logo logo
AI Search

وضو میں گٹوں تک ہاتھ دھونے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وضو میں گٹوں تک ہاتھ دوبارہ دھونے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو کے شروع میں گٹوں تک ہاتھ دھونے کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا جب پورا بازو کہنیوں تک دھویا جائے گا تو گٹوں تک ہاتھ دوبارہ پھر دھونے ہوں گے؟

جواب

وضو کے شروع میں دونوں ہاتھوں کو کلائیوں (گٹوں) تک تین مرتبہ دھونا سنت ہے،اس دھونے میں گٹے شامل ہیں۔ البتہ اس کی مختلف صورتوں کے الگ الگ احکام ہیں جو درج ذیل ہیں: (1) اگر بدن پر کوئی ایسی نجاست موجود ہو، جس تک ہاتھوں کے پہنچنے کا احتمال ہو تو ہاتھ دھونا سنتِ مؤکدہ ہے، چاہے انسان سو کر نہ اٹھا ہو۔ یونہی اگر سو کر اٹھا اور نجاست کا بھی احتمال ہو یعنی دونوں باتیں جمع ہوں تو بھی سنت مؤکدہ ہے۔ (2) اگر بدن پر کوئی نجاست نہیں یا نجاست ہے مگر وہاں تک ہاتھ نہ پہنچنے کا یقین ہے تو ہاتھ دھونا سنتِ غیر مؤکدہ ہے۔

(3) اگر ہاتھوں پر نجاست لگی ہونا، یقینی طور پر معلوم ہو، تو حسب مقدار دھونا واجب ہے۔

رہی بات بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے کے وقت دوبارہ ہاتھ گٹوں تک دھونے کی تو دوبارہ ہاتھوں کو دھونا بھی سنت ہے؛ کیونکہ وضو کے شروع میں ہاتھ دھونے سے فرض تو ساقط ہو جاتا ہے، لیکن مسنون غسل (گٹوں تک ہاتھ دھونے) کے ضمن میں ساقط ہوتا ہے، لہٰذا بازو دھوتے وقت ہاتھوں کو دوبارہ دھونا سنت ہوگا، تاکہ آدمی فرض کو باقاعدہ اس کی نیت کے ساتھ ادا کرنے والا بن جائے۔

وضو کی ابتدا میں ہاتھ دھونے کے متعلق علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ثم اعلم أن الابتداء بغسل اليدين واجب إذا كانت النجاسة محققة فيهما و سنة عند ابتداء الوضوء كما ذكرنا وسنة مؤكدة عند توهم النجاسة“ ترجمہ: یعنی: جان لیجئے کہ جب دونوں ہاتھوں میں نجاست لگی ہو تو دونوں ہاتھوں کو دھونے کے ساتھ وضو کی ابتدا کرنا واجب ہے اور ( عام حالات میں وضو کی ابتدا میں ہاتھ دھونا سنت (غیر مؤکدہ) ہے، جیسا کہ ہم نے ما قبل میں ذکر کر دیا۔ اور (اگر) ہاتھوں میں نجاست لگنے کا وھم ہو تو ہاتھوں کو دھو نا سنت مؤکدہ ہے۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، جلد 01، صفحہ 18، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”(و) البداءة (بغسل اليدين) . . . (إلى الرسغين) . . . (و هو) سنة كما أن الفاتحة واجبة (ينوب عن الفرض) و يسن غسلها أيضا مع الذراعين“ ترجمہ: اور وضو کی ابتدا ہا تھوں کو دھونے سے ہوتی ہے کلائیوں تک۔ اور یہ ہاتھ دھونا سنت ہے جیساکہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، جو فرض کی جگہ کفایت کرتی ہے۔ اور بازوؤں کو دھوتے وقت ہاتھوں کو دوبارہ بھی دھونا سنت ہے۔

