logo logo
AI Search

مختلف کپڑوں کی نجاست جمع ہوکر مانعِ نماز بنتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

متعدد کپڑوں پر نجاستِ غلیظہ کا مجموعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ مسئلہ شرعیہ ہے کہ کپڑے پر چند جگہ نَجاستِ غلیظہ لگی اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے، تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد۔ اب اس میں یہ پوچھنا ہے کہ اگرنجاست ایک سے زائد کپڑوں میں لگی ہومثلاً کچھ قمیص پر لگی ہو اور تھوڑی سی شلوار پر، اور دونوں جگہ درہم سے کم ہو لیکن مجموعہ درہم سے زائد ہو تو کیا یہ بھی مانعِ نماز ہوگی یعنی قمیص و شلوار دونوں کی نجاست مجموعاً مانع کہلائے گی یا الگ الگ کپڑے کا اعتبار کیا جائے گا؟

جواب

قوانینِ شرعیہ کی رُو سے نمازی کے بدن پر موجود ایک سے زائد کپڑوں پر متفرق نجاست لگی ہو تو مانع مقدار شمار کرنے میں مستقل طور پر الگ الگ کپڑے کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ تمام کپڑوں کی مجموعی نجاست کا اعتبار ہوگا، لہٰذا اگر قمیص اور شلوار پر تھوڑی تھوڑی نجاستِ غلیظہ لگی ہو اور دونوں میں ایک درہم کے برابر نہ ہو لیکن جمع کرنے کی صورت میں درہم سے زائد ہو جائے تو مجموعاً درہم سے زائد ہی سمجھی جائے گی اور جوازِ نماز سے مانع ہوگی، یونہی نجاستِ خفیفہ کا معاملہ ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2026ء