logo logo
AI Search

کیا غسل کیلئے صابن اور شیمپو ضروری ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

فرض غسل کے لیے صابن شیمپو استعمال کرنا ضروری ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو جائے تو پاکی حاصل کرنے کے لیے صابن یا شیمپو کا استعمال ضروری نہیں۔ بلکہ جنابت سے پاکی حاصل کرنے کے لئے غسل کے تین فرض مکمل طور پر ادا کر لینا ضروری ہے اور غسل میں تین چیزیں فرض ہیں: (1) کلی کرنا۔ (2) ناک میں پانی ڈالنا۔ (3) پورے ظاہرِ بدن پر پانی بہانا۔ یعنی منہ کے اندر ہر حصے تک اور ناک کے نرم حصے تک پانی پہنچ جائے، اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم کے ہر ظاہر حصے اور بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے۔ اگر یہ تینوں فرائض ادا ہوگئے تو غسل درست ہوجائے گا، صابن یا شیمپو کا استعمال ضروری نہیں۔ البتہ صفائی اور نظافت کے لیے صابن یا شیمپو استعمال کرنا، جائز ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”(الفصل الأول في فرائضه) و هي ثلاثة: المضمضة و الاستنشاق و غسل جميع البدن على ما في المتون“ ترجمہ: (پہلی فصل: غسل کے فرائض کے بیان میں) غسل کے فرائض تین ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، اور پورے بدن کو دھونا، جیسا کہ متون میں بیان کیا گیا ہے۔(فتاوی عالمگیری، الباب الثانی فی الغسل،جلد 01، صفحہ 13، دار الفكر)

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے لنک سے "غسل کا طریقہ" نامی رسالہ ڈاؤن لوڈ کر کے اس کا مطالعہ کیجئے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5360
تاریخ اجراء: 04 ربیع الاول 1448ھ / 18 اگست 2026ء