ناک پر پٹی کی صورت میں وضو اور سجدے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ناک کی ہڈی ٹوٹنے کے سبب اس پر پٹی کروائی ہو، تو وضو و سجدے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ناک کی ہڈی ٹوٹ جائے، اور اُس پر پٹی کروائی ہو، تو وضو اور سجدے کا کیا حکم ہو گا؟
جواب
اگر کسی شخص کی ناک کی ہڈی ٹوٹ جائے، اور اس نے اس پر پٹی کروائی ہو تو اس کے وضو و غسل میں ناک کے اس حصے کو دھونے کے متعلق حکم شرع یہ ہے کہ اگر پٹی کھول کر پانی بہانا نقصان دہ نہ ہوتو وضو و غسل میں پٹی کھول کر اس جگہ کو دھونا ہوگا اور اگر دھونا تو نقصان دہ ہو، مگر گیلا ہاتھ پھیر لینا نقصان دہ نہ ہو، تو پٹی کھول کر گیلے ہاتھ کا مسح کرنا ہوگا، لیکن اگر پٹی کھول کر دھونا یا مسح کرنا تو نقصان دہ نہیں مگر پٹی دوبارہ صحیح سے نہیں باندھ سکے گا اور نقصان ہوگا، تو اب پٹی کھولنا ضروری نہیں بلکہ پٹی کے اوپر ہی سے پانی بہا لے اور اگر پانی نقصان دے تو گیلے ہاتھ کامسح کرلے۔ اور اگر پٹی پر مسح کرنا بھی نقصان دہ ہو تو اتنے حصے کو چھوڑ دے اور باقی اعضائے وضو کو دھولے کہ اس کے حق میں اس حصہ کو دھونے یا مسح کرنے کا حکم ساقط ہے۔
اور جہاں تک سجدہ کی حالت میں ناک کو زمین پر لگانے کا حکم ہے تو احناف کے نزدیک جس کو عذر نہ ہو، اس کے لیے حالتِ سجدہ میں ناک کو اس طرح جمانا واجب ہے کہ جو حصہ ناک کا نرم ہے، اس کے دبنے کے بعد ناک کی ہڈی زمین پر جم جائے، لہذا اگر حرج و ضرر نہ ہو، تواسی طرح ناک زمین پر جمانا واجب ہے، اور اگر ناک کو زمین پر لگانے میں حرج یا ضرر ہو، تو پھر فقط پیشانی زمین پر لگاسکتے ہیں۔
بالترتیب جزئیات:
زخم کی جگہ کو کب دھویا جائے گا، کب اس پر مسح کیا جائے گا اور کب مسح کرنا بھی معاف ہے؟ اس حوالے سے تفصیل بیان کرتے ہوئے در مختار میں ہے ”لزوم غسل المحل و لو بماء حار، فإن ضر مسحه، فإن ضر مسحها، فإن ضر سقط أصلا“ ترجمہ: (وضو و غسل میں اولاً) زخم کی جگہ کو دھونا ہی لازم ہے اگرچہ گرم پانی سے ہو اور اگر دھونے سے ضرر ہو تو مسح کرے، اگر زخم کی جگہ پر مسح کرنے سے بھی ضرر ہو تو پٹی پر مسح کرے، اگر پٹی پر مسح کرنے سے بھی ضرر ہو تو اس عضو کو دھونے یا مسح کرنے کا حکم سقط ہوجائے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 01، صفحہ 517، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا: ”زید کی ران میں پھوڑا یا اور کوئی بیماری ہے ڈاکٹر کہتا ہے پانی یہاں نقصان کرے گا مگر صرف اسی جگہ مضر ہے اور بدن پر ڈال سکتا ہے اس حالت میں وضو یا غسل کے لیے تیمم درست ہے یا نہیں؟ اگر درست ہے تو تیمم غسل کا ویسا ہی ہے جیسا وضو کا؟ یا کیا حکم ہے؟"
