logo logo
AI Search

ریح کے سب شرعی معذور کا سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ریح خارج ہونے والے شرعی معذور کا سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان ِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جو شخص صرف ریح خارج ہونے کی وجہ سے شرعاً معذور ہو اور اس کے علاوہ اسے کوئی دوسرا عذرِ شرعی لاحق نہ ہو، کیا اس کا سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ سونے سے وضو اس لیے ٹوٹتا ہے کہ اس حالت میں ریح خارج ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

جواب

جو شخص صرف ریح خارج ہونے کی وجہ سے شرعاً معذور ہو اور اس کے علاوہ اسے کوئی دوسرا عذرِ شرعی لاحق نہ ہو تو ایک نماز کے وقت میں وضو کر لینے سے اس پورے وقت میں ریح خارج ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، ایسے شخص کا اس نماز کے وقت میں سونے سے بھی وضو نہیں ٹوٹے گا۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ نفسِ نیند ناقضِ وضو نہیں، بلکہ نیند عادتاً ریح کے خروج کا باعث ہوتی ہے اور ریح کا خروج ناقضِ وضو ہے، اسی لیے شرع نے سببِ غالب (یعنی نیند) کو مسبب (یعنی ریح کے خروج) کے قائم مقام قرار دیا اور اسی سے وضو ٹوٹنے کا حکم صادر فرمایا، کیونکہ غالب عادت یقین و ظنِ غالب کا فائدہ دیتی ہے اور فقہی احکام کا مدار غالب صورت کے اعتبار سے ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقط اسی طرح کی نیند سے وضو ٹوٹتا ہے جو عام طور پر ریح کے خروج کا باعث بنتی ہے، ہر طرح کی نیند سے وضو نہیں جاتا۔ اگر نفسِ نیند ناقضِ وضو ہوتی تو ہر قسم کی نیند میں وضو ٹوٹ جاتا، حالانکہ ایسا نہیں، جیسا کہ احادیث اور فقہی نصوص سے ظاہر ہے۔

اور جب مطلق نیند ناقضِ وضو نہیں، بلکہ وہی نیند ناقضِ وضو ہے جو عادتاً ریح کے خروج کا سبب بنتی ہے، تو جہاں نیند کی وجہ سے وضو ٹوٹتا ہے وہاں درحقیقت علت ریح کا خروج ہی ہے۔ لہٰذا جب مدارِ حکم ریح کے خروج پر ہے اور معذورِ شرعی کا وضو وقت کے اندر یقینی طور پر ریح خارج ہونے سے نہیں ٹوٹتا تو نیند کی وجہ سے بدرجہ اولیٰ نہیں ٹوٹے گا کہ یہاں تو فقط ریح کا گمان ہوتا ہے۔

جہاں نیند کی وجہ سے وضو ٹوٹتا ہے وہاں نفسِ نیند حدث نہیں بلکہ ریح کا خروج ناقضِ وضو ہوتا ہے ، مسند امام احمد، سنن ابی داؤد اور سنن ترمذی وغیرہ میں ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ”إن الوضوء لا يجب إلا على من نام مضطجعا، فإنه إذا اضطجع استرخت مفاصله“ ترجمہ: وضو صرف اس شخص پر لازم ہوتا ہے جو (اس طرح) لیٹ کر سویا ہو (کہ دونوں سرین زمین پر جمے نہ ہوں)، کیونکہ جب وہ لیٹ (کر سو) جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ (سنن الترمذي، ج 1، ص 94، رقم الحدیث: 77، دار الرسالة العالمية)

(استرخت مفاصلہ) کے تحت علامہ علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”فلا يخلو حينئذ عن خروج شيء عادة والثابت عادة كالمتيقن“ ترجمہ: تو ایسی حالت عادتاً ریح کے خروج سے خالی نہیں ہوتی اور جو چیز عادتاً واقع ہو وہ یقینی طور پر ثابت شدہ امر کی طرح ہوتی ہے۔ (مرقاة المفاتيح، ج 1، ص 365، دار الفكر، بيروت)

اور علامہ مناوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”وذلك لان مناط النقض الحدث لاعين النوم وليس مظنة النقض الا الاضطجاع وبه أخذ الحنفية“ ترجمہ: اور ایسا اس لیے کہ وضو ٹوٹنے کا مدار خود نیند پر نہیں بلکہ حدث (یعنی ریح کے خارج ہونے) پر ہے اور حدث کا محلِّ غالب صرف اضطجاع (مخصوص حالت میں) سونا ہے اور احناف نے یہی مؤقف اختیار کیا ہے۔ (التيسير بشرح الجامع الصغير، ج 2، ص 325، مكتبة الإمام الشافعي، الرياض)

