شیمپو یا صابن کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والا پانی ناپاک ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آنکھ میں شیمپو یا صابن چلا جائے اور جلن کی وجہ سے پانی نکلے تو اس پانی کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
آنکھ میں شیمپو یا صابن وغیرہ کچھ چلا جائے، اور آنکھ میں چبھن، جلن، یا درد ہو، اور پانی آئے، تو کیا وہ پاک ہے یا ناپاک؟
جواب
صابن یا شیمپو وغیرہ آنکھ میں چلا جائے، تو اس کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والا پانی ناپاک نہیں ہے، اور نہ اس کی وجہ سے وضو ٹوٹے گا، کیونکہ آنکھ سے نکلنے والا وہ پانی ناپاک، اور ناقضِ وضو ہوتا ہے، جو آنکھ کی بیماری یا آنکھ میں زخم کی وجہ سے بہہ کر نکلے، جبکہ صابن یا شیمپو جانے کی وجہ سے آنکھوں سے نکلنے والا پانی، کسی بیماری یا زخم کی وجہ سے نہیں نکلتا، لہذا یہ ناپاک اور ناقضِ وضو بھی نہیں۔
غنیۃ المستملی میں ہے
کل ما یخرج من علۃ من أی موضع کان کالاذن و الثدی و السرۃ و نحوھا فانہ ناقض علی الاصح لانہ صدید
ترجمہ: ہر وہ رطوبت جو کسی بھی جگہ سے بیماری کی وجہ سے نکلے، جیسے کان، پستان، ناف وغیرہ سے، تو اصح قول کے مطابق وہ رطوبت وضو کو توڑدے گی کیونکہ یہ صدید (یعنی خون ملا پیپ) ہے۔ (غنیۃ المستملی، نواقض الوضوء، صفحہ 116، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے
الدم و القيح و الصديد و ماء الجرح و النفطة و ماء البثرة و الثدي و العين و الأذن لعلة سواء على الأصح۔۔۔ و ظاهره أن المدار على الخروج لعلة و إن لم يكن معه وجع
ترجمہ: خون، پیپ، صدید (خون ملا پیپ)، زخم اور آبلہ کا پانی، پھنسی، پستان، آنکھ، کان سے بیماری کی وجہ سے نکلنے والا پانی اصح قول کے مطابق ایک حکم میں ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ اس کا دار ومدار اس بات پر ہے کہ اس کا نکلنا بیماری کی وجہ سے ہو اگرچہ درد نہ ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 306، مطبوعہ: کوئٹہ)
اگر پانی بغیر کسی بیماری کے نکلے تو وہ پاک ہے اور ناقضِ وضو بھی نہیں۔ جیسا کہ تحفۃ الفقہاء میں ہے
و أما إذا كان الخروج من غير السبيلين فإن كان الخارج طاهراً مثل الدمع و الريق و المخاط و العرق و اللبن و نحوها لا ينقض الوضوء بالإجماع و إن كان نجساً ينقض الوضوء
یعنی جب غیر سبیلین سے خارج ہونے والی چیز پاک ہو مثلا آنسو، تھوک، رینٹھ، پسینہ، دودھ وغیرہ تو بالاجماع ان چیزوں سے وضونہیں ٹوٹے گا اور اگر ناپاک ہو تو وہ وضوٹوٹ جائے گا۔ (تحفة الفقهاء، جلد 1، صفحہ 18، دار الكتب العلمية، بيروت)
فتاوٰی رضویہ میں ہے جو سائل چیز بدن سے بوجہ علت خارج ہو، ناقض وضو ہے مثلا: آنکھیں دکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہو، یا آنکھ، کان، ناف، و غیرہا میں دانہ یا، نا سور یا کوئی مرض ہو، ان وجوہ سے جو آنسو، پانی بہے، وضو کا ناقض ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ الف، صفحہ 349، رضا فاونڈیشن، لاہور)
درِ مختار میں ہے
(و) کل (ما لیس بحدث لیس بنجس)
یعنی: جسم سے نکلنے والی ہر وہ چیز جوحدث کو لازم نہیں کرتی، وہ نجس بھی نہیں ہوتی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 294، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4777
تاریخ اجراء: 07رمضان المبارک1447ھ / 25 فروری 2026ء