کپڑوں پر پیشاب لگ جائے تو پاک کرنے کا طریقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شلوار پر پیشاب کے قطرے لگ جائیں تو پاک کرنے کا طریقہ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل کے بارے میں کہ
(1) اگر کپڑوں پر پیشاب کے قطرے لگ جائیں تو ان کپڑوں کو پاک کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟ مثلاً میں مسجد میں ہوں یا وضو خانے میں ہوں اور وضو کے دوران پیشاب کے چند قطرے شلوار پر لگ گئے، ایسی صورت میں وہاں شلوار دھونا ممکن نہیں ہوتا، تو کیا صرف گیلا ہاتھ کپڑے پر پھیر دینا کافی ہے؟ اور اگر کافی ہے تو کیا ایک مرتبہ پھیرنا درست ہے یا دو تین مرتبہ؟ نیز گیلا ہاتھ پھیرتے وقت بسم اللہ پڑھنا یا لا الٰہ الا اللہ پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟
(2) دوسرا سوال یہ ہے کہ بعض اوقات چلتے ہوئے پیشاب کے قطرے نکل جاتے ہیں، ایسی صورت میں یہ یقین سے معلوم نہیں ہوتا کہ پیشاب کے قطرے کپڑے کے کس حصے پر لگے ہیں، تو اب کیا اندازے سے اس جگہ پر گیلا ہاتھ تین مرتبہ پھیر دینے اور کلمہ یا بسم اللہ پڑھ لینے سے کیا کپڑا پاک ہو جائے گا یا نہیں؟
جواب
(1) پیشاب ایک غیر مرئیہ (سوکھ جانے کے بعد دکھائی نہ دینے والی) نجاست غلیظہ ہے، کپڑے کے جس حصے پر پیشاب کے قطرے لگ جائیں تو وہاں صرف ایک یا اس سے زائد بار گیلا ہاتھ پھیردینے اور ساتھ بسم اللہ یا کلمہ وغیرہ پڑھ لینے سے کپڑے کا وہ حصہ پاک نہیں ہوگا، بلکہ اُسے شرعی طریقہ کار کے مطابق دھو کرپاک کرنا ہوگا۔ دھوکر پاک کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ نیچے بیان کردہ طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے پا ک کیا جاسکتا ہے۔
ایک طریقہ یہ ہے کہ کپڑے کے صرف اُس ناپاک حصے کو تین مرتبہ دھوئیں اور ہر مرتبہ اتنی قوت سےنچوڑیں کہ مزید نچوڑنے سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے، تیسری بار میں طاقت بھر نچوڑنے سے کپڑے کا وہ حصہ پاک ہوجائے گا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی بار کپڑے کے اُس ناپاک حصے پراتنا زیادہ پانی بہادیں کہ نجاست کے زائل ہونےکا غالب گمان ہوجائے، اس طرح بھی کپڑے کا وہ حصہ پاک ہو جائے گا۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ بہتے پانی مثلاً نَل کے نیچے کپڑے کا وہ ناپاک حصہ رکھ کر نَل کھول کر اتنی دیر پانی سے دھویا جائے کہ نجاست کے زائل ہونے کا ظنِ غالب ہو جائے، تو کپڑے کا وہ حصہ پاک ہوجائے گا۔ البتہ اِس طریقے میں نَل کے نیچے رکھ کردھونے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ پاک ہوجانے کے ظن غالب سےپہلے ناپاک پانی کا ایک چھینٹا بھی بدن،کپڑے یا کسی اور چیز پر نہ پڑے۔
واضح رہے کہ اگر کپڑوں پر پیشاب کے قطرے لگے ہوں اور وہ ایک درہم کی مقدار سے زیادہ جگہ پر پھیل جائیں تو صحیح شرعی طریقہ کار کے مطابق پاک کئے بغیر اُن میں نماز نہیں ہوگی۔ اگر ایک درہم کی مقدار کے برابر ہوں تو پاک کئے بغیر اس میں پڑھی گئی نماز واجبُ الاعادہ ہوگی یعنی پاک کرکے دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا۔ نیز مذکورہ دونوں صورتوں میں جان بوجھ کر ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنے والا گنہگار بھی ہوگا۔ اگر پیشاب کے قطرے ایک درہم کی مقدار سے کم جگہ پر پھیلے ہوں تو پاک کئے بغیر بھی اس کپڑے میں نماز تو ہو جائے گی مگر ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنا خلاف سنت ہوگا۔ یاد رہے کہ پیشاب ایک درہم ہونے سے مراد اس کی لمبائی اور چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زِیادہ پانی نہ رُک سکے، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہتھیلی پر باقی ہوگا، اُتنا درہم سمجھا جائے گا۔