شرح مختصر الکرخی میں ہے: ”قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”العينان وكاء السه فإذا نامت العينان استطلق الوكاء“ فبين أن الحدث مالا يخلو النائم منه؛ ولأن النوم لو كان حدثا لما اختلف باختلاف أحوال النائم في صلاة أو غيره، كسائر الأحداث“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد:”آنکھیں پشت (دبر) کے بندھن کی مانند ہیں، پھر جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو وہ بندھن کھل جاتا ہے۔“ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ وضو توڑنے والی چیز وہ حدث (یعنی ریح کا خارج ہونا) ہے جس سے سونے والا عموماً خالی نہیں ہوتا۔ نیز اگر خود نیند ہی حدث ہوتی تو پھر سونے والے کی مختلف حالتوں (جیسے نماز میں سونا یا نماز کے علاوہ سونا) کے اعتبار سے حکم مختلف نہ ہوتا، جیسا کہ دیگر احداث (وضو توڑنے والی چیزوں ) میں ایسا اختلاف نہیں ہوتا۔ (شرح مختصر الكرخي للقدوري، ج 1، ص 110، دار أسفار، الكويت)

المبسوط للسرخسی میں ہے: ” أن الحدث ما لا يخلو عنه النائم عادة فيجعل كالموجود حكما فإن نوم المضطجع يستحكم فتسترخي مفاصله۔۔۔ وهو ثابت عادة كالمتيقن به“ ترجمہ: کیونکہ ناقضِ وضو وہ ہے جس سے سونے والا عادتاً خالی نہیں ہوتا، اس لیے حکماً اسے موجود مان لیا جاتا ہے، کیونکہ لیٹ کر سونے والے کی نیند گہری ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اور جو چیز عادتاً ثابت ہو وہ یقینی ثابت شدہ کی طرح ہوتی ہے۔ (المبسوط للسرخسي، ج 1، ص 79، دار المعرفة، بيروت)

تبیین، بحر، رد المحتار، مراقی الفلاح، حاشیۃ الطحطاوی، الجوھرۃ النیرۃ وغیرہ میں ہے والنص للآخر: ”وهل النوم حدث أم لا؟ الصحيح أنه ليس بحدث؛ لأنه لو كان حدثا استوى وجوده في الصلاة وغيرها ولكنا نقول الحدث ما لا يخلو عنه النائم“ ترجمہ: کیا خود نیند حدث ہے یا نہیں؟ صحیح قول یہ ہے کہ نیند بذاتِ خود حدث نہیں ہے؛ کیونکہ اگر وہ خود حدث ہوتی تو نماز کے اندر اور نماز کے باہر، ہر حالت میں اس کا حکم یکساں ہوتا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ حدث وہ ہے جس سے سونے والا عام طور پر خالی نہیں ہوتا۔ (الجوهرة النيرة، ج 1، ص 9، المطبعة الخيرية)

اور نفسِ نیند کے ناقض نہ ہونے بلکہ ریح کے باعث وضو ٹوٹنے ہی پر یہ مسئلہ متفرع ہے کہ جس شخص کو ریح کا عارضہ ہو اور وہ اس وجہ سے معذور شرعی قرار پاگیا ہو تو اب سونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹتا ، مراقی الفلاح میں ہے: ”والناقض الحدث للإشارة إليه بقوله صلی اللہ علیہ وسلم: ”العينان وكاء السه فإذا نامت العينان انطلق الوكاء“ وفيه التنبيه على أن الناقض ليس النوم لأنه ليس حدثا وإنما ما لا يخلو النائم عنه فأقيم السبب الظاهر مقامه“ ترجمہ: اور وضو کو توڑنے والی چیز درحقیقت حدث (یعنی ریح کا خارج ہونا) ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے اس کی طرف اشارہ ملتا ہے: ”آنکھیں مقعد کے بندھن کی مانند ہیں، پھر جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو وہ بندھن کھل جاتا ہے۔“ اس حدیث میں اس بات کی تنبیہ ہے کہ اصل ناقضِ وضو خود نیند نہیں، کیونکہ نیند بذاتِ خود حدث نہیں ہے، بلکہ ناقض وہ حدث ہے جس سے سونے والا عادتاً خالی نہیں ہوتا (یعنی ریح کا خارج ہونا) ۔ لہٰذا شریعت نے اس کے ظاہری سبب (ایسی نیند) کو اس حدث کے قائم مقام قرار دے دیا۔

