کیا شرعی معذور کا وضو کسی دوسری وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
معذور شرعی کا کسی دوسرے سبب سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جی نہیں! ایسا نہیں ہے کہ شرعی معذور بننے کے بعد وضو توڑنے والے دیگر اسباب سے وضو نہیں ٹوٹتا، بلکہ جس عذر کی وجہ سے آدمی شرعی معذور بنا ہے، صرف وہی عذر اس کا وضو نہیں توڑتا۔ مثلاً: کسی شخص کو پیشاب کے قطرے آنے کی وجہ سے شرعی معذوری حاصل ہے، تو نماز کے وقت وضو کرنے کے بعد اگر پیشاب کے قطرے دوبارہ آتے رہیں، تو ان قطروں کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن اگر اسی دوران اس سے ہوا خارج ہوجائے یا وضو توڑنے والی کوئی دوسری چیز پیش آجائے، تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا اور اسے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔ لہٰذا شرعی معذور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر طرح کی وضو توڑنے والی چیز سے وضو محفوظ ہوجاتا ہے، بلکہ صرف وہی عذر معاف ہوتا ہے جس کی وجہ سے شرعی معذوری ثابت ہوئی ہو۔
نیز شرعی معذور کا وضو فرض نماز کا وقت ختم ہونے سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے اگر کسی شرعی معذور نے طلوعِ آفتاب کے بعد اور ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے وضو کیا ہو، تو صرف ظہر کا وقت شروع ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ ابھی کسی فرض نماز کا وقت ختم نہیں ہوا۔ البتہ جب ظہر کا وقت ختم ہوگا تو اس کا وضو بھی ختم ہوجائے گا اور اسے عصر کے لیے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔ اگر جس عذر کی وجہ سے وہ شرعی معذور ہے، وضو کرنے کے بعد سے لے کر ظہر کا وقت ختم ہونے تک وہ عذر ایک مرتبہ بھی ظاہر نہ ہو، تو صرف ظہر کا وقت ختم ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، بشرطیکہ وضو توڑنے والی کوئی دوسری چیز بھی پیش نہ آئے۔ کیونکہ ایسی صورت میں اس کی شرعی معذوری ختم ہوچکی ہوگی اور اس کا وضو عام شخص کی طرح باقی رہے گا۔
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”معذور کا وُضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے، ہاں اگر کوئی دوسری چیزوُضو توڑنے والی پائی گئی تو وُضو جاتا رہا۔ مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہے، ہوا نکلنے سے اس کا وُضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے، قطرے سے وُضو جاتا رہے گا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 386 - 387،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نیز فرماتے ہیں: ”ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وُضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وُضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وُضو نہیں جاتا، جیسے قطرے کا مرض، یا دست آنا، یا ہوا خارِج ہونا، یا دُکھتی آنکھ سے پانی گرنا، یا پھوڑے، یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا، یا کان، ناف، پِستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وُضو توڑنے والی ہیں، ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکاتو عذر ثابت ہوگیا۔ (بہار شریعت جلد 1، حصہ 2، صفحہ 385، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
در مختار میں ہے: ”(فإذا خرج الوقت بطل) أي ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع و دام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه. و أفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع و لو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر“ ترجمہ: پس جب (نماز کا) وقت ختم ہوجائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، یعنی اس کا سابقہ حدث ظاہر ہوجائے گا۔ البتہ اگر اس نے عذر کے رک جانے کی حالت میں وضو کیا ہو اور وقت کے اختتام تک وہ عذر دوبارہ ظاہر نہ ہوا ہو تو صرف وقت کے ختم ہونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، جب تک کوئی دوسرا حدث پیش نہ آئے یا وہ عذر دوبارہ جاری نہ ہوجائے، جیسا کہ موزوں پر مسح کرنے والے کے مسئلے میں ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی معذور نے سورج طلوع ہونے کے بعد، خواہ عید کی نماز یا چاشت کی نماز کے لیے وضو کیا ہو، تو اس کا وضو ظہر کا وقت ختم ہونے ہی پر ٹوٹے گا۔ (نہ کہ ظہر کا وقت شروع ہونے پر۔) (الدر المختار، جلد 01، صفحہ 46، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ”فرض نماز کا وقت جانے سے معذور کا وُضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے کسی نے عصر کے وقت وُضو کیا تھا تو آفتاب کے ڈوبتے ہی وُضو جاتا رہا اور اگر کسی نے آفتاب نکلنے کے بعد وضو کیا تو جب تک ظہر کا وقت ختم نہ ہو وضو نہ جائے گا کہ ابھی تک کسی فرض نماز کا وقت نہیں گیا۔ وُضو کرتے وقت وہ چیز نہیں پائی گئی جس کے سبب معذور ہے اور وُضو کے بعد بھی نہ پائی گئی یہاں تک کہ باقی پورا وقت نماز کا خالی گیا تو وقت کے جانے سے وُضو نہیں ٹوٹا۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 386، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5394
تاریخ اجراء: 08 ربیع الاول 1448ھ / 22 اگست 2026ء