(2) شلوار میں پیشاب لگنے کی جگہ معلوم نہ ہونےکے بارے میں حکمِ شرعی یہ ہے کہ اس صورت میں اتنا تو معلوم ہوتا ہی ہے کہ ناپاکی شلوار پرشرمگاہ والے حصے کے قریب کپڑے پر ہی لگی ہے، اگرچہ یہ متعین طور پر معلوم نہیں ہوتاکہ اُس حصے میں بھی کون سی جگہ ناپاک ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں کپڑے کو پاک کرنے کے تین طریقے ہوسکتے ہیں:
ایک یہ کہ شرمگاہ والے کپڑے کےحصے اور اس کے آس پاس کے کپڑے کےپورے حصے کو ہی دھو لیا جائے۔ یہ سب سے بہتر اور احتیاط والا طریقہ ہے۔
دوسرا یہ کہ اگر اس پورےحصے کو دھونا نہ چاہے تو غور و فکر کرلیا جائے کہ شرمگاہ کے قریب کون سا حصہ ناپاک ہو سکتا ہے، پھر جس حصے کےبارے میں غالب گمان ہو کہ یہی ناپاک ہوا ہوگا،تو صرف اسی حصے کو دھو لینے سے کپڑا پاک ہو جائے گا۔ غور و فکر کرکے کسی حصے کو دھونے کا فائدہ یہ ہے کہ اگر بعد میں معلوم ہوکہ کپڑے کا کوئی اور حصہ ناپاک تھا تو اب اس حصے کو دھونا تو لازم ہوگا، مگراس میں پہلے پڑھی ہوئی نمازوں کا اعادہ لازم نہیں ہوگا۔
تیسرا یہ کہ اگر بغیر غور و فکر کے یونہی کوئی حصہ دھو لیا تو بھی کپڑا توپاک ہو جائے گا، لیکن بغیر غور و فکر کی اس صورت میں اگر بعد میں معلوم ہوگیا کہ کپڑے کا کوئی دوسرا حصہ ناپاک تھا تو اس کپڑے میں جو نمازیں ادا کی گئی ہوں ان کا اعادہ بھی لازم ہوگا، بشرطیکہ نجاست قدرِ مانع ہو، یعنی پیشاب ایک درہم یا اس سے زیادہ ہو۔
بالترتیب دونوں جوابات کےجزئیات ملاحظہ ہوں:
خشک منی کے علاوہ کوئی بھی نجاست کپڑوں یا بدن پر لگ جائے تو اُسے دھو کر ہی پاک کیا جائے گا، چنانچہ بحر الرائق میں ہے:
و في البدائع، و أما سائر النجاسات إذا أصابت الثوب أو البدن ونحوهما فإنها لا تزول إلا بالغسل سواء كانت رطبة أو يابسة و سواء كانت سائلة أو لها جرم
ترجمہ:بدائع میں ہے کہ تمام نجاستیں جب کپڑے یا بدن وغیرہ پر لگ جائیں تو وہ ناپاکی دھونے سے ہی ختم ہو گی، خواہ وہ نجاستیں تر ہوں یا خشک، وہ نجاستیں بہنے والی ہوں یا جرم دار۔ (بحر الرائق، جلد 1، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، صفحہ 390، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
غیر مرئیہ نجاست کو کپڑوں سے تین مرتبہ دھو کر ہر بار نچوڑ کر پاک کیا جائے گا، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
و إن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات. كذا في المحيط و يشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر
ترجمہ: اور اگر نجاست غیرمرئیہ ہو تو اسے تین مرتبہ دھوئے گا، اسی طرح محیط میں ہے اور جو چیز نچوڑی جا سکتی ہو اسے ہر مرتبہ نچوڑنا شرط ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 42، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہت زیادہ پانی بہاکر غالب گمان کرکے بھی پاک کیا جاسکتا ہے،چنانچہ تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
(و) یطھر محل (غیرھا) أی غیر مرئیۃ۔۔۔ (بغسل و عصر ثلاثا فیما ینعصر)مبالغا حیث لا یقطروهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر و تجفيف و تكرار غمس هو المختار
ترجمہ: اور غیر مرئی نجاست کے لگنے کی جگہ کو تین بار دھونے اور نچوڑنے کے ساتھ پاک کیا جائے گا، ان چیزوں میں جن کو نچوڑا جاسکتا ہو، (نچوڑنے میں) مبالغہ کرتے ہوئےیہاں کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے ۔۔۔ یہ سب (تین مرتبہ دھونا اورنچوڑنا) اس صورت میں ہے جبکہ اسے برتن میں دھویا جائے، لیکن اگر تالاب میں دھویا جائے، یا اس پر بہت زیادہ پانی ڈالا جائے، یا اس پر پانی جاری ہو تو بغیر نچوڑے، بغیر خشک کیے اور بار بار ڈبوئے بغیر مطلقا پاک ہوجائے گا، یہی مختار ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 593، 597، دار المعرفۃ، بیروت)
بحر الرائق میں ہے:
و أما حكم الصب فإنه إذا صب الماء على الثوب النجس إن أكثر الصب بحيث يخرج ما أصاب الثوب من الماء و خلفه غيره ثلاثا فقد طهر؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار و العصر و المعتبر غلبة الظن هو الصحيح
