logo logo
AI Search

فرض غسل دیر سے کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فرض غسل دیر سے کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ فرض غسل میں تاخیر کرنا کیسا ہے؟

جواب

جس پر غسل فرض ہو، اسے بلاوجہ غسل میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، لہذا اگر غسل کرنے سے کوئی رکاوٹ نہ ہو، تو بہتر یہ ہے کہ جلد سے جلد غسل کر لیا جائے یا پھر کم از کم وضو کر لیا جائے، کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے: جس گھر میں جنبی (یعنی بے غسل شخص) ہو، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اگر وضو کرلے تو رحمت کے فرشتوں کے آنے کی رکاوٹ ختم ہوجاتی ہے۔ البتہ اگر اتنی تاخیر کردی کہ نماز کا آخری وقت قریب آگیا تو اب فوراً غسل کرنا فرض ہے، اس کے بعد بھی تاخیر کی کہ نماز قضا ہوجائے گی، تو گنہگار ہوگا، البتہ اگر درمیان میں کوئی نماز وغیرہ قضا، یا مردوں پر جماعت لازم ہونے کی صورت میں جماعت فوت ہوجانے کا خوف نہ ہو تو قدرے کچھ تاخیر کی بھی اجازت ہے، تاہم اتنا لیٹ کرنا کہ نماز قضا ہوجائے تو یہ ناجائز و حرام ہوگا۔ اسی طرح تاخیر کی وجہ سے جماعت چھوڑنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

جنبی کے پاس رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اس سے متعلق مصنف عبد الرزاق میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”إن الملائكة لا تحضر جنازة كافر بخير، ولا جنبا حتى يغتسل أو يتوضأ وضوءه للصلاة“ ترجمہ: بےشک فرشتے کافر مردے کے پاس بھلائی کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور جنبی شخص کے پاس بھی نہیں آتے، جب تک وہ غسل نہ کر لے یا نماز جیسا وضو نہ کر لے۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 1، صفحہ 217، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

جنبی شخص جب وضو کر لے، تو رحمت کے فرشتوں کے آنے کی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے، اس کے متعلق علامہ عبد الرؤوف مناوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”(فيتوضأ) فإنه إذا فعل ذلك لم تنفر الملائكة عنه ولم تمتنع عن دخول بيت هو فيه“ ترجمہ: پس وہ وضو کرلے، کیونکہ جب وہ وضو کرلے گا تو فرشتے اس سے متنفر ہوکر دور نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس گھر میں داخل ہونے سے گریز کریں گے جس میں وہ موجود ہو۔ (فیض القدیر، جلد 3، صفحہ 325، مطبوعہ مصر)

فرض غسل میں تاخیر کرنے کے متعلق صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”جس پر غسل واجب ہے اسے چاہیے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے۔ حدیث میں ہے: جس گھر میں جنب ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے اور اگر اتنی دیر کر چکا کہ نماز کا آخر وقت آگیا تو اب فوراً نہانا فرض ہے، اب تاخیر کرے گا گنہگار ہو گا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 325، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5375

تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ/20 اگست 2026ء