احتلام کے بعد کپڑے اور بیڈ شیٹ پاک کرنے کا طریقہ

احتلام (Nightfall) سے ناپاک ہونے والے کپڑے پاک کرنے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نائٹ فال ہو تو کپڑے کیسے پاک کیے جائیں گے؟ اور کیا بیڈ شیٹ وغیرہ بھی پاک کرنی ہوگی؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

(۱) احتلام (Nightfall) کے سبب پاجامہ، شلوار وغیرہ جس کپڑے پر نجاست لگے، اسے اتنی بار اچھے سے دھوئیں کہ منی اور حتی المقدور اس کا اثر (رنگ و بو) ختم ہو جائے تو وہ پاک ہو جائے گا؛ کیونکہ نجاست مرئیہ (وہ نجاست جو خشک ہونے کے بعد بھی نظر آتی ہو جیسے پاخانہ، منی وغیرہ) کو پاک کرنے کے لیے نجاست اور اس کے اثر کا زائل کرنا ضروری ہے، خواہ وہ ایک مرتبہ دھونے سے ہو جائے یا چند بار سے، اور اس میں نچوڑنے یا سوکھنے کی کوئی شرط نہیں۔

(۲) احتلام ہونے کی صورت میں کپڑے کے جس حصے پر نجاست لگے، صرف وہ جگہ ناپاک ہوتی ہے، اس کے علاوہ کپڑے اور بیڈ شیٹ وغیرہ جن پر نجاست کا کوئی اثر نہیں، وہ بدستور پاک رہتے ہیں، انہیں دھونا ضروری نہیں۔

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها و لو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل و لا عصر

ترجمہ: آپ جان چکے ہیں کہ نجاست مرئیہ کو پاک کرنے میں نجاست کے عین کا زائل ہونا معتبر ہے، خواہ ایک ہی بار دھونے سے ہو جائے، اگرچہ کسی برتن میں (دھونے سے ہی) ہو جائے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ پس اس میں تین بار دھونا اور نچوڑنا شرط نہیں ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، جلد 1، صفحہ 596، دار المعرفۃ، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: نجاست اگر مرئیہ ہو یعنی خشک ہونے کے بعد بھی نظر آئے تو اس کی تطہیر میں عدد اصلا شرط نہیں، بلکہ زوال عین درکار ہے، خواہ ایک بار میں ہو جائے یا دس بار میں، مگر بقائے اثر بقائے عین پر دلیل، تو زوال اثر مثل رنگ و بو ضرور، لیکن وہ اثر جس کا زوال دشوار ہو معاف کیا جائے گا، صابون یا گرم پانی وغیرہ سے چھڑانے کی حاجت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: احتلام سے صرف وہی کپڑا ناپاک ہوگا، وہ بھی کپڑے کا صرف وہ حصہ جس پر منی لگی ہو، کپڑے کا بقیہ حصہ اور دوسرے کپڑے پاک ہیں۔... اس لیے احتلام سے سوئٹر یا بنیائن وغیرہ ناپاک نہیں ہوں گے، اس کو بغیر دھوئے ہوئے پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ تہبند اور پاجامہ میں چوں کہ یہ شبہہ رہتا ہے معلوم نہیں کہاں کہاں نجاست لگی ہو، اس کو پورا دھو لینا چاہیے یا بدل دینا چاہیے۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 120، جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

خلیل ملت مفتی محمد خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1405ھ / 1985ء) لکھتے ہیں: ”کپڑے اور اس کے جس حصہ پر نجاست لگی ہو صرف وہی کپڑا اور حصہ نجس ہوا، نہ کہ تمام کپڑا۔ یونہی بدن کے جس حصہ پر نجاست لگی اس حصہ سے نجاست دور کرنا فرض ہوا، ہاں بر بنائے جنابت غسل فرض ہوا تو بدن پر موجود دوسرے کپڑے جن پر نجاست کا کوئی اثر نہیں بدستور پاک ہیں۔... غرض کپڑے کا جو حصہ نجس ہے اسے دھو لیں، تمام کپڑے دھونے کی ضرورت نہیں۔“ (فتاوی خلیلیہ، جلد 1، صفحہ 198 - 199، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: FAM-950

تاریخ اجراء: 28 ربيع الآخر 1447ھ / 22 اکتوبر 2025ء