کنویں میں بکری کی مینگنی گرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کنویں میں بکری کی مینگنیاں گر جائیں تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کنویں میں بکری کی مینگنیاں گر جائیں، تو وہ پانی پاک رہے گا یا نہیں ؟ اور اس پانی سے وضو جائز ہوگا یا نہیں ؟
جواب
مینگنیاں اگرچہ ناپاک ہیں، لیکن ضرورت کی بنیاد پر شریعتِ مطہرہ نے تھوڑی مقدار میں ان کو معاف رکھا ہے، لہذا کنویں میں مینگنیاں تھوڑی مقدار میں ہوں، تو پانی ناپاک نہیں ہوگا، اور اس سے وضو بھی جائز ہوگا، البتہ! زیادہ مقدار میں ہوں، تو ایسی صورت میں پانی کی ناپاکی کا حکم ہو گا، اور ناپاک پانی سے وضو نہیں ہو سکتا۔
ہدایہ میں ہے "فإن وقعت فيها بعرة أو بعرتان من بعر الإبل أو الغنم لم تفسد الماء" استحسانا۔۔۔وجه الاستحسان أن آبار الفلوات ليست لها رؤوس حاجزة والمواشي تبعر حولها فتلقيها الريح فيها فجعل القليل عفوا للضرورة، ولا ضرورۃ فی الکثیر" ترجمہ: اگر کنویں میں اونٹ یا بکری کی ایک یا دو مینگنیاں گر جائیں، تو استحساناً پانی ناپاک نہیں ہو گا۔ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ جنگلوں کے کنوؤں پر عموماً کوئی (حفاظتی) منڈیر نہیں ہوتی، اور جانور ان کے آس پاس مینگنیاں کرتے ہیں، پھر ہوا ان مینگنیوں کو اڑا کر کنویں میں ڈال دیتی ہے، لہذا ضرورت کے پیش نظر تھوڑی مقدار کو معاف قرار دیا گیا ہے، اور کثیر میں کوئی ضرورت نہیں۔ (ہدایہ، جلد 1، صفحہ 40، مطبوعہ: لاہور)
فتاوی عالمگیری میں ہے ”وبعر الإبل والغنم إذا وقع في البئر لا يفسد ما لم يكثر“ ترجمہ: اونٹ یا بکری کی مینگنیاں اگر کنویں میں گر جائیں، تو کنواں ناپاک نہیں ہو گا، جب تک کہ یہ کثیر نہ ہوں ۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 19، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے "مینگنیاں اور گوبر اور لید اگرچہ ناپاک ہیں مگر کوئیں میں گر جائیں تو بوجہِ ضرورت ان کا قلیل معاف رکھا گیا ہے، پانی کی ناپاکی کا حکم نہ دیا جائے گا ۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 335، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5198
تاریخ اجراء: 01 صفر المظفر 1448ھ/16 جولائی 2026ء