وضو میں ہاتھ کی انگلیوں کا خلال کیسے کریں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
وضو میں ہاتھ کی انگلیوں کا خلال کرنے کا طریقہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
وضو کے دوران دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کا خلال سنت ہے، اور اس کا طریقہ تشبیک ہے، یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنا۔ جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ پہلے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر انگلیوں کو باہم اس طرح داخل کیا جائے کہ وہ کنگھی کے دندانوں کی طرح ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں، پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر اسی طرح انگلیوں کا خلال کیا جائے، تاکہ لہو و لعب کی صورت سے مشابہت نہ ہو۔ نیز خلال کے وقت انگلیوں کو نیچے سے اوپر کی جانب داخل کیا جائے۔ اور اگرچہ دونوں ہتھیلیوں کو آمنے سامنے رکھ کر انگلیوں کو باہم داخل کرنا بھی خلال کے لیے کافی ہے، لیکن اس میں لہو و لعب کی مشابہت پائی جاتی ہے، اس لیے مذکورہ طریقہ زیادہ بہتر ہے۔
سنن ترمذی میں ہے:”عن ابن عباس، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: «إذا توضأت فخلل بين أصابع يديك و رجليك“ ترجمہ: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے بیچ خلال کرو۔ (سنن ترمذی، جلد 01، صفحہ 57، مطبوعہ مصطفى البابی الحلبی، مصر)
شرح ابو داؤد للعینی میں ہے: ”و خلل بين الأصابع" التخليل: إدخال الشيء في خلال الشيء، استيفاء الفرض، و النقول عن مشايخنا في التخليل أنه من الأسفل إلى فوق، لما روي في "شرح مختصر الكرخي" عن أنس: "أنه- عليهالسلام كان إذا توضأ شبك أصابعه، كأنها أسنان المُشط“ ترجمہ: اور انگلیوں کے درمیان خلال کرے۔ تخلیل سے مراد کسی چیز کو دوسری چیز کے درمیان داخل کرنا ہے، تاکہ فرض کی ادائیگی مکمل طور پر ہو جائے۔ہمارے مشائخ سے خلال کے بارے میں منقول ہے کہ نیچے کی جانب سے اوپر کی طرف خلال کیا جائے؛ کیونکہ شرح مختصر الکرخی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم جب وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل فرماتے، گویا وہ کنگھی کے دندان ہوں۔ (شرح سنن أبی داود، جلد 01، صفحہ 337، 336، مطبوعہ مكتبة الرشد، الرياض)
علامہ علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ مرقاة شرح مشکاۃ میں لکھتے ہیں: ”و عندنا: يشبك، لكن لا على الطريق المنهي الذي يقابل الكف بالكف، بل بأن يضع بطن الكف اليمنى على اليسرى ويدخل الأصابع بعضها في بعض“ ترجمہ: ہمارے نزدیک وہ تشبیک کرے گا لیکن منع کردہ طریقے سے نہیں کہ دونوں ہتھیلیاں آمنے سامنے سےملائے بلکہ دائیں ہتھیلی کو بائیں ہاتھ ( کی پشت) کے اوپر رکھ کر انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرے۔ ( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 2، صفحہ 410، دار الفکر، بیروت)
غنیۃ المتملی میں ہے: ”و تخلیل الاصابع سنۃ ایضاً فی الیدین و الرجلین“ ترجمہ: ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا بھی سنت ہے۔ (غنیۃ المتملی، صفحہ 25، مطبوعہ در سعادت)
اختصار الروایہ فی شرح مختصر الوقایہ میں ہے: ”و كيفية تخليل الأصابع يكون بالتشبيك، والأولى أن يجعل باطن كفه اليمنى على ظهر اليسرى، و بطن كفه اليسرى على ظهر اليمنى“ ترجمہ: انگلیوں کا خلال کرنے کا طریقہ تشبیک ہے، اور بہتر یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کا اندرونی حصہ بائیں ہاتھ کی پشت پر، اور بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کا اندرونی حصہ دائیں ہاتھ کی پشت پر رکھا جائے۔ (مختصر الوقاية مع شرحه اختصار الرواية، كتاب الطهارة، ص24، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)
درمختار و رد المحتار میں ہے: ”و تخليل الأصابع اليدين بالتشبيك (نقله في البحر بصيغة قيل. و كيفيته كما قال الرحمتي: أن يجعل ظهر البطن لئلا يكون أشبه باللعب“ ترجمہ: اور ہاتھوں کی انگلیوں کا تشبیک کے ساتھ خلال کرے۔ اسے بحر میں قیل کے ساتھ نقل کیا گیا اور تشبیک کی کیفیت جیسا کہ علامہ رحمتی نے بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ کی پشت دوسرے ہاتھ کے پیٹ کے ساتھ مَلا کر ے تاکہ لہو و لعب کے مشابہ نہ ہو۔ ( در مختار و رد المحتار، جلد 1، صفحہ 117، دار الفکر، بیروت)
وضو کی سنتوں کے بیان میں بہارِ شریعت میں ہے ”ہاتھ پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال کرے۔ ۔ ۔ اگر بے خِلال کیے پانی اُنگلیوں کے اندر سے نہ بہتا ہو تو خلال فرض ہے یعنی پانی پہنچانا اگرچہ بے خِلال ہو مثلاً گھائیاں کھول کر اوپر سے پانی ڈال دیا یا پاؤں حوض میں ڈال دیا۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 295، مکتبۃ المدینہ، کراچی(
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-010
تاریخ اجراء: 07 ربیع الاول 1448ھ / 20 اگست 2026ء