logo logo
AI Search

کھانسی سے بلغم نکلنے پر وضو ٹوٹتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کھانسی کی وجہ سے بے اختیار بلغم نکلنے سے وضو کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

کھانسی کے سبب اگر بلغم منہ سے باہر آجائے، تو یہ ناپاک نہیں، نہ ہی اس کے لگنے سے کوئی چیز ناپاک ہوگی اور اس کی وجہ سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا، اگرچہ وہ بلغم زیادہ ہو، کیونکہ بلغم پاک ہے، وضو ان چیزوں کے نکلنے سے ٹوٹتا ہے، جو ناپاک ہوں۔

امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”کلیۂ مذکورہ ضرور ثابت ہے، ولہٰذا ایسی اشیاء میں علماء برابر ان کی طہارت سے حدث نہ ہونے پر استدلال فرماتے ہیں۔ حلیہ میں ہے: ان کان ای القیئ بلغما لاینقض لانہ طاھر ذکرہ فی البدائع و غیرہ اھ ملتقطا“ اگر بلغم کی قے ہو، تو ناقضِ وضو نہیں اس لئے کہ وہ پاک ہے، اسے بدائع وغیرہ میں ذکر کیا اھ ملتقطاً (ت)۔ (فتاوی رضویہ، جلد: 1، صفحہ: 353، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2576
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاولٰی 1447ھ / 03 نومبر 2025ء