logo logo
AI Search

یورینل فلش پر پیشاب کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

یورینل فلش (urinal flush) پر کھڑے ہوکر پیشاب کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض ہوٹلوں اور پبلک واشرومز میں یورینل فلش (urinal flush) لگے ہوتے ہیں، جن میں کھڑے ہوکر پیشاب کیا جاتا ہے، انہیں استعمال کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

بلاعذرِ شرعی کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ و خلافِ سنت اور کفار کا طریقہ ہے، حدیث پاک میں اس سے منع کیا گیا ہے اور یہ تہذیب کے بھی خلاف ہے، بلکہ اگر اس میں بے پردگی ہو یا بدن و کپڑوں پر نجاست کی چھینٹیں پڑیں، تو پھر ناجائز و گناہ ہے، کہ احادیث مبارکہ میں پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی گئی ہے اور اگر اس میں جسم و لباس ناپاک ہوتے ہوں تو حرام ہے، لہذا یورینل فلش استعمال نہ کیا جائے اور حتی الامکان بیٹھ کر ہی استنجاء کیا جائے۔ البتہ اگر کوئی عذر ہو، جیسے کمر یا گھٹنوں وغیرہ میں درد ہے، جس کے باعث بیٹھ کر استنجا نہیں کرسکتے یا بیٹھ کر استنجاء کرنے کی جگہ میسر نہیں یا کسی جگہ جلدی ہے اور عام ٹوائلٹ خالی نہیں اور یہی یورینل فلش ہی دستیاب ہے تو پھر بے پردگی اور نجاست سے بچتے ہوئے یورینل فلش استعمال کر سکتے ہیں۔

سنن ابن ماجہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن يبول قائماً

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ، ج 1، ص 112، حدیث 309، دار احیاء الكتب العربية، بيروت)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ، سنّتِ نصارٰی (عیسائیوں کا طریقہ) ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

من الجفاء ان یبول الرجل قائما

(بے ادبی وبدتہذیبی ہے کہ بندہ کھڑے ہوکر پیشاب کرے ۔) (فتاوٰی رضویہ، ج 4، ص 600، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کے بارے میں حدیث پاک میں ہے:

تنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبرمنہ

ترجمہ: پیشاب سے بچو کہ اکثر عذابِ قبر اُسی کے سبب ہوتا ہے۔ (سنن الدار قطنی، ج 1، ص 231، حدیث 459، مؤسسۃ الرسالہ، بيروت)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے ممانعت والی ایک حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ اور طریقۂ کفار ہے۔ جاہلیت کے لوگ گدھے بیل کی طرح کھڑے ہوکر پیشاب کیا کرتے تھے۔ اگر اس میں بے پردگی ہو یا کپڑے پر چھینٹیں پڑیں یا مشابہت کفار (فیشن) کے لیے ہو، تو مکروہ تحریمی ہے، ورنہ مکروہ تنزیہی، مجبوری کی حالت میں بلاکراہت جائز۔ (مرآۃ المناجیح، ج 1، ص 269، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

اگر کوئی عذر ہو تو پھر کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں حرج نہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے:

یکرہ البول قائما لتنجسہ غالبا الا من عذرکوجع بصلبہ

ترجمہ: کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے، کہ اس سے غالب طور پر (بدن و کپڑوں کی) ناپاکی کا اندیشہ ہوتا ہے، ہاں عذر کی وجہ سے کر سکتے ہیں، جیسے کمر میں درد ہونا۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، ص 27، المکتبۃ العصریہ، بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

یکرہ ان یبول قائما ۔۔۔ من غیر عذر، فان کان بعذر فلا باس بہ

ترجمہ: بغیر عذر کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو پھر اس میں حرج نہیں۔ ( الفتاوی الھندیہ، ج 1، ص 50، دار الفکر، بیروت)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: PIN-7739
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم1447ھ / 30مارچ 2026ء