logo logo
AI Search

دھوپ کے گرم پانی سے کپڑے یا برتن دھونا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

دھوپ سے گرم ہوئے پانی سے کپڑے یا برتن دھونا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جو پانی گرم ملک میں، گرم موسم میں، سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کے برتن میں، دھوپ میں گرم ہو گیا، وہ جب تک گرم ہے، اسے بدن پرکسی طرح پہنچنے نہیں دینا چاہیے کہ اس پانی کے، اس حالت میں بدن پر استعمال کرنے سے برص ہوجانے کا خطرہ ہے، لہذا اگر اس طرح کے پانی سے کپڑے اور برتن دھونے میں اس پانی کے بدن پرپہنچنے کی صورت ہو، جیسے عام اندازمیں کپڑے دھونے اور برتن دھونے میں ہاتھ وغیرہ پر لگتا ہے، تو ایسی صورت میں یہ پانی جب تک گرم ہو، اس وقت تک اس سے اس اندازمیں کپڑے اور برتن نہیں دھونے چاہییں، پانی کے ٹھنڈے ہوجانے کے بعددھونے چاہییں، ہاں! اگر آٹومیٹک مشین میں کپڑے یا برتن اس طرح دھوئے کہ بدن کے کسی حصے پریہ پانی نہیں پہنچے گا، تو اس میں حرج نہیں۔ اسی طرح اگرپانی دھوپ میں گرم ہوا، لیکن گرم موسم میں گرم نہیں ہوا، بلکہ سردیوں میں ہوا، یا گرم ملک میں گرم نہیں ہوا، بلکہ کسی ٹھنڈے ملک میں ہوا، یا کسی دھات کے برتن میں نہیں ہوا، بلکہ مٹی یا لکڑی وغیرہ کے برتن میں گرم ہوا، یا حوض وغیرہ میں گرم ہوا، یا دھات کے علاوہ کسی اورچیزکی بنی ہوئی ٹینکی وغیرہ میں گرم ہوا، تو ایسی صورت میں اس پانی کے بدن پربھی استعمال میں حرج نہیں، لہذا جس طرح چاہیں اس سے کپڑے اوربرتن دھو سکتے ہیں، کوئی حرج نہیں۔

رد المحتار میں ہے قال ابن حجر: و استعماله يخشى منه البرص كما صح عن عمر رضي اللہ عنه۔ ۔ ۔ و ذكر شروط كراهته عندهم، و هي أن يكون بقطر حار وقت الحر في إناء منطبع غير نقد، و أن يستعمل و هو حار. أقول: و قد منا في مندوبات الوضوء عن الإمداد أن منها أن لا يكون بماء مشمس، و به صرح في الحلية مستدلا بما صح عن عمر من النهي عنه؛ و لذا صرح في الفتح بكراهته، و مثله في البحر و قال في معراج الدراية و في القنية: و تكره الطهارة بالمشمس، «لقوله صلى الله عليه و سلم لعائشة رضي الله عنها حين سخنت الماء بالشمس: لا تفعلي يا حميراء، فإنه يورث البرص» و عن عمر مثله۔ ۔ ۔ وفي الغاية: و كره بالمشمس في قطر حار في أوان منطبعة، و اعتبار القصد ضعيف، و عدمه غير مؤثر اهـ ما في المعراج، فقد علمت أن المتعمد الكراهة عندنا لصحة الأثر۔ ۔ ۔ . و الظاهر أنها تنزيهية عندنا أيضا، بدليل عده في المندوبات

 ترجمہ: ابنِ حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: اس (دھوپ میں گرم ہوئے پانی) کے استعمال سے برص (کوڑھ) کا اندیشہ ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح طور پر منقول ہے۔ اور ان کے نزدیک اس کے مکروہ ہونے کی چند شرطیں ذکر کی گئی ہیں، اور وہ یہ ہیں: یہ پانی گرم علاقے میں، گرمی کے وقت، ایسے برتن میں ہو جو سونا چاندی کے علاوہ سے بنا ہو، اور اسے اسی حالت میں استعمال کیا جائے کہ وہ گرم ہو۔ میں کہتا ہوں: ہم نے وضو کے مستحبات کے بیان میں امداد کے حوالے سے یہ بات پہلے ذکر کر دی ہے کہ وضو کا پانی دھوپ میں گرم کیا ہوا نہ ہو۔ اور حلیہ میں بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح روایت میں موجودممانعت سے استدلال کرتے ہوئے، اسی کی صراحت کی گئی ہے، اسی وجہ سے فتح القدیر میں اس کے مکروہ ہونے کی صراحت کی گئی ہے، اور اسی کی مثل بحر میں ہے۔ اور معراج الدرایۃ میں فرمایا: قنیہ میں ہے: دھوپ میں گرم کیے ہوئے پانی سے طہارت مکروہ ہے، اس حدیث کی بنا پر کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا، جب انہوں نے پانی دھوپ میں گرم کیا: اے حمیرا! ایسا نہ کرو، کیونکہ یہ برص پیدا کرتا ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی اسی کی مثل روایت ہے۔ اور غایہ میں ہے: گرم علاقے میں، دھوپ میں گرم کیے ہوئے پانی سے، ایسے برتنوں میں جو دھات کے بنے ہوں، طہارت مکروہ ہے۔ اور قصد کا اعتبار ضعیف ہے، اور قصد نہ ہونا مؤثر نہیں ہے۔ معراج کی عبارت ختم ہوئی۔ پس تم جان چکے کہ ہمارے نزدیک معتمد کراہت ہے، کیونکہ اس بارے میں اثر صحیح ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ ہمارے نزدیک بھی یہ کراہت تنزیہی ہے، اس دلیل سے کہ فقہاء نے اسے وضو کے مستحبات میں شمار کیا ہے۔ (رد المحتار، جلد 1، صفحہ 358، 359، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے دھوپ کا گرم پانی مطلقا مگر گرم ملک گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہوجائے وہ جب تک ٹھنڈا نہ ہولے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے نہ غسل سے نہ پینے سے یہاں تک کہ جو کپڑا اس سے بھیگا ہو جب تک سرد نہ ہوجائے پہننا مناسب نہیں کہ اُس پانی کے بدن کو پہنچنے سے معاذ اللہ احتمالِ برص ہے اختلافات اس میں بکثرت ہیں اور ہم نے اپنی کتاب منتہی الآمال فے الاوفاق و الاعمال میں ہر اختلاف سے قول اصح و ارجح چنا اور مختصر الفاظ میں اُسے ذکر کیا اُسی کی نقل بس ہے۔ ۔ 

