داڑھی کے خلال کا مسنون طریقہ
بسم اللہ الرحمن الرحيم
داڑھی کے خلال کا طریقہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
داڑھی کے خلال سے مراد یہ ہےکہ پانی سے تر انگلیاں داڑھی کے ان بالوں میں داخل کی جائیں جو چہرے کی حد سے خارج اور لٹکے ہوتے ہیں۔ پانی سے تر انگلیاں داڑھی کے بالوں میں داخل کر لینے سے داڑھی کا خلال ہو جائے گا، اور اتنے عمل سے ہی سنت ادا ہو جائے گی۔ چاہے اس کی کیفیت اور طریقہ کچھ بھی اختیار کیا جائے۔ البتہ علمائےکرام نےا س کا بہتر طریقہ یہ بتایا ہے کہ داڑھی کے نیچے کی جانب سے سیدھے ہاتھ کی انگلیاں داڑھی کے بالوں میں کنگھی کی طرح داخل کر کے اوپر باہر کی جانب لائی جائیں اور یہ عمل کرتے ہوئے ہاتھ کی پشت گلے کی جانب ہو اور ہتھیلی باہر کی جانب ہو۔
بنایہ میں ہے: ”و تفسيره أن يدخل أصابع يديه في خلل اللحية و هي الفرج التي بين الشعر“ ترجمہ: اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو داڑھی کے بالوں کی کشادگی کے درمیان داخل کرنا خلال کہلاتا ہے۔ (البناية، جلد 1، صفحہ 220، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
حلبہ میں ہے: ”و صفۃ التخلیل ان یدخل اصابع یدہ الیمنی من اسفلھا فی خللھا ای بین شعرھا لیصل الماء الی باطنھا قلت و یشھد لہ ما فی سنن ابن ماجۃ بسند ھو حجۃ عن ابن عمر، قال کان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم إذا توضأ عرك عارضيه بعض العرك، ثم شبك لحيته بأصابع من تحتها“ ترجمہ:خلال کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کا داڑھی کے نیچے سے داڑھی کے بالوں کے درمیان داخل کرنا تاکہ اندرونی حصے تک پانی پہنچ جائے ۔ میں کہتا ہوں: اس پر سنن ابن ماجہ کی وہ روایت شاہد ہے جو قابل حجت سند کےساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب وضو فرماتے تو اپنے رخساروں کو ہلکا ملتے پھر اپنی انگلیوں کو اپنی داڑھی کے بالوں میں نیچے کی طرف سے داخل کرتے۔ (حلبہ،جلد 01، صفحہ 65، مطبوعہ نوریہ رضویہ، لاھور)
در مختار اور رد المحتار میں ہے، و ما بین الھلالین من الدر: ”(و يجعل ظهر كفه إلى عنقه) نقله العلامة نوح أفندي عن بعض الفضلاء بلفظ: و ينبغي أن يجعل إلخ. و كتب في الهامش إنه الفاضل البرجندي. و قال في المنح: و كيفيته على وجه السنة أن يدخل أصابع اليد في فروجها التي بين شعراتها من أسفل إلى فوق بحيث يكون كف اليد لخارج و ظهرها إلى المتوضئ“ ترجمہ: ( داڑھی کا خلال یوں کرے کہ) اپنے ہاتھ کی پشت اپنی گردن کی طرف رکھے۔ اسے علامہ نوح آفندی نےبعض فاضلین سے ”و ينبغي أن يجعل إلخ“ کے الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے اور حاشیہ میں لکھا کہ یہ فاضل برجندی کا فرمان ہے اور منح میں فرمایا: اور خلال کی سنت کیفیت یہ ہے کہ ہاتھوں کی انگلیوں کو داڑھی کے بالوں میں موجود کشادگی میں نیچے کی طرف سے داخل کرے اور اوپر کی طرف لائے یوں کہ ہاتھ کی ہتھیلی سامنے کی طرف ہو اور اس کی پشت وضو کرنے والے کی طرف۔ (رد المحتار،جلد 01، صفحہ 117، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ داڑھی کے خلال کا طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”یوں کہ اُنگلیوں کو گردن کی طرف سے داخِل کرے اور سامنے نکالے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 295، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ایک حدیث کی تشریح میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے طریقہ خلال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”داہنے ہاتھ کی انگلیاں شریف ٹھوڑی کے نیچے سے داڑھی کی جڑ میں کنگھی کی طرح ڈال کر داڑھی کے نیچے لے جاتے تھے۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 289، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5355
تاریخ اجراء: 05 ربیع الاول 1448ھ / 19 اگست 2026ء