logo logo
AI Search

پانی میں مینڈک چلا جائے تو پانی پاک رہتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پانی میں مینڈک چلا جائے تو اس کے متعلق احکام

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر مینڈک تھوڑے پانی میں چلا جائے تو کیا حکم ہے؟ تفصیل سے بیان کریں۔

جواب

اگر مینڈک تھوڑے غیرجاری پانی میں چلا جائے، اور اس پر کسی نجاست کا لگا ہونا معلوم نہ ہو، تو صرف اس کے پانی میں جانے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ پانی پاک رہتا ہے، اور اس سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے۔ بلکہ مینڈک اگر پانی میں مر بھی جائے، تب بھی پانی پاک رہے گا، چاہے وہ پھول پھٹ بھی جائے، ایسے پانی سے وضو اور غسل درست ہے۔ البتہ! اگر مینڈک ریزہ ریزہ ہو کر اس کے اجزاء پانی میں مل جائیں تو اگرچہ پانی طہارت کے اعتبار سے پاک ہوگا، مگر اس پانی کو پینا جائز نہیں ہوگا، البتہ! اگر جنگل کا بڑا مینڈک ہو، جس میں بہنے والا خون ہوتا ہے، وہ غیرجاری، تھوڑے پانی میں مر جائے، تو اس صورت میں وہ پانی ناپاک ہو جائے گا۔

البحر الرائق میں ہے "موت ما ليس له نفس سائلة في الماء لا ينجسه كالبق و الذباب و الزنابير و العقرب و نحوها و موت ما يعيش في الماء لا يفسده كالسمك و الضفدع، ملتقطا" ترجمہ: جن میں بہنے والا خون نہ ہو جیسے کھٹمل، مکھی، بھڑ اور بچھو وغیرہ ان کی موت پانی کو ناپاک نہیں کرتی اور وہ چیزیں جو پانی میں رہتی ہوں، ان کی موت سے بھی پانی ناپاک نہیں ہوتا جیسا کہ مچھلی اور مینڈک۔ (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 92، دار الكتاب الإسلامي)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: پانی میں مینڈک یا کوئی آبی جانور یا وہ غیر آبی جس میں خون سائل نہ ہو جیسے زنبور، کژدم، مکّھی وغیرہا مرجائے اُس سے وضو جائز ہے اگرچہ ریزہ ریزہ ہو کر اس کے اجزاء پانی میں ایسے مل جائیں کہ جُدا نہ ہوسکیں بشرطیکہ پانی اپنی رقّت پر رہے، ہاں اس حالت میں اس کا پینا یا شوربا کرنا حرام ہوگا جبکہ وہ جانور حرام ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 2، ص 559، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے خشکی اور پانی کے مینڈک کا ایک حکم ہے یعنی اس کے مرنے بلکہ سڑنے سے بھی پانی نجس نہ ہوگا، مگر جنگل کا بڑا مینڈک جس میں بہنے کے قابل خون ہوتا ہے اس کا حکم چوہے کی مثل ہے۔ پانی کے مینڈک کی انگلیوں کے درمیان جھلی ہوتی ہے اور خشکی کے نہیں۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 2، ص 338، مکتبۃ المدینہ)

فتاوی امجدیہ میں ہے پانی کا مینڈک بلکہ خشکی کا بھی جبکہ بہت بڑا نہ ہو جس میں خون سائل ہوتا ہے، اگر کنویں میں مر جائے یا مرا ہوا گر جائے بلکہ پھول پھٹ جائے تو بھی پانی پاک ہے اور اس سے وضو و غسل جائز مگر جب ریزہ ریزہ ہو کر اس کے اجزا پانی میں مل جائیں تو اس پانی کا پینا حرام ہے، اور خشکی کا بڑا مینڈک جس میں خون سائل ہو پانی میں مر جائے تو نجس ہو جائے گا۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 20، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5029
تاریخ اجراء: 05 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 22 مئی 2026ء