آپ علیہ الرحمۃ نے اس سوال کا جواب دیا: ”صورتِ مسئولہ میں غسل یا وضو کسی کیلئے تیمم جائز نہیں وضو کیلئے نہ جائز ہونا تو ظاہر کہ ران کو وضو سے کوئی علاقہ نہیں اور غسل کیلئے یوں نا روا کہ اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہے لہٰذا وضو تو بلاشبہ تمام و کمال کرے اور غسل کی حاجت ہو تو اگر مضرت صرف ٹھنڈا پانی کرتا ہے گرم نہ کرے گا اور اسے گرم پانی پر قدرت ہے تو بیشک پورا غسل کرے اتنی جگہ کو گرم پانی سے دھوئے باقی بدن گرم یا سرد جیسے سے چاہے، اور اگر ہر طرح کا پانی مضر ہے یا گرم مضر تو نہ ہوگا مگر اسے اس پر قدرت نہیں تو ضرر کی جگہ بچا کر باقی بدن دھوئے اور اس موضع پر مسح کرلے اور اگر وہاں بھی مسح نقصان دے مگر دوا یا پٹی کے حائل سے پانی کی ایک دھار بہا دینی مضر نہ ہوگی تو وہاں اُس حائل ہی پر بہادے باقی بدن بدستور دھوئے اور اگر حائل پر بھی پانی بہانا مضر ہو تو دوا یا پٹی پر مسح ہی کر لے اگر اس سے بھی مضرت ہو تو اُتنی جگہ خالی چھوڑ دے۔ جب وہ ضرر دفع ہو تو جتنی بات پر قدرت ملتی جائے بجا لاتا جائے۔ ۔۔۔۔یہی سب حکم وضو میں ہیں ۔ اگر اعضائے وضو میں کسی جگہ کوئی مرض ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 01 (ب)، صفحہ 617، 618، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”کسی پھوڑےیا زخم یا فصد کی جگہ پر پٹی باندھی ہو کہ اس کو کھول کر پانی بہانے سے یا اس جگہ مسح کرنے سے یا کھولنے سے ضرر ہو یا کھولنے والا باندھنے والا نہ ہو تو اس پٹی پر مسح کر لے اور اگر پٹی کھول کر پانی بہانے میں ضرر نہ ہو تو دھونا ضروری ہے یا خود عضو پر مسح کر سکتے ہوں تو پٹی پر مسح کرنا جائز نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 368، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سجدے میں ناک کی ہڈی لگانا واجب ہے، اس کے متعلق مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے ”یجب ضم الانف (ای ما صلب منہ) للجبھۃ فی السجود للمواظبۃ علیہ“ ترجمہ: سجدے میں پیشانی کے ساتھ ناک کا سخت حصہ ملانا واجب ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، فصل فی بیان واجبات الصلاۃ، صفحہ 139، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے "پیشانی کا زمین پر جمنا سجدہ کی حقیقت ہے ۔۔۔ناک کی ہڈی زمین پر لگنا ضرور ہے۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 513، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
عذر کی وجہ سے ناک زمین پر نہ لگانے کے متعلق فتاوٰی عالمگیری میں ہے ”لو وضع أحدهما فقط، إن كان من عذر لا يكره‘‘ ترجمہ: اگر عذر کی وجہ سے ان دونوں (ناک اور پیشانی) میں سے کسی ایک کو (سجدہ کی حالت میں زمین پر) لگایا، تو مکروہ نہیں۔ (فتاوٰی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ:کوئٹہ)
فتاویٰ امجدیہ میں ہے "سجدہ میں پیشانی کا زمین پر جمنا فرض ہے اور ناک اس طرح جمانا کہ جو حصہ ناک کا نرم ہے، اس کے دبنے کے بعد ناک کی ہڈی زمین پر جَم جائے یہ واجب، اگر ناک کی نوک زمین سے چھو گئی اور ہڈی نہ لگی، نماز واجب الاعادہ ہوئی، حدیث میں ارشاد ہوا ”امرت ان اسجد علی سبعۃ اعظم واشار الی انفہ“ یعنی پیشانی زمین پر لگنے کا یہ مطلب ہے کہ ناک کی ہڈی بھی زمین ہر لگ جائے۔" (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 84، 85، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5207
تاریخ اجراء: 03 صفر المظفر 1448ھ/18 جولائی 2026ء