logo logo
AI Search

بال سیدھے کرنے کی ٹریٹمنٹ کے بعد وضو اور غسل ہوجائیگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بال سیدھے کرنے کے لئے ٹریٹمنٹ کروایا ہو تو وضو و غسل کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بال سیدھے کرنےکی مختلف ٹریٹمنٹس، جیسے کیرا بونڈ، ایکسٹینسو، اور نینو پلاسٹیا وغیرہ، کروانا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ان کے بعد غسل اور وضو درست ہو جاتا ہے؟

جواب

مارکیٹ میں بال سیدھے کرنے کے مختلف طریقے ہیں، ان سے متعلق حکم شرعی یہ ہے، کہ اگر ٹریٹمنٹ کے دوران ایسا کیمیکل استعمال کیا جائے، جو بالوں پر ایک اضافی تہہ دار جرم بنا دیتا ہے، جو پانی کو بہنے سے روکتا ہے، تو عاقل بالغ مسلمان کے لیے ایسا ٹریٹمنٹ کروانے کی اجازت نہیں، اگر کسی نے کروالیا، تو وہ گناہ گار ہوگا، کہ اپنے قصد سے ایسی حالت پیدا کی، اورپھر جب تک یہ جرم بالوں پر موجود رہے گا، تو اسے اتارنے کے ممکن ہونے کی صورت میں وضو و غسل نہیں ہوگا۔ البتہ! اُسے اتارنا ممکن نہ ہو، یا اُتارنے میں شدید حرج ہو، تو اب حرج و مشقت کی وجہ سے، اُس جرم والی جگہ کے نچلے حصے کو دھونا معاف ہوجائے گا، اور اس کے لگے ہونے کی حالت میں ہی وضو و غسل درست ہوجائے گا ۔ اور اگر ٹریٹمنٹ کے دوران ایسا کیمیکل استعمال کیا گیا، جو جرم نہیں بناتا، بلکہ بالوں کی جڑوں اور ساخت میں جذب ہو کر عام کھلی مہندی کی طرح صرف رنگ اور چمک چھوڑتا ہے، تو یہ سرکے بالوں پرپانی بہنے سے مانع نہیں، اور ایسا ٹریمنٹ کروانے کی اجازت ہے، لہذا اس صورت میں وضو و غسل بھی ہوجائے گا۔

جسم پرکوئی ایسی چیز لگی رہ جائے، جو نیچے پانی پہنچنے سے مانع ہو تو وضو و غسل نہیں ہوگا، چنانچہ المحیط البرھانی میں ہے "و لو كان جلد سمك و خبز ممضوغ قد جف، فتوضأ و لم يصل الماء إلى ما تحته لم يجز؛ لأن التحرز عنه ممكن" ترجمہ: اگر جسم پر مچھلی کا چھلکا، یا چبائی ہوئی، خشک روٹی، لگی رہ گئی، پھر اس نے وضو کیا، اور اس کےنیچے پانی نہ پہنچا، تو یہ جائز نہیں (وضو نہیں ہوگا)؛ کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 1، صفحہ 41، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے "و الخضاب إذا تجسد و یبس یمنع تمام الوضوء و الغسل" ترجمہ: خضاب جب جرم دار، اور خشک ہو جائے، تووہ وضو اور غسل کے مکمل ہونےسے مانع ہے ۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، ص 4، دار الفکر، بیروت)

اسی میں ایک اور مقام پر ہے ’’و لو ألزقت المرأۃ رأسھا بطیب بحیث لا یصل الماء إلٰی أصول الشعر وجب علیھا إزالته لیصل الماء إلٰی أصولہ‘‘ ترجمہ: اگر عورت نے اپنے سر پر کوئی خوشبو اس طرح لگائی، کہ اس کی وجہ سے بالوں کی جڑوں تک پانی نہ پہنچے، تو اس پر اس خوشبو کو زائل کرنا واجب ہے، تا کہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے ۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، ص 13، دار الفکر، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے سر پر مہندی یا کوئی خضاب یا ضماد لگا ہوا ہے اور مسح کرتے میں ہاتھ اس پر گزرتا ہوا پہنچا یوں کہ یا تو وہ ضماد و خضاب رقیق بے جرم مثلِ روغن ہے تو اُسی کی جگہ مسح کیا، وہ جرم دار ہے تو اس کے باہر چہارم سر کی قدر مسح کیا مگر ہاتھ اس پر ہوتا گزرا، اگر اس گزرنے میں ہاتھ کی تری میں اُس خضاب و ضماد کے اجزاء ایسے مل گئے کہ اب وہ تری پانی نہ کہلائے گی تو مسح جائز نہ ہوگا ورنہ جائز ۔۔۔ وجیز امام کردری فصل مسح میں ہے: مسحت علی الخضاب ان اختلطت البلۃ بالخضاب حتی خرجت عن کونھا ماء مطلقا لم یجز اھ اقول ولا بدمن تقیید مفھومہ بما ذکرت" ترجمہ: خضاب پر مسح کیا اگر تری خضاب سے مل گئی یہاں تک کہ ماءِ مطلق ہونے سے خارج ہوگئی تو اُس سے مسح جائز نہیں اھ۔ میں کہتا ہوں اس کے مفہوم کو مقید کرنا ضروری ہے اس قید کے ساتھ جو میں نے ذکر کی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 622، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: اگر حقہ سے منہ کی بو متغیر ہو، بے کلی کئے منہ صاف کئے مسجد میں جانے کی اجازت نہیں ۔۔۔ مگر جو حقہ ایسا کثیف و بے اہتمام ہو کہ معاذ اللہ تغیرِ باقی پیدا کرے کہ وقتِ جماعت تک بو زائل نہ ہو، تو قربِ جماعت میں اس کا پینا شرعاً ناجائز کہ اب وہ ترکِ جماعت و ترکِ سجدہ یا بدبو کے ساتھ دخولِ مسجد کا موجب ہوگا اور یہ ممنوع و ناجائز ہیں اور ہر مباح فی نفسہ کہ امرِ ممنوع کی طرف مؤدی ہو، ممنوع و ناروا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 94، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اگر جرم دار مہندی کے اتارنے میں مشقت و حرج ہو، تو اس کا اتارنا معاف ہوگا، اور اسے اتارے بغیر بھی وضو و غسل ہوجائے گا، اور نماز ہوجائے گی، جیسا کہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: حرج کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ وہاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو جیسے آنکھ کے اندر۔ دوم مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی۔ سوم بعد علم و اطلاع کوئی ضرر و مشقت تو نہیں مگر اس کی نگہداشت، اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے جیسے مکھی مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا گرہ کھایا ہوا بال۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 610، 611، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے ہاں اگر اُس کے جُدا کرنے میں حرج و ضرر و اذیت ہو، جس طرح پانوں کی کثرت سے جڑوں میں چونا جم کر متحجر ہوجاتا ہے کہ جب تک زیادہ ہوکر آپ ہی جگہ نہ چھوڑ دے، چھڑانے کے قابل نہیں ہو تا یاعورتوں کے دانتوں میں مسّی کی ریخیں جم جاتی ہیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑھوں کی مضرت کا اندیشہ ہے، تو جب تک یہ حالت رہے گی اس قدر کی معافی ہوگی۔ فان الحرج مدفوع بالنص (فتاوی رضویہ، جلد1، حصہ دوم، صفحہ 593، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5045
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء