logo logo
AI Search

رونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا رونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

رونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ خواہ کسی دنیاوی پریشانی یا غم کی وجہ سے آنسو نکلیں، یا تلاوتِ قرآن کرتے، قرآن سنتے اور دعا مانگتے ہوئے آنکھوں سے آنسو جاری ہوں، حتیٰ کہ خوفِ خدا کی وجہ سے نماز کی حالت میں بھی آنسو نکل آئیں تو وضو نہیں ٹوٹتا ۔ بلکہ نماز اور دعا میں خوفِ خدا سے رونا تو احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔ لہٰذا محض رونے یا آنکھوں سے آنسو نکلنے کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا؛ کیونکہ آنسو پاک رطوبت ہے اور جسم سے نکلنے والی پاک رطوبتیں، جیسے پسینہ اور تھوک وغیرہ ، وضو کو نہیں توڑتیں۔

سنن الکبری للنسائی میں ہے: ”عن مطرف، عن أبيه، قال: «أتيت النبي صلى اللہ عليه وسلم و هو يصلي، و لجوفه أزيز كأزيز المرجل» يعني يبكي“ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا مطرف رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد (سیدناعبد اللہ بن شخیررضی اللہ عنہ) سے راوی، وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے پیٹ میں ہانڈی کی سی کھولن تھی یعنی رو رہے تھے۔ (السنن الكبرى للنسائی، جلد 10، صفحہ 387، مطبوعہ مؤسسة الرسالة، بيروت(

حضرت علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمۃ ”مرقاۃ“ میں ”شرح منیہ“ کے حوالے سے فرماتے ہیں: ”و في شرح المنية: إذا بكى فيها و حصل منه صوت مسموع فإن كان من ذكر الجنة أو النار أو نحوهما لم يقطعهما; لأنه بمنزلة الدعاء بالرحمة و العفو“ ترجمہ: جب کوئی نماز میں روئے اور وہ آواز ایسی ہو کہ جس کو سنا جا سکتا ہو اگر یہ آواز جنت و دوزخ کاذکر سن کر نکلی تو نماز کو باطل نہیں کرے گی کیونکہ ایسی صورت میں یہ آواز بمنزلہ دعا، طلبِ رحمت اور معافی مانگنے کے ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 02، صفحہ 291، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

دعا کرتے ہوئے رونے کے متعلق فضائلِ دعا میں ہے: ”(دعا کے دَوران) آنسو ٹپکنے میں کوشش کرے اگر چِہ ایک ہی قَطرہ ہو کہ دلیلِ اِجابَت (یعنی قَبُولیت کی دلیل) ہے۔ رونا نہ آئے تو رونے کا سامنہ بنائے کہ نیکوں کی صُورت بھی نیک(یعنی اچّھی)ہے۔ (فضائل دعا، صفحہ 81، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

رونے اور صرف آنسو نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، چنانچہ تحفۃ الفقہاء میں ہے: ”و أما إذا كان الخروج من غير السبيلين فإن كان الخارج طاهرا مثل الدمع و الريق و المخاط و العرق و اللبن و نحوها لا ينقض الوضوء بالإجماع و إن كان نجسا ينقض الوضوء“ ترجمہ: اور اگر نجاست کا نکلنا دونوں راستوں (پیشاب اور پاخانے کی جگہ) کے علاوہ کسی اور جگہ سے ہو، تو اگر خارج ہونے والی چیز پاک ہو، جیسے آنسو، تھوک، ناک کی رطوبت، پسینہ، دودھ وغیرہ، تو بالاجماع اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اور اگر خارج ہونے والی چیز ناپاک ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (تحفۃ الفقہاء، جلد 01، صفحہ 18، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

نوٹ: البتہ یہ یاد رہے کہ اگر آنکھوں سے نکلنے والا پانی کسی بیماری (مثلاً آنکھ دکھنا یا آشوبِ چشم،یا دکھتی آنکھ) سے بہے اور ایسی جگہ پہنچ جائے جسے وضو یا غسل میں دھویا جاتا ہے (یعنی آنکھ سے باہر آجائے) تو وہ پانی شرعاً نجس (ناپاک) ہے اور اس کی وجہ سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

فتاوی رضویہ میں امام اہل سنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”جو سائل چیزبدن سے بوجہِ علت خارج ہوناقضِ وضوہے مثلاً آنکھیں دُکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہویا آنکھ، کان، ناف وغیرہا میں دانہ یا ناسور یا کوئی مرض ہو ان وجوہ سے جو آنسو، پانی بہے،وضو کا ناقض ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 349، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

دکھتی آنکھ سے نکلنے والے پانی سے متعلق مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہارشریعت میں فرماتےہیں: ”خون یا پیپ یا زردپانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو جاتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ اگر بہا مگر ایسی جگہ بہ کر نہیں آیا جس کا دھونافرض ہو تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ مثلاً آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر آنکھ کے اندر ہی پھیل گیا باہر نہیں نکلا ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھ، کان، ناف، پِستان وغیرہا میں دانہ یا ناصُور یاکوئی بیماری ہو، ان وُجوہ سے جو آنسو یا پانی بہے وُضو توڑ دے گا۔ (بھار شریعت، ج 01، ص 305 - 304،  مکتبۃ المدینہ، کراچی، ملتقطاً)

دکھتی آنکھ سے نکلنے والا پانی نجاست غلیظہ ہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: ”دکھتی آنکھ سے جو پانی نکلے نجاست غلیظہ ہے۔ (بھار شریعت، ج 01، ص 390، مکتبۃ المدینہ، کراچی(

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5351
تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1448ھ / 15 اگست 2026ء