ناپاک گدے پر چادر بچھا کر تلاوت اور ذکر و اذکار کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ناپاک گدے پر پاک چادر بچھا دی، اس پر بیٹھ کر ذکر و اذکار کر سکتےہیں ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ میرے بیڈ پر بچے نے پیشاب کیا تھا، اب وہ جگہ بالکل سوکھ چکی ہے، اس گدے کو تو ہم نے نہیں دھویا لیکن اس پر پاک بیڈ شیٹ اور کور بچھاتے ہیں، تو کیا اس بیڈ پر آرام کرتے ہوئے ذکر اذکار، درود شریف، قرآن مجید پڑھ سکتے ہیں جبکہ ہمارے اور ناپاک گدے کے درمیان ایک پاک چادر یا کور حائل ہوتاہے ؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں ناپاک گدے پر بچھائی گئی بیڈ شیٹ یا کور اگر اتنے موٹے ہوں کہ ان کے نیچے موجود خشک پیشاب کی بو اوپر نہیں آتی، تو ایسی صورت میں اس بیڈ پر ذکر و اذکار، درود شریف اور تلاوتِ قرآن کریم وغیرہ کرنا بلا کراہت جائز ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ شرعی طور پر نماز کی صحت کے لیے جگہ کا پاک ہونا شرط ہے، لیکن فقہاء نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ اگر نجس جگہ یا ناپاک کپڑے پر کوئی دوسرا پاک کپڑا بچھا دیا جائے تو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس جواز کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب ایک مستقل پاک کپڑا درمیان میں حائل ہو گیا تو اب نماز کی ادائیگی براہِ راست ناپاک جگہ پر نہیں ہو رہی، بلکہ اس پاک کپڑے پر ہو رہی ہے جو ناپاکی اور نمازی کے درمیان رکاوٹ بن چکا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب ایک پاک حائل جیسے بیڈ شیٹ یا کور موجود ہو، تو نیچے کی ناپاکی کے احکام اوپر منتقل نہیں ہوتے اور جب نماز جس کے لیے جگہ کی طہارت لازمی شرط ہے ایسی صورت میں جائز ہے، تو ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن اور درود شریف تو بطریقِ اولیٰ جائز ہوں گے۔
ناپاک جگہ، پاک کپڑا بچھا کر اس کے اوپر نماز کے جواز کے متعلق محقق علی الاطلاق ابن ہمام رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”ثم لو كان المكان نجسا فبسط عليه ثوب طاهر إن شفه لا تجوز فوقه وإلا جازت“
ترجمہ: پھر اگر جگہ ناپاک ہو اور اس پر پاک کپڑا بچھایا جائے، اگر وہ (کپڑا اتنا باریک ہو کہ) اسے چھان دے (یعنی ناپاکی کی تری یا اثر رنگ، بو وغیرہ اوپر آ جائے) تو اس کے اوپر نماز جائز نہیں، ورنہ (اگر اثر اوپر نہ آئے تو) جائز ہے۔ (فتح القدیر، ج 1، ص 193، دار الفکر)
رد المحتار میں ہے:
”قال في شرحها: وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقا يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لا يجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظا بحيث لا يكون كذلك جازت“
ترجمہ: منیہ کی شرح میں فرمایا: اور اسی طرح وہ کپڑا ہے جسے خشک ناپاکی پر بچھایا جائے؛ پس اگر وہ (کپڑا) اتنا باریک ہو کہ جو اس کے نیچے ہے اسے دکھائے (یعنی اس نجاست کا رنگ اوپر آجائے) یا اس سے ناپاکی کی بو آئے اس صورت میں کہ اگر اس کی بو ہو، تو اس پر نماز جائز نہیں، اور اگر وہ اتنا موٹا ہو کہ ایسا (اثر ظاہر) نہ ہو تو (نماز) جائز ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج1، ص626، دار الفکر)
