فلٹر والے پانی سے وضو و غسل کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
فلٹر والے پانی سے وضو و غسل کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
فلٹر شدہ پانی سے وضو و غسل کرنا بالکل جائز اور درست ہے؛ کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں وضو اور غسل کے لیے ”ماءِ مطلق“ (وہ پانی جو اپنی اصلی فطرت پر باقی ہو) کا ہونا ضروری ہوتا ہے، اور چونکہ فلٹر کرنے کے عمل میں پانی سے مٹی، ریت، کثافتیں اور جراثیم دور کیے جاتے ہیں، اس عمل سے پانی اپنی حقیقت، رقت (پتلا پن) اور سیلان (بہنے کی صلاحیت) پر ہی باقی رہتا ہے اور اسے ”پانی“ ہی کہا جاتا ہے، لہٰذا اس سے وضو و غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
خزانۃ الفقہ للسمرقندی (۳۷۳ھ) میں ہے: ”اعلم بان جواز الوضوء اختص بماء مطلق و هو ما قال اللہ تعالى تبارك في كتابه و انزلنا من السماء ماء طهورا۔ ۔ ۔ اما الماء المطلق فهو ماء البحار و ماء الانهار و الاودية و الابار و العيون و ما هو على صفة المنزل من السماء“ ترجمہ: جان لو کہ وضو کا جواز مطلق پانی کے ساتھ خاص ہے، اور مطلق پانی وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا۔ اور مطلق پانی سے مراد سمندروں کا پانی، دریاؤں کا پانی، وادیوں کا پانی، کنوؤں کا پانی، چشموں کا پانی اور وہ پانی ہے جو اپنی صفت میں اس پانی کے مشابہ ہو جو آسمان سے نازل ہوا ہے۔ (خزانۃالفقہ، كتاب الطهارات و الوضوء، صفحہ 29، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)
مائے مطلق کی تعریف کے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: ”مائے مطلق کی تعریف یہ ہے کہ وہ پانی کہ اپنی رقتِ طبعی پر باقی ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی شے مخلوط وممتزج نہیں، جو اُس سے مقدار میں زائد یا مساوی ہے نہ ایسی جو اُس کے ساتھ مل کر مجموع ایک دوسری شے کسی جُدامقصد کے لیے کہلائے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 2، صفحہ 679، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ہدایہ شریف میں ہے: ”تجوز الطهارة بماء خالطه شيء طاهر فغير أحد أوصافه كماء المد والماء الذی اختلط به اللبن أو الزعفران أو الصابون أو الاشنان“ ترجمہ: اُس پانی سے طہارت حاصل کرنا، جائز ہے جس میں کوئی پاک چیز مل کر اُس کے اوصاف (رنگ، بُو یا ذائقہ) میں سے کسی کو تبدیل کر دے، جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی جس میں دودھ، زعفران، صابون یا اَشنان ملی ہو۔ (الھدایہ، كتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 21، مطبوعہ دار احياء التراث العربي، بيروت)
مذکورہ عبارت کے الفاظ ”فغير أحد أوصافه“ کے تحت علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: ”فی المجتبى لا يقبل التغير به حتى لو غير الأوصاف الثلاثة بالأشنان أو الصابون أو الزعفران أو الأوراق أو اللبن و لم يسلب اسم الماء عنه و لا معناه فإنه يجوز التوضؤ به“ ترجمہ: "المجتبی" میں ہے کہ اس سے (محض) اوصاف کے تبدیل ہو جانے کو قبول نہیں کیا جائے گا، یہاں تک کہ اگر اَشنان، صابون، زعفران، پتے یا دودھ کے ذریعے تینوں اوصاف تبدیل ہو جائیں، اور پانی کا نام و مفہوم باقی رہے، تو اس سے وضو جائز ہے۔ (البناية شرح الهداية، جلد 1، صفحہ 361، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”صابون، اَشنان کہ ایک گھاس ہے اُسے حُرض بھی کہتے ہیں، ریحان جسے آس بھی کہتے ہیں، بابونہ، خطمی (اور) بیری کے پتّے کہ یہ چیزیں میل کاٹنے اور زیادتِ نظافت کو آب غسل میں شامل کی جاتی ہیں، اِس سے غسل و وضو جائز ہے، اگرچہ اوصاف میں تغیر آجائے جب تک رقّت باقی رہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 02، صفحہ 566، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ”جس پانی میں کوئی چیز مل گئی کہ بول چال میں اسے پانی نہ کہیں، بلکہ اس کا کوئی اَور نام ہو گیا، جیسے شربت، یا پانی میں کوئی ایسی چیز ڈال کر پکائیں جس سے مقصود میل کاٹنا نہ ہو، جیسے شوربا، چائے، گلاب اور عرق، اس سے وُضو و غُسل جائز نہیں۔ اگر ایسی چیز ملائیں یا ملا کر پکائیں جس سے مقصود میل کاٹنا ہو، جیسے صابون یا بیری کے پتے، تو وُضو جائز ہے، جب تک اس کی رقت زائل نہ کر دے اور اگر ستُّو کی مثل گاڑھا ہو گیا، تو وُضو جائز نہیں۔“ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 329، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5352
تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1448ھ / 15 اگست 2026ء