logo logo
AI Search

کیراٹین ہیئر ٹریٹمنٹ اور وضو و غسل کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیراٹین ہیئر ٹریٹمنٹ کروانے پر وضو و غسل کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں کیراٹین ہیئر ٹریٹمنٹ کے شرعی پہلو پر رہنمائی چاہتا ہوں ۔ یہ ٹریٹمنٹ بالوں کو ہموار اور سلجھا ہوا بناتا ہے، جس سے وہ قدرتی طور پر سیدھے دکھائی دیتے ہیں، اور اس کا اثر چند مہینے تک رہتا ہے۔کیراٹین ٹریٹمنٹ ایک کیمیائی عمل ہے جس میں اسٹائلسٹ گیلے بالوں پر طاقتور کیمیکلز اور پروٹین (کیراٹین) کا آمیزہ لگاتا ہے، جسے بعد میں فلیٹ آئرن سے سیل اور فعال کیا جاتا ہے۔ یہ مرکبات بالوں کی بیرونی سطح پر تہہ بنا دیتے ہیں، جو نمی کو اندر یا باہر جانے سے روکتی ہے۔

شرعی نقطۂ نظر سے اگر کیراٹین ٹریٹمنٹ کے نتیجے میں بالوں پر ایسی تہہ بن جائے جو پانی کو جڑ تک پہنچنے سے روک دے، تو کیا اس صورت میں وضو اور غسل درست ہوں گے؟

جواب

مارکیٹ میں مختلف طرح کے فارمولے ستیاب ہیں ، ان سے متعلق حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کیراٹین ٹریٹمنٹ کے دوران ایسا کیمیکل استعمال کیا گیا جو بالوں پر ایک اضافی تہہ دار جرم بنا دیتا ہے جو پانی کو بہنے سے روکتا ہے تو ایسی ٹریٹمنٹ کروانے کی اجازت نہیں اور ایسی صورت میں وضو و غسل کے مسائل بھی پیدا ہوں گے۔

اگر کیراٹین ٹریٹمنٹ کے دوران ایسا کیمیکل استعمال کیا گیا جو جرم نہیں بناتا بلکہ بالوں کی جڑوں اور ساخت میں جذب ہو کر عام کھلی مہندی کی طرح صرف رنگ اور چمک چھوڑتا ہے تو یہ پانی بہنے سے مانع نہیں ، وضو و غسل بھی ہو جائے گا۔

یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ عموماً یہ عمل ایسی خواتین کرواتی ہیں جو اپنے بال کھلے رکھنا ، دوسروں کو دکھانا پسند کرتی ہیں حالانکہ خواتین کے بال ستر عورت میں داخل ہیں اور غیر محرم سے ان کا چھپانا ضروری ہے، بال کھول کر جانے کی ہرگز اجازت نہیں۔ اگر عورت غیرمحرموں کے سامنے بال کھول کر جائے گی تو گنہگار ہو گی۔ نیز جیسا پردہ غیر محرم مردوں سے ہے، ایسا ہی پردہ غیر مسلم عورتوں سے بھی کرنا لازم ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2392

تاریخ اجرا: 27جمادی الاولٰی1447ھ / 19 نومبر 2025ء