(وإنما الحدث ما لا يخلو عنه النائم) کے تحت علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے لکھا: ”صححه في السراج واختاره الزيلعي مقتصرا عليه وحكي في التوشيح الإتفاق عليه وتفرع على الخلاف ما ذكره العلامة الشلبي في حاشية الزيلعي ونصه: ”سئلت عن شيخ به إنفلات ريح هل ينتقض وضوءه بالنوم فأجبت بعدم النقض بناء على ما هو الصحيح أن النوم نفسه ليس بناقض وإن الناقض ما يخرج“ ترجمہ: اس قول کو "السراج" میں صحیح قرار دیا اور علامہ زیلعی نے بھی اسی کو اختیار کرتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا، "التوشيح" میں اس پر اتفاق نقل کیا۔ اسی اختلاف پر وہ مسئلہ بھی متفرع ہوتا ہے جسے علامہ شلبی نے "حاشیۂ زیلعی" میں ذکر کیا ہے، ان کی عبارت ہے: ”مجھ سے ایک ایسے بوڑھے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو ریح کے مسلسل خارج ہونے کے عذر میں مبتلا تھا کہ کیا سونے سے اس کا وضو ٹوٹ جائے گا؟ تو میں نے جواب دیا کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اس صحیح قول کی بنا پر کہ خود نیند ناقضِ وضو نہیں ہے، بلکہ ناقض وہ چیز ہے جو خارج ہوتی۔“ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص 90، دار الكتب العلمية)

(وصحح في السراج الوهاج الأول) کے تحت منحۃ الخالق میں ہے: ”أقول: وهذا أحسن۔۔۔ إذ ما لا يخلو عنه النائم لو تحقق وجوده لم ينقض فالمتوهم أولى“ ترجمہ: میں کہتا ہوں: یہی قول أحسن ہے۔۔۔ کیونکہ جس چیز (ریح کے خروج) سے سونے والا عادتاً خالی نہیں ہوتا، اگر اس کا وجود حقیقتاً متحقق بھی ہو، تب بھی اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، تو محض اس کے غالب گمان کی بنا پر وضو ٹوٹنے کا حکم بدرجۂ اولیٰ نہیں دیا جائے گا۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق، ج 1، ص 39، دار الكتاب الإسلامي)

امام احمد رضا خان رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ثم من المتفرع علی ان النوم نفسہ لیس ناقضا کما فی حاشیۃ العلامۃ احمد ابن الشلبی علی التبیین ”سئلت: عن شخص بہ انفلات ریح ھل ینتقض وضوؤہ بالنوم؟ فاجبت: بعدم النقض، بناء علی ماھو الصحیح ان النوم نفسہ لیس بناقض وانما الناقض مایخرج ومن ذھب الی ان النوم نفسہ ناقض لزمہ نقض وضوء من بہ انفلات الریح بالنوم واللّٰہ تعالٰی اعلم۔“ ونقلہ ط علی مراقی الفلاح فاقرلکن قال فی النھر: ”ینبغی ان یکون عینہ ای النوم ناقضا اتفاقا فیمن فیہ انفلات ریح اذمالا یخلو عنہ النائم لوتحقق وجودہ لم ینقض فالمتوھم اولی۔“ نقلہ ش۔

أقول: ظاھرہ یشبہ المتناقض فان مفاد التعلیل عدم النقض اذلما علمنا ان النوم لا ینقض بنفسہ بل لما یتوھم فیہ وھھنا محققہ لا ینقض فما ظنک بالموھوم وجب الحکم بعدم النقض ، لکن محط نظرہ رحمہ اللہ تعالٰی استبعاد ان یصلی الرجل العشاء فی اول الوقت فینام ولا یزال مستغرقا فی النوم طول اللیل الی قبیل الصباح ثم یقوم کما ھو فیجعل یصلی التھجد ولا یمس ماء فاضطر الی الحکم بجعل النوم نفسہ ناقضافی حقہ۔ أقول: کیف یعدل عن حق معول لمجرد استبعاد لاجرم ان قال الشامی بعد نقلہ: ”فیہ نظر والاحسن ما فی فتاوی ابن الشلبی۔“

