logo logo
AI Search

آئل کے پاک یا ناپاک ہونے کا علم نہیں تو استعمال کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس آئل کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ پاک ہے یا ناپاک، اسے استعمال کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ جس آئل کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ یہ پاک ہے یا ناپاک، تو اس کو استعمال کرنا کیسا  ؟

جواب

شرعی اُصول یہ ہے کہ اشیاءمیں اصل طہارت ہے، یعنی جب تک کسی چیز کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو، اُس وقت تک وہ چیز پاک ہی شمار کی جائے گی، محض شک وشبہ کی وجہ سے کسی چیز کو ناپاک نہیں کہا جائے گا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں حکم یہ ہے کہ جب آئل کے ناپاک ہونے کا علم نہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ پاک شمار کیا جائے گا۔ محیط برہانی میں ہے ”الأصل في الأشياء الطهارة“ ترجمہ: اشیاء میں اصل طہارت ہے۔ (المحیط البرھانی، ج 5، ص 361، دار الكتب العلمية، بيروت)

فتاوی رضویہ میں ہے ”شریعتِ مطہرہ میں طہارت وحلت اصل ہیں اور ان کاثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت ونجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیلِ خاص درکار اور محض شکوک وظنون سے اُن کا اثبات ناممکن۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 476، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4869
تاریخ اجراء:13 شوال المکرم 1447ھ/02 اپریل 2026ء