logo logo
AI Search

ناپاک جوتوں کو پاک کیسے کیا جائے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ناپاک جوتوں کو پاک کرنے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بچے کے پیشاب کرنے کی وجہ سے جوتے ناپاک ہو جائیں، تو اُنہیں پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ سائل: (مہد رضا، فیصل آباد)

جواب

سوال میں بیان کردہ مسئلے کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں، ان کا حکم مع تفصیل درج ذیل ہے:

(1) اگر جوتا ایسی چیز کا بنا ہو جس میں مسام ہوں اور اُس میں نجاست (پیشاب وغیرہ) جذب ہو سکتی ہو، جیسا کہ کپڑے وغیرہ کے جوتے، نیز اس پر کوئی ایسی تہہ بھی نہ ہو جو نجاست کے جذب ہونے سے مانع ہو، تو اُسے پاک کرنے کے لیے دھونا ضروری ہے، خواہ نجاست تر ہو یا خشک ہو چکی ہو۔ ایسی چیز جس کو نچوڑا نہ جا سکتا ہو اور اس پر غیر جرم دار (جیسے پیشاب وغیرہ پتلی قسم کی) نجاست لگ جائے، تو اُسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ اچھی طرح دھو کر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے، پھر اِسی طرح دوسری اور تیسری بار دھویا جائے، تیسری مرتبہ دھونے کے بعد جب پانی ٹپکنا بند ہو جائے، تو وہ پاک ہو جائے گا، البتہ ہر بار مکمل خشک کرنا ضروری نہیں۔ دوسرا اور آسان طریقہ یہ ہے کہ اُسے نَل کے نیچے رکھ کر اتنا پانی بہایا جائے یا بہتے پانی میں اتنی دیر رکھا جائے کہ نجاست کے ختم ہونے کا غالب گمان ہو جائے، تو بھی جوتا پاک ہو جائے گا، کیونکہ اصل مقصود ازالۂ نجاست یعنی ناپاکی کو دور کرنا ہے۔

(2) اگر جوتا ایسی چیز کا بنا ہو جس میں مسام نہ ہوں اور اُس میں غیر جرم دار نجاست جذب نہ ہو سکتی ہو، جیسے ربڑ یا پلاسٹک وغیرہ کے جوتے، تو ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ صرف تین بار دھو لینے سے بھی وہ پاک ہو جائے گا، اُسے اتنی دیر تک چھوڑنا ضروری نہیں کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے اور اِس صورت میں اگر دھونے کی بجائے کسی گیلے کپڑے سے اِس طرح پُونچھ کر صاف کر دیا کہ نجاست کا اثر ختم ہو جائے، تو بھی وہ پاک ہو جائےگا، مگر گیلے کپڑے وغیرہ سے صاف کرنے میں ان دو باتوں کی احتیاط ضروری ہے: (1) جوتے میں کہیں دراڑ نہ ہو یا کہیں سے کچھ اکھڑا یا پھٹا ہوا حصہ نہ ہو، الغرض کسی طرح کا بھی کُھردرا پن ہونے کی صورت میں اس حصے کا پونچھنا کافی نہیں ہو گا، بلکہ دھو کر پاک کرنا ضروری ہوگا۔

(2) نجاست صاف کرنے کے لیے جب ایک بار گیلے کپڑے کو استعمال کر لیا، تو دوسری بار اُسی سے پونچھنے کی اجازت نہیں، بلکہ یا تو الگ سے پاک اور گیلا کپڑا لے کر اُس سے صاف کیا جائے یا پہلے والے کو دھو کر پاک کر کے دوبارہ استعمال کیا جائے۔

بالترتیب جزئیات ملاحظہ کیجئے:

ایسی چیز جس کو نچوڑا نہ جا سکتا ہو اور اُس میں مسام ہوں، تو اُس کو دھو کر پاک کرنے کے متعلق علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں: ”(قوله: ‌وبتثليث ‌الجفاف فيما لا ينعصر) أي ما لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثا وتجفيفه في كل مرة لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وهو أن يتركه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس، أطلقه فشمل ما تداخله أجزاء النجاسة أو لا“ ترجمہ: ماتن علیہ الرحمۃ کا قول: جس کو نچوڑا نہ جا سکتا ہو اُس کو تین بار دھو کر خشک کرنے سے وہ پاک ہو گا، یعنی ہر وہ چیز جس کو نچوڑا نہ جاسکتا ہو، وہ تین بار دھونے اور ہر بار سکھانے سے پاک ہو گی، کیونکہ نجاست نکالنے میں خشک کرنے کا بہت عمل دخل ہوتا ہے اور یہاں خشک کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ہر بار دھو کر چھوڑ دے، یہاں تک کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے، البتہ اس کو (دھوپ وغیرہ میں کما فی الرضویہ) خشک کرنا شرط نہیں ہے، ماتن یعنی صاحبِ کنز نے (مسام و غیر مسام کی قید کے بغیر) مطلق بیان کیا تاکہ یہ اس چیز کو بھی شامل ہو جائے جس میں اجزائے نجاست جذب ہو جاتے ہیں اور اس کو بھی جس میں جذب نہیں ہوتے۔ (بحر الرائق، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، جلد 1، صفحہ 413، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے (جیسے چٹائی، برتن، جُوتا، وغیرہ) اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے، یوہیں دو مرتبہ اَور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا، وہ چیز پاک ہو گئی، اُسے ہر مرتبہ کے بعد سُکھانا ضروری نہیں۔ “(بھار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ  399، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ایسی چیز کو تین بار دھونے کی بجائے، جاری پانی میں رکھ کر دھویا، تب بھی پاک ہو جائے گی، جب کہ نجاست کا اثر باقی نہ رہے، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”اصل یہ ہے کہ جتنی دیر میں یہ ظنِ غالب ہو جائے کہ پانی نَجاست کو بہا لے گیا پاک ہو گیا، کہ بہتے پانی سے پاک کرنے میں نچوڑنا شرط نہیں۔“ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 399، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ہر وہ چیز جس میں مسام نہ ہوں اور کوئی لیکوڈ چیز اس میں جذب نہ ہوسکتی ہو، نیز اس میں کوئی دراڑ، کھردار پن، وغیرہ بھی نہ ہو، تو اُس کو تین بار دھونے سے ہی وہ پاک ہو جائے گی، ہر بار پانی ٹپکنا بند ہونے کی شرط نہیں، جیسا کہ صدر الشریعہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نَجاست جذب نہ ہو ئی، جیسے چینی کے برتن، یا مٹی کا پرانا استعمالی چکنا برتن یا لوہے، تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں، تو اسے فقط تین بار دھو لینا کافی ہے، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 399، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بلامسام چیز پر جِرم دار و غیرِ جِرم دار نجاست لگ جائے، تو اُسے کپڑے سے پُونچھ کر بھی پاک کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”سواء أصابه نجس له جرم أو لا، رطبا كان أو يابسا على المختار للفتوى شرنبلالية عن البرهان.قال في الحلية: والذي يظهر أنها لو يابسة ذات جرم تطهر بالحت والمسح بما فيه بلل ظاهر من خرقة أو غيرها حتى يذهب أثرها مع عينها، ولو يابسة ‌ليست ‌بذات ‌جرم كالبول والخمر فبالمسح بما ذكرناه لا غير، ولو رطبة ذات جرم أو لا فبالمسح بخرقة مبتلة أو لا“ ترجمہ: نجاست خواہ ایسی ہو جس کا کوئی جِرم ہو یا نہ ہو، تر ہو یا خشک، مختار قول کے مطابق اس کا حکم ایک ہی ہے (یعنی پُونچھنے سے پاک ہو جائے گی)، جیسا کہ علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ نے ”البرھان“ سے نقل کیا ہے۔ ”حلیۃ“ میں فرمایا: ظاہر یہ ہوتا ہے کہ اگر نجاست خشک ہو اور جِرم والی ہو، تو اسے کھرچنے اور کسی ایسی چیز سے رگڑنے کے ذریعے پاک کیا جا سکتا ہے جس میں کچھ نہ کچھ تَری ہو، جیسے کپڑا وغیرہ، یہاں تک کہ اس کا اثر مکمل طور پہ ختم ہو جائے۔ اور اگر خشک نجاست جِرم والی نہ ہو، جیسے پیشاب اور شراب، تو اُس کو اسی چیز کے ساتھ ہی پُونچھ کر صاف کیا جا سکتا ہے جس کو ہم نے ذکر کیا (یعنی گیلے کپڑے کے ساتھ) اِس کے علاوہ (یعنی کھرچنے) سے نہیں۔ اور اگر نجاست تر ہو، خواہ اس کا جِرم ہو یا نہ ہو، تو اُسے کسی بھی کپڑے سے پونچھنے کے ذریعے پاک کیا جائے گا، چاہے وہ کپڑا تر ہو یا خشک۔ (رد المحتار علی الدر المختار، باب الانجاس، جلد 1، صفحہ 563، مطبوعہ کوئٹہ)

مذکورہ بالا عبارت کے تحت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”(قولہ: والمسح بما فیہ) لاذھاب اثرھا۔(قولہ: فبالمسح) ولا حتّ؛ اذ لاجرم۔(قولہ: مبتلۃ او لا) لان الرطبۃ یذھب المسح ولو خرقۃ یابسۃ عینھا و اثرھا جمیعا، کما لا یخفی“ یعنی: (محشی علیہ الرحمۃ کا قول: ”ایسی چیز سے پونچھنا جس میں کچھ تری ہو) تاکہ نجاست کے اثر کو ختم کیا جا سکے۔ (اور ان کا قول: صرف پونچھنے سے پاک ہو جائے گی) اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جِرم دار نہ ہونے کی وجہ سے کھرچنے سے پاک نہیں ہوگی۔ (اور ان کا قول: چاہے کپڑا تر ہو یا خشک) اس لیے ہے کہ جو نجاست تر ہو، وہ پونچھنے سے، اگرچہ خشک کپڑے کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، اپنی ذات اور اثر دونوں سمیت ختم ہو جاتی ہے، جیسا کہ یہ بات واضح ہے۔ (جد الممتار، جلد  02، صفحہ  350، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جس صورت میں پُونچھ کر پاک کرنے کی اجازت ہے، اُس میں جتنی بار صاف کریں گے، ہر بار صاف کرنے والے کپڑے کا خود بھی پاک ہونا ضروری ہے، لہٰذا یا تو اُسی کپڑے کو دھو کر پاک کر کے دوسری اور تیسری بار استعمال کیا جائے یا ہر بار نیا پاک اور گیلا کپڑا لیا جائے، اِس انداز میں صاف کرنا دھونے کے قائم مقام ہوگا، چنانچہ علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”ممایطھر بالمسح۔۔۔ففي الظهيرية إذا مسحها بثلاث خرق رطبات نظاف ‌أجزأه ‌عن ‌الغسل، وأقره في الفتح“ ترجمہ: جو چیزیں مسح (یعنی پونچھنے) سے پاک ہو جاتی ہیں، ان کے متعلق ”فتاویٰ ظہیریہ“ میں ہے کہ جب اس جگہ کو کپڑے کے تین گیلے پاک ٹُکڑوں سے پُونچھا، تو یہ اسے دھونے کے قائم مقام ہے اور ”فتح القدیر“ میں اسے برقرار رکھا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 563، مطبوعہ کوئٹہ)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”فقیر غفر اللہ تعالیٰ اِسی پر فتویٰ دیتا ہے کہ بدن سے نجاست دور کرنے میں دھونا یعنی پانی وغیرہ بہانا شرط نہیں بلکہ اگر پاک کپڑا پانی میں بھگو کر اس قدر پونچھیں کہ نجاست مرئیہ ہے تو اس کا اثر نہ رہے مگر اُتنا جس کا ازالہ شاق ہو اور غیر مرئیہ ہے تو (اتنا صاف کرے کہ) ظن غالب ہو جائے کہ اب باقی نہ رہی اور ہر بار کپڑا تازہ لیں یا اُسی کو پاک کر لیا کریں، تو بدن پاک ہو جائے گا، اگرچہ ایک قطرہ پانی کا نہ بہے۔ یہ مذہب ہمارے امامِ مذہب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے اور یہاں امام محمد(رحمۃ اللہ علیہ) بھی اُن کے موافق ہیں اور بہت اکابر ائمہ فتویٰ (رحمھم اللہ) نے اسے اختیار فرمایا اور عامۂ کتب معتبرہ مذہب میں بہت فروع اسی پر مبتنی ہیں، تو اس پر بے دغدغہ عمل کیا جاسکتا ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 4، صفحہ  464، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9920
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم 1447ھ/ 14 اپریل 2026 ء