و قیدہ العلماء بقیود ان یکون فی قطر ووقت حارین و قد تشمس فی منطبع صابر تحت المطرقۃ کحدید و نحاس علی الاصح الا النقدین علی المعتمد دون الخزف و الجلود و الا حجار و الخشب و لا للشمس فی الحیاض و البرک قطعا و ان یستعمل فی البدن و لو شربا لا فی الثوب الا اذا لبسہ رطبا اومع العرق وان یستعمل حارا فلو برد لاباس علی الاصح وقیل لافرق علی الصحیح و وجہ و رد فالاول الاوجہ قیل و ان لایکون الاناء منکشفا و الراجح و لو فالحاصل منع ایصال الماء المشمس فی اناء منطبع من غیر النقدین الی البدن فی وقت و بلد حارین مالم یبرد و اللہ تعالٰی اعلم

 (اور علما نے اس میں کچھ قیود لگائی ہیں مثلاً یہ کہ وہ گرم علاقے میں، گرم وقت میں ہو، کسی دھات کے بنے ہوئے جیسے لوہے تانبے کے برتن میں گرم ہوا ہو اصح قول کے مطابق، نہ کہ سونے چاندی کے برتن میں معتمد قول کے مطابق، نہ کہ مٹی، کھال، پتھّر اور لکڑی کے برتنوں میں، اورنہ کہ حوض اور گڑھے میں سورج سےگرم شدہ ہو، اور یہ کہ پانی بدن میں استعمال ہوا ہو، اگرچہ پینے کی صورت میں ہو، نہ کہ کپڑےمیں، ہاں اگر کپڑا دھو کر تر ہی پہن لیا تو خطرہ ہے، یا کپڑا پہنا اور جسم پر پسینہ تھا، اوریہ کہ پانی گرم استعمال کیا جائے،پس اگر ٹھنڈا ہونے کے بعد استعمال کیا تو حرج نہیں، اصح قول یہی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحیح قول پرفرق نہیں، اور اس کوموجہ کہا گیا ہے، اور اس کی ردکیا گیا ہے، تو پہلا ہی اوجہ ہے، یہ قول بھی کیاگیاہے کہ برتن کھُلا ہوا نہ ہو، اور راجح و  لو کان الاناء منکشفا ہے (یعنی اگرچہ برتن کھلا ہو) تو خلاصہ یہ ہے کہ دھوپ کے گرم پانی کا سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کے برتن سے جسم پر پہنچانا، گرم وقت میں اور گرم علاقہ میں بلا ٹھنڈا کیے ممنوع ہے و اللہ تعالٰی اعلم)۔ (مزید فرمایا) اور تحقیق یہ ہے کہ ہمارے نزدیک بھی اُس پانی سے وضو و غسل مکروہ ہے کما صرح بہ فی الفتح و البحر و الدرایۃ و القنیۃ و النھایۃ (جیسا کہ فتح، بحر، درایہ، قنیہ اور نہایہ میں صراحت کی گئی ہے۔ ت) اور یہ کراہت شرعی تنزیہی ہے۔ ( فتاوی رضویہ ، جلد 02، صفحہ 466، 465، رضافاؤنڈیشن ،لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: جو پانی گرم ملک میں گرم موسم میں سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ میں گرم ہو گیا، تو جب تک گرم ہے اس سے وُضو اور غُسل نہ چاہیے، نہ اس کو پینا چاہیے بلکہ بدن کو کسی طرح پہنچنا نہ چاہیے، یہاں تک کہ اگر اس سے کپڑ ا بھیگ جائے تو جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے اس کے پہننے سے بچیں کہ اس پانی کے استعمال میں اندیشہ برص ہے، پھر بھی اگر وُضو یا غُسل کر لیا تو ہو جائے گا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 334، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5203
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر 1448ھ / 21 جولائی 2026ء