logo logo
AI Search

وضو میں نیت کرنا ضروری ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وضو میں نیت کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو کے لیے نیت کرنے کا کیا حکم ہے؟ نیز وضو میں نیت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

وضو کے لئے نیت شرط نہیں، بلکہ سنّت مؤکدہ ہے، اس لیے نیّت نہ بھی ہو تب بھی وضو ہو جا ئے گا مگر ثواب نہیں ملے گا۔ اور وضو میں نیت ترک کرنے کی عادت بنالینا گناہ ہے۔ لہذا وضو سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائی جائے کہ جتنی نیتیں زیادہ ہوں گی اتنا ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ نیّت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، دل میں نیّت ہوتے ہوئے زَبان سے بھی کہہ لینا افضل ہے۔ لہٰذا زبان سے وضو کی اِس طرح نیّت کریں کہ میں حُکمِ الٰہی عزوجل بجا لانے اور پاکی حاصل کرنے کیلئے وُضو کر رہا ہوں۔ یہی اس کا طریقہ ہے۔

بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:”إنما الأعمال بالنيات“ ترجمہ: اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ (صحيح البخاری، باب كيف بدء الوحي إلى رسول الله، جلد 01، صفحہ 06، مطبوعہ دار طوق النجار)

وضو کےلئے نیت شرط نہیں۔ چنانچہ بنایہ شرح ہدایہ میں ہے ”النية و هي شرط في التيمم دون الوضوء“ ترجمہ: تیمم میں نیت شرط ہے، وضو میں نیت شرط نہیں۔ (بنایہ شرح ہدایہ، جلد 01، صفحہ 141، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وُضو کیلئے نیّت کرنا سنّت ہے، چنانچہ بدائع الصنائع میں وضو کی سنتیں بیان کرتے ہوئے امام علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”فمنها النية عندنا“ ترجمہ: وضو میں نیت کرنا ہمارےاحناف کے نزدیک سنت ہے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 01، صفحہ 191، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت(

نیت کے سنت مؤکدہ کی تصریح کرتے ہوئے علامہ ابو بکر بن علی زبیدی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”و الصحيح أنها سنة مؤكدة“ ترجمہ: صحیح قول کے مطابق نیت کر ناسنت مؤکدہ ہے۔ (الجوهرة النيرة على مختصر القدوري، جلد 01، صفحہ 06، مطبوعہ المطبعۃ الخيریۃ)

اسی طرح امام اہل سنت امام احمد رضا خان حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”وضو میں نیت نہ کرنے کی عادت سے گناہگار ہو گا، اس میں نیت سنت مؤکدہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 01، حصہ ب، صفحہ 914، مطبوعہ رضا فاؤ نڈ یشن، لاہور)

فتاوی قاضی خان ہے: ”أما أصلها أن يقصد بقلبه فإن قصد بقلبه و ذكر بلسانه كان أفضل‘‘ نیت کی اصل یہ ہے کہ دل سے ارادہ کیا جائے، اگر کسی نے اپنے دل میں ارادہ کیا اور زبان سے تلفظ بھی کیا، تو یہ افضل ہے۔ (فتاوی قاضی خان، جلد 01، صفحہ 78، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ”وضو پر ثواب پانے کے لیے حکمِ الہی بجالانے کی نیت سے وضو کرنا ضروری ہے ورنہ وضو ہوجائے گا مگر ثواب نہ پائے گا۔“ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 02، صفحہ 292، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

سنت مؤکدہ کے ترک کاحکم بیان کرتےہوئے، سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”سنتِ مؤکدہ کا ایک آدھ بارترک گناہ نہیں، ہاں بُراہے اور عادت کے بعد گناہ و نارَوا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 911، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

ایک دوسرے مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ”سنتِ مؤکدہ کے ایک آدھ بار ترک سے اگرچہ گناہ نہ ہو، عتاب ہی کا استحقاق ہو، مگر بارہا ترک سے بلاشبہ گنہگار ہوتا ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 01،، حصہ دوم، ص 596، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

بہارِ شریعت میں ہے: ”ترکِ سنّتِ مؤکدہ کی عادت ڈالی تو گنہگار ہے۔“ (بھارِ شریعت، ج 01، ص 296، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-008
تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ / 20 اگست 2026ء