حیض میں دعائے عاشوراء پڑھنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حیض کی حالت میں دعائے عاشورا پڑھنا کیسا جبکہ اس میں قرآنی الفاظ بھی ہیں
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عورت حالتِ حیض میں دعائے عاشوراء پڑھ سکتی ہے یا نہیں کیونکہ اس دعا میں قرآنی الفاظ بھی ہیں؟
جواب
پڑھ سکتی ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ وضو یا کلی کرکے پڑھے۔ اس دعا میں موجود قرآنی الفاظ میں دعائیہ معنی ہے لہٰذا ان الفاظ کو محض دعا کی نیت سے پڑھ سکتی ہے۔
علامہ بدر محمود عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
(و ليس للحائض و الجنب و النفساء قراءة القرآن) ش: على قصد القرآن دون قصد الذكر
یعنی بقصد تلاوت حائضہ، جنبی ،نفاس والی کے لئے قرآن پڑھنا جائز نہیں ہے، بقصد ذکر پڑھ سکتی ہے۔ (البنایۃ فی شرح الھدایۃ، جلد 1، صفحہ 646، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس آیت یا سورت میں خالص معنی دعا و ثنا بصیغۂ غیبت وخطاب ہوں اور اس کے اول میں قُل بھی نہ ہو، نہ اس میں حروفِ مقطعات ہوں اور اس سے قرآنِ عظیم کی نیت بھی نہ کرے بلکہ دعاو ثنا کی برکت سے طلبِ شفا کرنے کے لئے اس پر دم کرے، تو روا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحہ 1116، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہارِ شریعت میں ہے: قرآنِ مجید کے علاوہ اَور تمام اذکار کلمہ شریف، درود شریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وُضو یا کُلّی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حَرَج نہیں اور ان کے چھونے میں بھی حرج نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 379، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2366
تاریخ اجراء: 14 محرم الحرام 1447ھ / 10 جولائی 2025ء