعتماد کیا گیا ہے، وہ مکمل جسمانی ڈھیلا پن پایا جانا اور سرین کا اپنی جگہ پر مضبوطی سے جما ہوا نہ ہونا ہے۔ (غنیۃ المستملی، ص 121، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے نیند دو شرطوں سے ناقضِ وضو ہوتی ہے: اول یہ کہ دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہوکر نیند آنے کو مانع نہ ہو۔ جب یہ دونوں شرطیں جمع ہوں گی تو سونے سے وضو جائیگا اور ایک بھی کم ہے تو نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 1، حصہ 1، ص 488، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5216
تاریخ اجراء: 12 صفر المظفر 1448ھ / 27 جولائی 2026ء