حیض میں ختم شریف کی چیز کو ہاتھ لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دوران حیض ختم والی چیز کو ہاتھ لگانا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مجھے حیض (پیریڈز) شروع ہوئے ہیں اور آج پہلا دن ہے، تو کیا میں ختم شریف کی چیز کو ہاتھ لگا سکتی ہوں؟
جواب
حالتِ حیض میں آپ ختم شریف کی چیز کو ہاتھ بھی لگا سکتی ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ ہاتھوں پر کوئی ظاہری گندگی نہ لگی ہو؛ کیونکہ حالتِ حیض میں عورت کے جسم پرجو ناپاکی ہوتی ہے، وہ حقیقی ناپاکی نہیں ہوتی بلکہ ایک حکمی و معنوی ناپاکی ہوتی ہے، جو غُسل کرنے سے دور ہوتی ہے، جبھی حضور علیہ الصلاۃ و السلام نےحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو حالت حیض میں مسجد سے چٹائی پکڑنے کا حکم دیا اور فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: ”قال لي رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: ناوليني الخمرة من المسجد، قالت: فقلت: إني حائض. فقال: إن حيضتك ليست في يدك“ ترجمہ: اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی پکڑاؤ! آپ نے بیان فرمایا: کہ میں نے عرض کی: میں حیض سے ہوں، اس پر آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: بیشک تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (صحيح مسلم، جلد 1، صفحہ 244، رقم الحدیث 298، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے "و قد کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم یدنی راسہ الکریم لأم المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا و ھی فی بیتھا و ھو صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم معتکف فی المسجد لتغسلہ فتقول أنا حائض فیقول حیضتک لیست فی یدک" سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنا سرمبارک دُھلوانے کے لئے، ام المومنین، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قریب کرتے تھے اس وقت آپ گھر میں ہوتیں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ و آلہ علیہ و سلم مسجد میں معتکف ہوتے اُم المومنین عرض کرتیں: میں حائضہ ہوں۔ آپ فرماتے: حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 4، صفحہ 355، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: حیض کی وجہ سے جو نجاست عورت پر طاری ہوتی ہے وہ حکمی ہے حقیقی نہیں، اس کا ظاہر جسم پاک اور صاف رہتا ہے۔ اسی کو حدیث میں فرمایا گیا: "إن حيضتك ليست في يدك" تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ اس کا مفاد یہی ہے کہ ہاتھ پاک ہے تو جیسے ہاتھ پاک ہے، اسی طرح اس کا سارا ظاہر جسم پاک ہے۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 89، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4921
تاریخ اجراء: 04 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 22 اپریل 2026ء