logo logo
AI Search

ٹشو پیپر سے استنجا کے بعد نماز پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ٹشو پیپر سے استنجا کرنے کے بعد نماز پڑھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ٹشوپیپر سے استنجا کر کے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ نیز پانی کی ٹھنڈک سے قطرے آنے کی صورت میں ٹشوپیپر استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر نجاست مخرج (اگلے یا پچھلے مقام) سے، درہم کی مقدار سے زیادہ حصے پر نہ لگے، تو ٹشو پیپر سے استنجا کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں، کہ ٹشو پیپر اسی طرح کے مقاصد کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، اور ان سے صفائی کا حصول بھی ہوجاتا ہے، ہاں! ممکنہ صورت میں ڈھیلوں کا استعمال بہتر ہے، البتہ! ٹشو یا ڈھیلوں کے استعمال کے بعد پانی سے طہارت سنت ہے، بلا عذر اسے ترک کرنا مکروہ ہے۔ اور اگر نجاست مخرج کے ارد گرد کی جگہ پر، ایک درہم سے زیادہ تجاوز کر جائے، تو پھر صرف ڈھیلوں یا ٹشو پیپر وغیرہ سے طہارت کرنا کافی نہیں ہوگی، بلکہ پانی سے دھونا ضروری ہوگا۔

نیز جس کو پانی کی ٹھنڈک سے قطرے آتے ہوں، تو وہ بھی (اوپر مذکور شرط کے ساتھ) ٹشو پیپر استعمال کرسکتا ہے۔ البتہ! جہاں تک ممکن ہو، ڈھیلوں کا استعمال زیادہ بہترہے۔

جوہرہ نیرہ میں ہے "(قوله: و غسله بالماء أفضل) يعني بعد الحجارة و اختلف فيه فقيل مستحب، و قيل سنة في زماننا، و قيل سنة على الإطلاق و هو الصحيح و عليه الفتوى" ترجمہ: مصنف کا قول کہ پانی سے دھونا افضل ہے، یعنی ڈھیلوں سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے دھونا افضل ہے۔ اور اس میں اختلاف ہے، پس کہا گہا ہے کہ یہ مستحب ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہمارے زمانے میں سنت ہے اور یہ قول بھی ہے کہ مطلقاً سنت ہے اور یہی صحیح ہےاور اسی پر فتوی ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 112، مطبوعہ: لاہور)

رد المحتار میں ہے "فكان الجمع سنة على الإطلاق في كل زمان، و هو الصحيح وعليه الفتوى" ترجمہ لہذا ڈھیلوں اور پانی سے استنجاء کرنا مطلقاً ہر زمانے میں سنت ہے اور یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ (رد المحتار، جلد 1، صفحہ 604، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں ہے نجاست جب مخرج بَول و براز سے مقدار درہم سے زیادہ تجاوز نہ کرے، تو ڈھیلے کافی ہوتے ہیں اُن کے بعد پانی لینا فقط سنّت ہے ۔۔۔ یہ سنّت بھی اگرچہ باقی سننِ مؤکدہ کے مثل ہے، جس کا ترک بیشک باعثِ کراہت، مگر حالتِ عذر ہمیشہ مستثنیٰ ہوتی ہے اور ترک سنت صحتِ نماز میں خلل انداز نہیں پس صورت مستفسرہ میں بلاتامل نہ اُس شخص کی اپنی نماز میں حرج نہ امامت میں نقصان البتہ اگر نجاست مخرج کے علاوہ قدر درم سے زیادہ ہو تو اُس وقت پانی سے دھوئے بغیر طہارت نہیں ہوتی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 577، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے آگے یا پیچھے سے جب نَجاست نکلے تو ڈھیلوں سے استنجا کرنا سنّت ہے اور اگر صرف پانی ہی سے طہارت کرلی تو بھی جائز ہے، مگر مستحب یہ ہے کہ ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طہارت کرے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 410، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5059
تاریخ اجراء: 16 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 02 جون 2026ء