logo logo
AI Search

دانت پر خول یا کور ہو تو وضو اور غسل کیسے ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

دانت سیدھا کروا کر خول چڑھوایا ہو، تو وضو و غسل کا کیا حکم ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

ڈاکٹر نے علاج کے لئے دانت پر کلپ یا خول لگایا ہےتو اگر وہ منہ میں فکس نہیں ہے کہ بآسانی اتر جاتا ہے، اور بعد میں اگر اس کا لگا رہنا ضروری ہوتو خود اسے لگابھی سکتا ہے اور اس کو اتار کر کلی کرنے میں کوئی حرج وضرر و تکلیف نہیں تو اس کو اتار کر غسل کرنا ضروری ہے۔

اگر ایسا فکس ہے کہ باآسانی اتر نہیں سکتا، بلکہ اتارنا تکلیف دہ ہے یا آسانی سے اتر تو جائے گا، لیکن پھر دوبارہ اس کو خود لگا نہیں سکے گا اور اس کا لگارہناضروری بھی ہے، تو وضو و غسل کرتے ہوئے اگرچہ اس کے نیچے پانی نہ بھی جائے، تب بھی اس کو اتارنا ضروری نہیں ہے، اس کواتارے بغیر بھی وضو و غسل ہوجائے گا۔

فتاوی رضویہ میں ہے: (18) اقول: ہلتا ہوا دانت اگر تار سے جکڑا ہے، معافی ہونی چاہئے اگرچہ پانی تار کے نیچے نہ بہے کہ بار بار کھولنا ضروردے گا، نہ اس سے ہر وقت بندش ہوسکے گی۔ (19) یونہی اگر اکھڑا ہوا دانت کسی مسالے مثلاً برادۂ آہن و مقناطیس وغیرہ سے جمایا گیا ہے جمے ہوئے چونے کی مثل اس کی بھی معافی چاہئے ۔ ۔ ۔ ہاں اگرکمانی چڑھی ہو جس کے اتارنے چڑھانے میں حرج نہیں اورپانی بہنے کو روکے گی، تو اتارنا لازم ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1۔ ب، صفحہ 607 تا 609، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2522
تاریخ اجراء: 13 ربیع الآخر 1447ھ / 07 اکتوبر 2025ء