logo logo
AI Search

وضو کے واجبات

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وضو کے واجبات کتنے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

وضو میں کوئی بھی واجب نہیں ہے۔ وضو میں کرنے والے افعال کے تین ہی درجے ہیں: (1) فرض، جیسے چہرہ دھونا وغیرہ (2) سنت، جیسے کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا وغیرہ (3) آداب و مستحبات، جیسے اونچی جگہ پر وضو کرنا اور وضو کے درمیان باتیں وغیرہ نہ کرنا، ان تین درجات کے علاوہ واجب یا کوئی اور درجہ نہیں ہے، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے بھی ہر جگہ یہی تین درجات بیان کیے ہیں۔

البتہ بعض دفعہ فقہائے کرام وضو کے متعلق کسی چیز کو واجب کہہ دیتے ہیں، تو وہاں واجب عملی مراد نہیں ہوتا، یعنی اس عمل کا درجہ فرض سے نیچے اور سنت سے اوپر والے واجب کا درجہ ہو، یہ مراد ہرگز نہیں ہوتا، بلکہ وہاں واجب اعتقادی مراد ہوتا ہے۔

در مختار میں ہے: ”و سننہ: أفاد أنه لا واجب للوضوء و لا للغسل و إلا لقدمه“ ترجمہ: اور وضو کی سنتیں (اس قول نے) یہ فائدہ دیا کہ وضو اور غسل کا کوئی مستقل واجب نہیں ہے، ورنہ وہ اسے (سنن کے بیان سے) پہلے ذکر کرتے۔

اس قول (أفاد إلخ) کے تحت رد المحتار میں ہے: ”حيث ذكر السنن عقب الأركان هنا وفي الغسل و لم يذكر لهما واجبا، و لو لم يكن كلامه مفيدا ذلك لقدم ذكر الواجب على السنن؛ لأنه أقوى، فمقتضى الصناعة تقديمه. و أراد بالواجب ما كان دون الفرض في العمل، وهو أضعف نوعي الواجب، لا ما يشمل النوع الآخر، وهو ما كان في قوة الفرض في العمل، لأن غسل المرفقين و الكعبين و مسح ربع الرأس من هذا النوع الثاني، و كذا غسل الفم و الأنف في الغسل؛ لأن ذلك ليس من الفرض القطعي الذي يكفر جاحده، تأمل. ثم رأيت التصريح بذلك في شرح الدرر للشيخ إسماعيل“ ترجمہ: یہاں وضو میں اور اسی طرح غسل میں بھی مصنف نے ارکان کے بعد سنن کا ذکر کیا ہے، لیکن دونوں کے لیے کسی واجب کا ذکر نہیں کیا۔ اگر مصنف کا کلام اس بات پر دلالت نہ کرتا ہوتا تو واجب کا ذکر سنن سے پہلے کرتے، کیونکہ واجب، سنت سے زیادہ قوی ہے؛ لہٰذا اصولِ ترتیب کے اعتبار سے اسے پہلے ذکر کرنا چاہیے تھا۔ اور مصنف نے واجب سے وہ واجب مراد لیا ہے جو عمل کے اعتبار سے فرض سے کم درجے کا ہو، یعنی واجب کی دو قسموں میں سے کمزور قسم۔ اس سے واجب کی دوسری قسم مراد نہیں، جو عمل کے اعتبار سے فرض (عملی) کے درجہ میں ہوتی ہے۔کیونکہ کہنیوں سمیت بازو دھونا، ٹخنوں سمیت پاؤں دھونا اور سر کے چوتھائی حصے کا مسح کرنا واجب کی اسی دوسری قسم میں سے ہے۔ اسی طرح غسل میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنا بھی اسی قسم سے ہے؛ کیونکہ یہ وہ قطعی فرض نہیں ہیں کہ ان کا انکار کرنے والا کافر قرار پائے۔ غور کرو۔ پھر میں نے شیخ اسماعیل کی شرح الدرر میں اس بات کی صراحت بھی دیکھی ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الطهارة، سنن الوضوء، جلد 01، صفحہ 219، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

در مختار کی عبارت ”و إلّا لقدمه“ کے تحت اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ جد الممتار میں فرماتے ہیں: ”فإن قلت: أليس قدّم قوله (فيجب غسل المياقي و ما بين العذار والأذن)، و معلومٌ: أنّ الوجوب فيه ليس بمعنى الافتراض؛ لحصول الاختلاف، ألا ترى إلى قول الشارح بعده: (و به يفتى)؟ قلت: الجواب ما أشار إليه الشامي: أنّ الوجوب هاهنا بمعنى أعلى قسميه، و هو الذي يفوت بفوته الجواز، و المنفي هو القسم الأدنى الذي لا يفوت الجواز بفوته“ ترجمہ: اگر تم یہ اعتراض کرو کہ: مصنف نے تو پہلے یہ فرمایا ہے کہ ’’آنکھوں کے گوشوں اور عذار (کان کے سامنے رخسار کے بالوں) اور کان کے درمیان والے حصے کو دھونا واجب ہے‘‘، حالانکہ معلوم ہے کہ یہاں وجوب سے فرض ہونا مراد نہیں؛ کیونکہ اس مسئلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ کیا تم شارح کے اس کے بعد کہے ہوئے قول ’’اور اسی پر فتویٰ ہے‘‘ کو نہیں دیکھتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ علامہ شامی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے، یہاں وجوب سے واجب کی دو قسموں میں سے اعلیٰ قسم مراد ہے، اور وہ قسم ایسی ہے کہ اس کے فوت ہونے سے جواز فوت ہوجاتا ہے۔ جبکہ یہاں جس ’’واجب‘‘ کی نفی کی گئی ہے، اس سے واجب کی ادنیٰ قسم مراد ہے، جس کے فوت ہونے سے جواز فوت نہیں ہوتا۔ (جد الممتار، جلد 01، صفحہ 333، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ(

فتاوی رضویہ میں ہے: ”فرض عملی ہر مذہب میں جدا ہوتے ہیں، ہمارے مذہب صحیح معتمد مفتی بہ پر وضو میں فر ض عملی بمعنی مذکور اعنی ارکان عملیہ کہ یہاں وہی واجب اعتقادی ہیں: بارہ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ رہا واجب عملی وہ وضو میں کوئی نہیں، بحرالرائق سے گزرا ”اتفق الاصحاب انہ لاواجب فی الوضوء“ ( ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ وضو میں کوئی واجب نہیں۔ ت) در مختار میں ہے: ”افاد انہ لا واجب للوضوء و لا للغسل“ (وضو وغسل میں ارکان کے بعد واجب چھوڑکر سنتوں کا ذکر لاکر یہ افادہ فرمایا کہ وضو وغسل میں کوئی واجب نہیں۔ ت) اسی طرح کتب کثیرہ میں ہے۔ ( فتاوی رضویہ ملتقطاً، جلد 01، حصہ الف، صفحہ 281، 293، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

اسی کے حاشیہ میں ہے: ”فائدہ 01، مسئلہ: ”وضو و غسل میں ایسا واجب کوئی نہیں جس کے نہ کرنے سے گناہگا ر ہو مگر طہارت ادا ہو جائے۔“ ( فتاوی رضویہ، جلد 01، حصہ الف، صفحہ 293، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5353
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء