logo logo
AI Search

ناک صاف کرنے سے کپڑا ناپاک ہو جائے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس دوپٹے سے بچے کی ناک صاف کی اس دوپٹے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی خاتون اپنے اوڑھے ہوئے دوپٹے سے، بچے کی ناک صاف کرے، تو کیا دوپٹہ ناپاک ہو جائے گا؟

جواب

اگر رینٹھ میں بہتاخون وغیرہ کوئی ناپاک چیز شامل نہ ہو، تو اسے دوپٹے سے صاف کرنے سے دوپٹہ ناپاک نہیں ہوگا، کہ رینٹھ ناپاک نہیں ہوتی۔ معراج الدرایۃ فی شرح الھدایۃ میں ہے

”اعلم ان ما خرج من بدن الحی نوعان: طاھر بالاجماع کالدمع والعرق والریق، والمخاط“

ترجمہ: جان لو کہ زندہ آدمی کے بدن سے نکلنے والی چیزیں دو قسم کی ہیں، ان میں سے ایک قسم، بالاجماع پاک ہے، جیسے: آنسو، پسینہ، تھوک، رینٹھ۔ (معراج الدرایۃ فی شرح الھدایۃ، جلد 1، صفحہ 109، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے ”رینٹھ، کھنکار کہ پاک ہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ2، صفحہ341، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4795
تاریخ اجراء: 06 رمضان المبارک1447ھ/24 فروری 2026ء