logo logo
AI Search

آنکھ سے نکلنے والا پانی کب ناپاک ہوتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

آنکھ میں درد، جلن ہو پھر خود ہی ٹھیک ہوجائے، اس حالت میں نکلنے والی پانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

آنکھ سے نکلنے والا ہر پانی ناپاک نہیں ہوتا اور نہ ہی وضو توڑتا ہے، بلکہ اصول یہ ہے کہ آنکھ سے کسی بیماری یا زخم کی وجہ سے نکلنے والا پانی ناپاک ہے، بغیر بیماری و زخم کے ویسے ہی نکلنے والا پانی ناپاک نہیں۔

درد اور چبھن آنکھ میں بیماری یا زخم کے بغیر بھی ہوسکتی ہے لہٰذا اگر آنکھ میں کوئی بیماری یا زخم نہیں، نہ اس کی کوئی علامت موجود ہے تو نکلنے والا پانی ناپاک نہیں ہوگا۔

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہمارے علماء نے فرمایا:جو سائل (یعنی بہنے والی) چیزبدن سے بوجہِ علت (یعنی بیماری کے سبب) خارج ہو، ناقضِ وضوہے،مثلاً: آنکھیں دُکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہو یا آنکھ، کان، ناف وغیرہا میں دانہ یا ناسور یا کوئی مرض ہو ان وجوہ سے جو آنسو، پانی بہے، وضو کا ناقض ہوگا۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 01 (الف)، صفحہ 349، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2541
تاریخ اجراء: 09 ربیع الآخر 1446ھ / 13 اکتوبر 2024ء