اس قول ”و هو سنة“ کے تحت علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”(قوله: و هو سنة) أراد بها مطلقها الشامل للمؤكدة و غيرها: أي لأنه عند توهم النجاسة سنة مؤكدة، و عند عدمه غير مؤكدة كما قدمنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ و حاصله أن الفرض سقط لكن في ضمن الغسل المسنون لا قصدا، و الفرض إنما يثاب عليه إذا أتى به على قصد الفرضية؛ كمن عليه جنابة قد نسيها واغتسل للجمعة مثلا فإنه يرتفع حدثه ضمنا و لا يثاب ثواب الفرض و هو غسل الجنابة ما لم ينوه لأنه لا ثواب إلا بالنية، و حينئذ فيسن أن يعيد غسل اليدين عند غسل الذراعين ليكون آتيا بالفرض قصدا، و لا ينوب الغسل الأول منابه من هذه الجهة و إن ناب منابه من حيث إنه لو لم يعده سقط الفرض كما يسقط لو لم ينو أصلا“

ترجمہ: (مصنف کا قول) اور یہ سنت ہے اس سے ان کی مراد مطلق سنت ہے جو مؤکدہ اور غیر مؤکدہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی جب نجاست کا گمان ہو تو یہ سنت مؤکدہ ہے اور جب نجاست کا گمان نہ ہو توسنت غیر مؤکدہ ہے، جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ ۔ ۔ خلاصہ یہ ہے کہ فرض تو ساقط ہوجاتا ہے، لیکن مسنون غسل کے ضمن میں ساقط ہوتا ہے، قصداً فرض کی ادائیگی کے طور پر نہیں۔ اور فرض کا ثواب اسی وقت ملتا ہے جب آدمی اسے فرض سمجھ کر اس کی نیت سے ادا کرے۔ جیسے کسی شخص پر غسلِ جنابت فرض تھا، لیکن وہ اپنی جنابت بھول گیا اور صرف غسلِ جمعہ کی نیت سے غسل کرلیا۔ تو اس غسل کے ضمن میں اس کی جنابت بھی ختم ہوجائے گی، لیکن اسے غسلِ جنابت کا فرضی ثواب نہیں ملے گا، جب تک اس نے جنابت کے غسل کی نیت نہ کی ہو؛ کیونکہ نیت کے بغیر ثواب حاصل نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس بنا پر بازو دھوتے وقت ہاتھوں کو دوبارہ دھونا سنت ہوگا، تاکہ آدمی فرض کو باقاعدہ اس کی نیت کے ساتھ ادا کرنے والا بن جائے۔ اور پہلا دھونا اس جہت سے فرض کے قائم مقام نہیں ہوگا اگرچہ اس حیثیت سے کفایت کر جائے گا کہ اگر دوبارہ نہ دھویا جائے تو فرض ساقط ہو جائے گا۔ (در مختارمع رد المحتار ملتقطا، جلد 01، صفحہ 228 - 232، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بيروت)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”پیش از استنجا تین بار دونوں ہاتھ کلائیوں تک دھونا مطلقاً سنّت ہے اگرچہ سوتے سے نہ جاگا ہو یہ اُس سنّت سے جُداہے کہ وضو کی ابتدا میں تین تین بار ہاتھ دھوئے جاتے ہیں، سنّت یوں ہے کہ تین بار ہاتھ دھو کر استنجا کرے پھر آغاز وضو میں باردیگر تین بار دھوئے پھر منہ دھونے کے بعد جوہاتھ کہنیوں تک دھوئے گااُس میں ناخن دست سے کہنیوں کے اوپر تک دھوئے تو دونوں کف دست تین مرتبہ دھوئے جائیں گے ہر مرتبہ تین تین بار۔ اخیر کے دونوں داخل حساب وضو ہیں اور اوّل خارج، ہاں اگر استنجا کرنا نہ ہوتو دو ہی مرتبہ تین تین بار دھونا رہے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بدن پر کوئی نجاست ہومثلاتر خارش ہے یا زخم یاپھوڑا یا پیشاب کے بعد بے استنجاسورہا کہ پسینہ آکر تری پہنچنے کااحتمال ہے جب تو گٹوں تک ہاتھ پہلے دھونا سنت مؤکدہ ہے اگرچہ سویا نہ ہو جب کہ ہاتھ کا اس نجاست پر پہنچنا محتمل ہو اور اگر بدن پر نجاست نہیں تو ان کا دھونا سنت ہے مگر مؤکدہ نہیں اگرچہ سو کر اٹھاہو یوں ہی اگر نجاست ہے اوراس پر ہاتھ نہ پہنچنا معلوم ہے یعنی جاگ رہاہے اوریادہے کہ ہاتھ وہاں تک نہ پہنچے تواس صورت میں بھی سنت مؤکدہ نہیں۔ ہاں سنت مطلقا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 01، حصہ ب، صفحہ 800، 799، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اقول: و ھو معنی قول الفتح قیل سنۃ مطلقاللمستیقظ و غیرہ و ھو الاولی نعم مع الاستیقاظ و توھم النجاسۃ السنۃ اٰکد اھ فاراد بالواو الاجتماع لترتّب الحکم لامجرد التشریک فی ترتبہ و ان کان کلامہ مطلقافی المستیقظ و غیرہ و التوھم غیرمختص بالمستیقظ علی ان السنن الغیرالمؤکدۃ بعضھااٰکد من بعض فافھم“ ترجمہ: اقول یہی فتح القدیر کی اس عبارت کا بھی معنی ہے کہ: کہا گیا نیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے لئے یہ مطلقا سنت ہے اور یہی قول اولٰی ہے، ہاں نیند سے اٹھنے اورنجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنّت زیادہ مؤکد ہے اھ۔ واؤ (اور) سے ان کی مراد یہ ہے کہ نیند سے اٹھنا اور نجاست کااحتمال ہونادونوں باتیں جمع ہوں تو سنت مؤکدہ ہے۔ یہ مراد نہیں کہ نیند سے اٹھے جب بھی سنّتِ مؤکدہ اور احتمالِ نجاست ہوجب بھی سُنّتِ مؤکدہ اگرچہ ان کا کلام نیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے حق میں مطلق ہے اور احتمال نجاست ہونا نیند سے اٹھنے والے ہی کے لئے خاص نہیں۔ علاوہ ازیں سُننِ غیر مؤکدہ میں بعض سنّتیں بعض دیگر کی بہ نسبت زیادہ مؤکدہوتی ہیں۔ تو اسے سمجھو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 01، حصہ ب، صفحہ 804، 803، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