أقول: ولا تظن ان النوم مظنۃ الانتشار والانتشار مظنۃ خروج المذی فان المظنۃ الثانیۃ غیر مسلمۃ لعدم الغلبۃ ولذا قال فی الحلیۃ: ”اذالم یکن الرجل مذأ فالانتشار لایکون مظنۃ تلک البلۃ۔“ ولذا صرحوا بعدم سنیۃ الاستنجاء من النوم کما فی الدر وغیرہ فالاظھر ماذکر ابن الشلبی ترجمہ: پھر اس مسئلہ پر کہ نیند بذات خود ناقض نہیں، علامہ احمد ابن الشلبی کے حاشیہ تبیین الحقائق کا یہ کلام متفر ع ہے وہ لکھتے ہیں: ”مجھ سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو انفلات ریح (مسلسل گیس خارج ہونے) کا مریض ہے کہ نیند سے اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں؟ میں نے جواب دیا کہ نہ ٹوٹے گا، اس بنیاد پر کہ صحیح یہی ہے کہ نیند خود ناقض نہیں، ناقض وہی خارج ہونے والی ریح ہے اور جس کا مذہب یہ ہے کہ نیند خود ناقض ہے اس کو اس کا قائل ہونا لازم ہے کہ جو انفلات ریح کا مریض ہے اس کا وضو نیند سے ٹوٹ جائے گا، واللہ تعالی اعلم۔“ اسے علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا، لیکن النہر الفائق میں ہے کہ ”جسے انفلات ریح کا مرض ہے اس کے حق میں خود نیند کے ناقض ہونے کا حکم بالاتفاق ہونا چاہیے، اس لیے کہ سونے والا (بطور ظن) جس چیز سے خالی نہیں ہوتا اگر اس کا وجو د متحقق ہوتو ناقض نہیں پھر متوہم تو بدرجہ اولی نہ ہوگا۔“ اسے علامہ شامی نے نقل کیا۔

میں کہتا ہوں: اس کلام کا ظاہر گویا تنا قض کاحامل ہے، اس لئے کہ ( مدعایہ ہے کہ ناقض ہو اور) تعلیل کا مفاد یہ ہے کہ ناقض نہ ہو، کیوں کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نیند بذات خو د ناقض نہیں بلکہ اس کی وجہ سے جو نیند کی حالت میں متوہم ہے اور یہاں وہی چیز جب تحقیقی طور پر موجود ہے اور ناقض نہیں تو موہوم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ضروری ہے کہ ناقض نہ ہونے ہی کا حکم ہو۔ لیکن صاحب نہر رحمہ اللہ تعالی عنہ کا مطمع نظر اس امر کو بعید قرار دینا ہے کہ وہ شخص اول وقت میں عشا کی نماز ادا کر کے سو جائے اور رات بھر صبح کے ذ را پہلے تک نیند میں مستغر ق رہے پھر اٹھ کر ویسے ہی نماز تہجد پڑھنے لگے اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگائے اس کے لئے ناچار اس کے حق میں نیند کو ناقض قرار دینے کا حکم کیا۔ میں کہتا ہوں: محض ایک استبعا د کے باعث حق معتمد سے انحراف کیسے ہو سکتا ہے؟ اسی حقیقت کے پیش نظر علامہ شامی نے کلام نہر نقل کرنے کے بعد کہا ”یہ محل نظر ہے اور احسن وہ ہے جو ابن شلبی کے فتاوی میں ہے۔“

میں کہتا ہوں: یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ نیند میں انتشار آلہ کا غالب گمان ہوتا ہے اور انتشار میں مذی نکلنے کا گمان ہوتا ہے (اس گمان کی بنا پر اس کی نیند کو ناقض ہونا چاہئے، مگر یہ خیال درست نہیں) اس لئے کہ دوسرا مظنہ (خروج مذی کا گمان) قابل تسلیم نہیں، کیوں کہ غالب و اکثر اس کا عد م وقوع ہے، اسی لئے حلیہ میں فرمایا: ”جب مرد کثیر المذی نہ ہو تو انتشار آلہ اس تری کا مظنہ نہیں۔“ اسی لئے نیند سے استنجاکے مسنون نہ ہونے کی تصریح کی گئی ہے جیسا کہ در مختار وغیر ہ میں ہے، تو اظہر وہی ہے جو ابن الشلبی نے ذکر کیا۔“ (فتاوی رضویہ، ج 1، ص 587 تا 585، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: HAB-0781

تاریخ اجراء: 15 الصفر المظفر 1448ھ/30 جولائی 2026ء