logo logo
AI Search

بائیک کی سیٹ پر پرندے کی بیٹ پاک کرنے کا طریقہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بائیک کی سیٹ پرپرندے کی بیٹ لگ جائے، تو اسے پاک کرنے کا طریقہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ پرندے کی خشک بیٹ، جو بائیک کی سیٹ وغیرہ پر لگ جاتی ہے، کیا اسے صرف کھرچنے سے سیٹ پاک ہو جائے گی، یا دھونا ضروری ہے؟

جواب

پرندوں کی بیٹ کے حوالے سے ضابطہ شرعیہ یہ ہے کہ: وہ پرندے جو حلال ہیں، اور ہوا میں اونچے اڑتے ہیں، جیسے کبوتر، طوطا، چڑیا وغیرہ، ان کی بیٹ پاک ہے، اور جو حلال پرندے اونچا نہیں اڑتے، جیسے مرغی اور بطخ وغیرہ، ان کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے، جبکہ حرام پرندوں کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے۔

اگر بائیک کی سیٹ پر اس پرندے کی بیٹ لگی ہو، جس کی بیٹ ناپاک ہے (خواہ غلیظہ ہو یا خفیفہ)، اور سیٹ ایسی چیز کی بنی ہوئی ہو، یا اس پر کَوَر وغیرہ کوئی ایسی چیز چڑھائی گئی ہو، جس میں مسام نہ ہوں، اور کوئی لیکوڈ چیز اس میں جذب نہ ہو سکتی ہو، تو ایسی صورت میں اگر بیٹ خشک ہوچکی ہو، تو صرف کھرچ کر نجاست زائل کر دینے سے وہ پاک ہو جائے گی، اور اگر بیٹ پتلی ہو، تو اس قدر پونچھ لی جائے کہ اثر بالکل جاتا رہے، تو سیٹ پاک ہوجائے گی۔

اور اگر آپ کی بائیک کی سیٹ ایسی چیز کی بنی ہوئی ہو، کہ اس میں مسام ہوں، اس میں لیکوڈ چیز جذب ہو جاتی ہو، نیز اس پر کوئی ایسی چیز بھی نہ چڑھائی گئی ہو، جو لیکوڈ چیز جذب ہونے سے مانع ہو، تو اس کو پاک کرنے کے لیے تین مرتبہ دھونا ضروری ہے، پھر چونکہ عموماً بائیک کی سیٹ نچوڑنے کے قابل نہیں ہوتی، لہذا اسے ہر مرتبہ دھونے کے بعد، اتنی دیر کے لیے چھوڑ دیا جائے، کہ پانی کے قطرے ٹپکنا بند ہوجائیں، خشک کرنا ضروری نہیں، پھر جب تیسری مرتبہ دھونے کے بعد، قطرے ٹپکنا بند ہو جائیں، تو سیٹ پاک ہو جائے گی۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے "(و خرء) كل طير لا يذرق في الهواء كبط أهلي (و دجاج) أما ما يذرق فيه، فإن مأكولا فطاهر و إلا فمخفف" ترجمہ: ہر اُس پرندے کی بیٹ، جو ہوا میں اڑتا نہ ہو، نجاستِ غلیظہ ہے، جیسا کہ پالتو بطخ اور مرغی، جبکہ وہ پرندے جو ہوا میں اڑتے ہوں، اگر انہیں کھانا حلال ہے، تو ان کی بیٹ پاک ہے، ورنہ ان کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے۔ (در مختار، جلد 1، صفحہ 577، مطبوعہ: کوئٹہ)

بغیر مسام والی چیزیں، پونچھنے سے بھی پاک ہو جائیں گی، چنانچہ بہارشریعت میں ہے غرض وہ تمام چیزیں جن میں مسام نہ ہوں کپڑے یا پَتّے سے اس قدر پونچھ لی جائیں کہ اثر بالکل جاتا رہے پاک ہو جاتی ہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 400، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

نجاست پتلی ہو تو دھونا ضروری ہے، جیساکہ بہار شریعت میں ہے: اگر نَجاست رقیق ہو تو تین مرتبہ دھونے اور تینوں مرتبہ بقوّت نچوڑنے سے پاک ہوگا اور قوّت کے ساتھ نچوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی طاقت بھر اس طرح نچوڑے کہ اگر پھر نچوڑے تو اس سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 398، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

جو چیز نچوڑی نہ جا سکتی ہو، اس کے متعلق بحر الرائق میں ہے "ما لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثا و تجفيفه في كل مرة ۔۔۔ و هو أن يتركه حتى ينقطع التقاطر و لا يشترط فيه اليبس" ترجمہ: جو چیز نچوڑی نہیں جا سکتی، اس کی طہارت تین مرتبہ دھونے اور ہر مرتبہ تجفیف سے ہوگی، تجفیف یہ ہے کہ دھونے کے بعد اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ قطرے ٹپکنا موقوف ہو جائیں اور اس میں سکھانا ضروری نہیں۔ (بحر الرائق،ج 1، ص 413، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے (جیسے چٹائی، برتن، جُوتا وغیرہ) اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے، یوہیں دو مرتبہ اَور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا وہ چیز پاک ہو گئی اسے ہر مرتبہ کے بعد سُوکھانا ضروری نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 399، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4915
تاریخ اجراء: 03 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 21 اپریل 2026ء