دونوں ہاتھ دھوتے وقت کلائیاں (گٹے) دھونے میں شامل ہیں، چنانچہ السعایۃ في كشف ما فی شرح الوقایۃ للكنوی میں ہے: ”ان الظاهر في قولهم الى رسغيه دخول الغاية تحت المغيا على حسب القاعده التي مضت و الرسغ بضم الراء المهملة ثم الغين المعجمة او بضمتين ملتقى عظم الكف و الذراع كما في القاموس و غيره“ ترجمہ: بے شک فقہاء کے قول ”گٹوں تک“ سے ظاہر ہے کہ غایت (یعنی گٹے) مغیا (یعنی دھونے کے حکم) میں داخل ہے، اس قاعدہ کے مطابق جس کا ذکر گزر چکا ۔اور لفظ ”الرُّسْغ “ راء کے پیش اور غین کے سکون کے ساتھ (رُسْغ)، یا دونوں حرفوں پر پیش کے ساتھ (رُسُغ)۔ ہاتھ کی ہتھیلی اور کلائی کی ہڈی کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں، جیسا کہ القاموس اور دیگر لغت کی کتابوں میں ہے۔ (السعایۃفي كشف ما فی شرح الوقایۃ، صفحہ 105، مطبوعہ المطبع المصطفائی)

بہار شریعت میں وضو کی سنتوں کے بیان میں ہے: ”اور شروع یوں کرے کہ پہلے ہاتھوں کو گٹوں تک تین تین بار دھوئے۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 02، صفحہ 293، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-009
تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ / 20 اگست 2026ء