logo logo
AI Search

بالٹی میں موٹے کپڑے پاک کرنے کا طریقہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

موٹے کپڑے بالٹی میں پاک کرنے کا طریقہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

پوچھنا یہ تھا کہ موٹے کپڑے جیسے جیکٹ، سویٹر، اِنر وغیرہ کسی نظرنہ آنے والی نجاست لگنے سے ناپاک ہوجائیں، تو کیا ان کو کسی بالٹی یا ٹب وغیرہ میں ڈال کر، اس میں سے پانی بہانے سے، یہ موٹے کپڑے پاک ہو جائیں گے؟

جواب

بالٹی یا ٹب وغیرہ کسی برتن میں جب موٹے ناپاک کپڑے (مثلاً جیکٹ، سویٹر، اِنر وغیرہ) کو ڈال کر اوپر سے نَل کھول دیا جائے، اور جب بالٹی یا ٹب وغیرہ کے اوپر سے اُبل کر اتنا پانی بہہ جائے، کہ جس سے یہ غالب گمان ہوجائے، کہ پانی، گندگی کو بہا کر لے گیا، تو اب وہ ناپاک کپڑے، پاک ہوجائیں گے۔ تنویر الابصار میں ہے "ويطهر محل غيرهابغلبة ظن غاسل طهارة محلها" ترجمہ: نجاست غیر مرئیہ والی جگہ دھونے والے کے اس جگہ کے پاک ہونے کے غالب گمان سے پاک ہو جاتی ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے "أن المذهب اعتبار غلبة الظن" ترجمہ: بیشک اصل مذہب، غلبہ ظن کا اعتبار کرنا ہی ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار و رد المحتار، جلد 1، صفحہ 593، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے "دَری یا ٹاٹ یا کوئی ناپاک کپڑا بہتے پانی میں رات بھر پڑا رہنے دیں پاک ہو جائے گا اور اصل یہ ہے کہ جتنی دیر میں یہ ظن غالب ہو جائے کہ پانی نَجاست کو بہالے گیا پاک ہو گیا ؛کہ بہتے پانی سے پاک کرنے میں نچوڑنا شرط نہیں۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ2، صفحہ 399، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

امیرِ اہلِ سنت، مولانا الیاس قادری  اپنے رسالہ "کپڑے پاک کرنے کا طریقہ" میں لکھتے ہیں:  ”      کپڑے پاک کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ بالٹی میں ناپاک کپڑے ڈال کر اُوپر سے نل کھول دیجئے، کپڑوں کو ہاتھ یا کسی سَلاخ وغیرہ سے اِس طرح ڈَبوئے رکھئے کہ کہیں سے کپڑے کا کوئی حِصہ پانی کے باہَر اُبھر اہوانہ رہے۔ جب بالٹی کے اُوپر سے اُبل کر اتنا پانی بہ جائے کہ ظنِّ غالِب آ جائے کہ پانی نَجاست کو بہا کر لے گیا ہوگا تو اب وہ کپڑے اور بالٹی کا پانی نیز ہاتھ یا سلاخ کاجتنا حصّہ پانی کے اندر تھاسب پاک ہوگئے جبکہ کپڑے وغیرہ پر نَجاست کا اثر باقی نہ ہو۔ اِس عمل کے دَوران یہ احتیاط ضَروری ہے کہ پاک ہوجانے کے ظنِّ غالب سے قَبل ناپاک پانی کا ایک بھی چھینٹا آپ کے بدن یا کسی اور چیز پر نہ پڑے۔“ (کپڑے پاک کرنے کا طریقہ، صفحہ 30-31، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4932
تاریخ اجراء:06 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/24 اپریل 2026ء