logo logo
AI Search

وضو کا مکمل و مسنون طریقہ

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وضو کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

وضو کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کعبۃ اللہ شریف کی طرف منہ کر کے اونچی جگہ بیٹھا جائے اور وضو کی نیت کی جائے۔ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، زبان سے بھی نیت کر لینا افضل ہے، لہذا زبان سے اس طرح نیت کی جائے کہ میں حکم الہی بجا لانے اور پاکی حاصل کرنے کیلئے وضو کر رہا ہوں۔ بسم اللہ کہہ کر دونوں ہاتھ تین تین بار پہنچوں تک دھوئے جائیں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کا خلال کیا جائے۔ اس کے بعد سیدھے ہاتھ کے تین چلو پانی سے، ہر بار نل بند کرکے، تین کلیاں کی جائیں کہ منہ کے ہر پرزے پر، حلق کے کنارے تک، پانی بہ جائے۔ اگر روزہ نہ ہو تو غرغرہ بھی کیا جائے۔ پھر سیدھے ہاتھ کے تین چلو سے، ہر بار نل بند کر کے، تین بار ناک میں نرم گوشت تک پانی چڑھایا جائے اور اگر روزہ نہ ہو تو ناک کی جڑ تک پانی پہنچایا جائے۔ پھر نل بند کرکے الٹے ہاتھ سے ناک صاف کی جائے اور چھوٹی انگلی ناک کے سوراخوں میں ڈالی جائے۔

اس کے بعد تین بار پورا چہرہ دھویا جائے، اس طرح کہ جہاں سے عادتا سر کے بال اگنا شروع ہوتے ہیں وہاں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک ہر جگہ پانی بہ جائے۔ اگر داڑھی ہو اور احرام باندھے ہوئے نہ ہوں تو انگلیوں سے داڑھی کا خلال کیا جائے۔ پھر پہلے سیدھا ہاتھ انگلیوں کے سرے سے دھونا شروع کرکے کہنیوں سمیت تین بار دھویا جائے۔ اسی طرح الٹا ہاتھ بھی کہنیوں سمیت تین بار دھویا جائے۔ ہاتھ دھوتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کہنی اور کلائی کی کروٹوں سمیت ہر جگہ پانی پہنچ جائے۔ پھر نل بند کرکے سر کا مسح کیا جائے۔ دونوں انگوٹھوں اور کلمے کی انگلیوں کو چھوڑ کر دونوں ہاتھوں کی تین تین انگلیوں کے سرے ایک دوسرے سے ملا کر پیشانی کے بال یا کھال پر رکھے جائیں، پھر انگلیاں کھینچتے ہوئے گدی تک لے جائیں، پھر گدی سے ہتھیلیاں کھینچتے ہوئے پیشانی تک لائی جائیں۔ اس کے بعد کلمے کی انگلیوں سے کانوں کی اندرونی سطح کا، انگوٹھوں سے کانوں کی بیرونی سطح کا مسح کیا جائے، چھوٹی انگلیاں کانوں کے سوراخوں میں داخل کی جائیں اور انگلیوں کی پشت سے گردن کے پچھلے حصے کا مسح کیا جائے۔

آخر میں پہلے سیدھا پھر الٹا پاؤں انگلیوں سے شروع کرکے ٹخنوں سمیت تین تین بار دھویا جائے۔ دونوں پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا جائے۔ خلال کے دوران نل بند رکھا جائے۔ سیدھے پاؤں کا خلال الٹے ہاتھ کی چھنگلیا سے سیدھے پاؤں کی چھنگلیا سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کیا جائے، اور الٹے پاؤں کا خلال اسی ہاتھ کی چھنگلیا سے انگوٹھے سے شروع کرکے چھنگلیا پر ختم کیا جائے۔ یوں وضو مکمل ہو جاتا ہے۔

نوٹ: وضو کے فرائض، سنتیں، آداب و مستحبات اور مکروہات وغیرہ سے متعلق تفصیل کے لیے بہارِ شریعت حصہ 2 یا امیر اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ کی کتاب ”نماز کے احکام“ کا مطالعہ کیجیے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5354
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء