عورت کو مخصوص ایام میں نماز کے وقت کیا کرنا چاہئیے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مخصوص ایام میں عورت نماز کے وقت کیا کرے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بہار شریعت میں مسئلہ لکھا ہے: نماز کے وقت میں وضو کر کے اتنی دیر تک ذکرِ الہی، درود شریف اور دیگر وظائف پڑھ لیا کرے جتنی دیر تک نماز پڑھا کرتی تھی کہ عادت رہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ یہ حکم صرف فرض نمازوں کے ساتھ خاص ہے یا نوافل کے وقت بھی اس کو اختیار کر سکتی ہےجیسےکسی اسلامی بہن کی اشراق وچاشت کی عادت ہو تو کیا اس وقت بھی یہ کر سکتی ہے؟
جواب
بہار شریعت میں جو مسئلہ لکھا ہے وہ صرف فرض نماز کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ جو عورت نوافل جیسے اشراق، چاشت یا تہجد کی پابند ہو، ایسی عورت کو اگر حیض ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ ان نوافل کے اوقات میں بھی وضو کر کے کچھ دیر یادِ الٰہی کرلیا کرے، ذکر اذکار کرلے تاکہ عبادت کی عادت باقی رہے۔
خاتمۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر المعروف ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:
قالوا بوضوء الحائض يصير مستعملاً لانه يستحب لها الوضوء لكل فريضة وان تجلس فی مصلاها قدرها كی لا تنسى عادتها و مقتضى كلامهم اختصاص ذلك بالفريضة وينبغی انها لو توضّأت لتهجد عادی او صلاة ضحى و جلست فی مصلاها ان يصير مستعملا و لم أره لهم و أقرّه الرملی و غيره و وجهه ظاهر فلذا جزم به الشارح فأطلق العبادة تبعا لجامع الفتاوى فانه قال: يستحب لها ان تتوضّأ فی وقت الصلاة و تجلس فی مسجدها تسبح و تهلل مقدار ادائها لئلا تزول عادة العبادة
یعنی فقہائے کرام نے فرمایا کہ حائضہ اگر (ثواب کی نیت سے) وضو کرے تو پانی مستعمل ہوجائے گا کیونکہ اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ ہر فرض نماز کےلئے وضو کرے اور جتنی دیر تک نماز پڑھا کرتی تھی اتنی دیر تک نماز گاہ میں بیٹھا کرے تاکہ اپنی عادت بھول نہ جائے اور فقہائے کرام کے کلام سے لگتا یہ ہے کہ یہ حکم صرف فرض نماز کے ساتھ خاص ہے حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ اگر تہجد یا اشراق، چاشت کی پابند حائضہ خاتون نے ان نمازوں کےلئے وضو کیا اور نماز گاہ میں بیٹھی تو بھی اس وضو سے پانی مستمعل ہوجائے گا لیکن میں نے اس کی صراحتِ کتبِ فقہاء میں نہیں دیکھی اوراس مسئلے کو امام رملی اور دیگر علماء نے برقرار رکھا ہےاور پانی مستعمل ہونے کی وجہ بھی واضح ہے لہذا شارح (صاحبِ در مختار) نےعبادت کو مطلق رکھا جامع الفتاوی کتاب کی اتباع میں، اس میں لکھا ہے کہ عورت کے لئے مستحب ہے کہ نماز کے وقت میں وضو کرے اور نماز گاہ میں بیٹھی رہے، اتنی دیرتسبیح و تہلیل کرے جتنی دیر میں نماز پڑھتی تھی تاکہ عبادت کی عادت بنی رہے۔ (ردّ المحتار علیا لدرّ المختار، ج 01، ص 386، مطبوعہ کوئٹہ)
شیخ الاسلام و المسلمین امامِ اہلسنت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حائض و نفساء کو جب تک حیض و نفاس باقی ہے، وضو و غسل کا حکم نہیں مگر انہیں مستحب ہے کہ نماز پنجگانہ کے وقت اور اشراق و چاشت و تہجد کی عادت رکھتی ہو تو ان وقتوں میں بھی وضو کر کے کچھ دیر یادِ الٰہی کرلیا کرے کہ عبادت کی عادت باقی رہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 02، ص 44، رضا فاؤندیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13781
تاریخ اجراء: 20 شوال المکرم 1446ھ / 19 اپریل 2025ء