logo logo
AI Search

اعضائے وضو کے علاوہ کوئی حصہ پانی میں جائے تو حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بے وضو حالت میں اعضائے وضو کے علاوہ کوئی حصہ پانی میں گیا، تو وہ مستعمل ہوگا یا نہیں

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی کا وضو نہیں، لیکن اس پر غسل فرض نہیں، تو اگر اس کی ران یا کوئی ایسا عضو جس کا وضو میں دھونا فرض نہیں جیسے عورت کے پچھلے بال، پانی میں گئے، تو کیا پانی مستعمل ہوجائےگا؟

جواب

جس بے وضو شخص پر غسل فرض نہیں اس کا ران یا کوئی ایسا حصہ جس کا وضو میں دھونا ضروری نہیں، پانی میں پڑ جائے تو اس سے پانی مستعمل نہیں ہوگا اور وضو میں مسح کا مقام سر کی کھال یا اس پر موجود بال ہیں، ان پر ہی مسح ہوگا، سر سے لٹکے ہوئے بالوں پر مسح نہیں ہوتا لہٰذا لٹکے ہوئے بال پانی میں پڑ جائیں تو اس سے پانی مستعمل نہیں ہوگا۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ پانی مستعمل نہ ہونے کی صورتوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جسے حاجتِ غسل نہیں اس نے اعضائے وضو کے سوا مثلاً پیٹھ یا ران دھوئی۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 46، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ایک اور مقام پر وضو میں مسح کن بالوں پر ہوگا، اس کے متعلق فرماتے ہیں: ”مسح کی نم سر کی کھال یا خاص سر پر جو بال ہیں (نہ وہ کہ سر سے نیچے لٹکتے ہیں) ان پر پہنچنا فرض ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد1 (الف)، صفحہ 285، رضا فاؤنڈیشن لاہور )

بہار شریعت میں ہے: ’’اگر بے وُضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پَورایا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وُضو میں دھویا جاتا ہو بقصد یا بلا قصد دَہ در دَہ سے کم پانی میں بے دھوئے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے لائق نہ رہا۔ اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جِسْم کا کوئی بے دُھلاہوا حصہ پانی سے چھو جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے کام کانہ رہا۔ اگر دُھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پڑ جائے تو حَرَج نہیں۔ ‘‘ (بہار شریعت، جلد1، صفحہ 333، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2400
تاریخ اجراء: 23 محرم الحرام 1447ھ/19 جولائی 2025 ء