ترجمہ: اور رہا صب (پانی بہانے) کا حکم، تو جب ناپاک کپڑے پر پانی ڈالا جائے، اگر اتنا زیادہ پانی ڈالا جائے کہ جو پانی کپڑے کو لگا ہے وہ نکل جائے اور اس کی جگہ دوسرا پانی آئے تین بار آئے، تو کپڑا پاک ہو جاتا ہے؛ اس لیے کہ پانی کا بہنا تکرار اور نچوڑنے کے قائم مقام ہے، اور (اس میں پاکی کیلئے) غالب گمان کا اعتبار ہے، یہی صحیح ہے۔ (بحر الرائق، جلد 1، صفحہ 250، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
بہتے پانی میں بھی ظن غالب کے ساتھ پاک کیا جاسکتا ہے، چنانچہ بہار شریعت میں ہے: اگر نَجاست رقیق ہو تو تین مرتبہ دھونے اور تینوں مرتبہ بقوّت نچوڑنے سے پاک ہوگا اور قوّت کے ساتھ نچوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی طاقت بھر اس طرح نچوڑے کہ اگر پھر نچوڑے تو اس سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے۔۔۔ دَری یا ٹاٹ یا کوئی ناپاک کپڑا بہتے پانی میں رات بھر پڑا رہنے دیں پاک ہو جائے گا اور اصل یہ ہے کہ جتنی دیر میں یہ ظن غالب ہو جائے کہ پانی نَجاست کو بہالے گیا پاک ہو گیا، کہ بہتے پانی سے پاک کرنے میں نچوڑنا شرط نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 398، 399، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نجاست غلیطہ ایک درہم، اس سے زائد یا کم ہو تو اُس کے ساتھ نماز کے حکم سے متعلق، بہار شریعت میں ہے: نَجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے، تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے۔ اگر (نجاست) پتلی ہو، جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراد اس کی لنبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زِیادہ پانی نہ رک سکے، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدار تقریباً یہاں کے روپے کے برابر ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 389، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہوگیا اور معلوم نہیں کہ کونسا حصہ ناپاک ہے تو تحری یا بغیر تحری کے کوئی سا حصہ دھولیا جائے، کپڑا پاک ہوجائے گا، چنانچہ غنیۃ المتملی میں ہے:
تنجس طرف من الثوب فنسيه فغسل طرفا منہ بتحر أو بلاتحرطھر لان بغسل بعضہ مع ان الاصل طھارۃ الثوب وقع الشک فی قیام النجاسۃ لاحتمال کون المغسول محلھا فلا یقضی بالنجاسۃ بالشک کذا اوردہ الاسبیجابی فی شرح الجامع الکبیر
ترجمہ: کپڑے کا ایک کنارہ ناپاک ہو گیا پھر وہ اسے بھول گیا، اس کے بعد اس نے کپڑے کا کوئی ایک کنارہ دھو دیا، چاہے تحری کے ساتھ یا بغیر تحری کے، تو کپڑا پاک ہو گیا، کیونکہ کپڑے کا کچھ حصہ دھونے سے، جبکہ اصل یہ ہے کہ کپڑا پاک تھا، نجاست کے باقی رہنے میں شک پیدا ہو گیا اس احتمال کی بنا پر کہ شاید دھویا ہوا حصہ ہی نجاست کی جگہ ہو، اس لیے محض شک کی بنیاد پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ اسی طرح امام اسبیجابی رحمہ اللہ نے الجامع الکبیر کی شرح میں اسے نقل کیا ہے۔ (غنیۃ المتملی، صفحہ179، فروع فی التطھر من النجاسات(فروع شتی)، مبطوعہ کوئٹہ)
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہوگیا اور یہ یاد نہیں کہ وہ کون سی جگہ ہے تو بہتر یہی ہے کہ پورا دھو ڈالیں، یعنی جب بالکل ہی معلوم نہ ہو کہ کس حصہ میں ناپاکی لگی ہے، اور اگر معلو م ہو کہ مثلاً آستین یا کلی نجس ہوگئی، مگر یہ معلوم نہیں کہ آستین یا کلی کا کونسا حصہ ناپاک ہے، تو آستین یا کلی کا دھونا ہی پورے کپڑے کا دھونا ہے اور اگر اندازے سے سوچ کر اس کا کوئی حصہ دھولے جب بھی پا ک ہوجائےگا، اور جو بلاسوچے ہوئے کوئی ٹکڑا دھو لیا جب بھی پا ک ہے، مگر اس صورت میں اگر چند نمازیں پڑھنے کےبعد معلوم ہو کہ نجس نہیں دھویا، تو پھر دھوئے اور نمازوں کا اعادہ کرےاور جو سوچ کر دھولیا تھا اور بعد کو غلطی معلوم ہوئی تو اب دھولے اور نمازوں کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 400، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1079
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم 1447ھ / 29 جنوری 2026ء