حائل ہونے کی صورت میں نماز کے جواز کی وجہ یہ ہے کہ جب نجس کپڑا سوکھا ہوا ہو تو پھر اس سے نجاست دوسرے کپڑے پر منتقل نہیں ہوتی تو جس پر نماز پڑھی جا رہی ہے وہ پاک ہی رہتا ہے، جیسا کہ کنز اور اس کی شرح بحر الرائق میں ہے:
”(لف ثوب نجس رطب في ثوب طاهر يابس فظهر رطوبته على الثوب ولكن لا يسيل إذا عصر لا يتنجس) وذكر المرغيناني: وإن كان اليابس هو النجس والطاهر هو الرطب لا يتنجس؛ لأن اليابس هو النجس يأخذ من الطاهر ولا يأخذ الرطب من اليابس شيئا“
ترجمہ: ناپاک تر کپڑے کو پاک خشک کپڑے میں لپیٹا گیا اور پاک کپڑے پر تری ظاہر ہو گئی لیکن وہ ایسی ہے کہ نچوڑنے سے نہیں گرتی تو وہ پاک رہے گا (ناپاک نہیں ہوگا)۔ اور علامہ مرغینانی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا: اور اگر خشک (کپڑا) ناپاک ہو اور پاک (کپڑا) تر ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوگا؛ کیونکہ خشک وہ ہے جو ناپاک ہے وہ پاک سے (تری) لیتا ہے اور تر خشک سے کوئی چیز نہیں لیتا۔ملتقطاً (البحر الرائق، ج 8، ص 546، دار الکتاب الاسلامی)
ہاں ! یہاں ایک اشکال رہ جاتا ہے وہ یہ کہ اگر چہ اس جگہ پر کپڑا بچھا لیا جائے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ نجاست کے قرب میں ذکر و اذکار ہے اور نجاست کے قرب میں ذکر و اذکار مکروہ ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ نجاست کے قرب میں ذکر و اذکار کا مکروہ ہونا، اس صورت میں ہے جبکہ وہ کھلی و منکشف ہو اور جب اسے کسی چیز سے ڈھک دیا جائے تو اب وہاں ذکر و اذکار مکروہ نہیں جیسا کہ میت کے پاس تلاوت کرنے کے متعلق فقہاء لکھتے ہیں کہ اگر اسے کسی کپڑے سے ڈھانپ دیا جائے تو اس کے پاس قراءت مکروہ نہیں، چنانچہ مراقی الفلاح میں ہے:
”(وتکرہ قراءۃ القرآن عندہ حتی یغسل) تنزیھاً للقراءۃ من نجاسۃ الحدث“
ترجمہ: میت کے پاس قراءتِ قرآن مکروہ ہے حتی کہ اسے غسل دے دیا جائے، قراءت کو حدث کی نجاست سے بچانے کےلیے۔
اس کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
”وکذا کراھۃ القراءۃ عندہ قبل الغسل لجواز أن یکون ذلک لعدم خلوہ عن نجاسۃ غالباً والغالب کالمحقق“
ترجمہ: اسی طرح غسل سے قبل میت کے پاس قرآن کی قراءت کا مکروہ ہونا، ممکن ہے اس لیے ہو کہ میت نجاست سے غالباً خالی نہیں ہوتی، اور غالب متحقق کی طرح ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 564، دار الکتب العلمیۃ)
رد المحتار میں ہے:
”وذكر ط أن محل الكراهة إذا كان قريبا منه، أما إذا بعد عنه بالقراءة فلا كراهة. اهـ قلت: والظاهر أن هذا أيضا إذا لم يكن الميت مسجى بثوب يستر جميع بدنه لأنه لو صلى فوق نجاسة على حائل من ثوب أو حصير لا يكره فيما يظهر“
ترجمہ: طحطاوی نے ذکر کیا کہ محلِ کراہت تب ہے جب قاری میت کے قریب ہو، جب اس سے دور ہو تو کراہت نہیں۔ میں کہتا ہوں: ظاہر یہ ہے کہ قریب ہونے کی صورت میں بھی کراہت اس وقت ہے جب میت کا پورا بدن کسی کپڑے سے ڈھکا ہوا نہ ہو، اس لیے کہ اگر کوئی نجاست کے اوپر نماز پڑھے اور اس نجاست اور نمازی کے درمیان کوئی کپڑا یا چٹائی حائل ہو تو یہ مکروہ نہیں۔ (الدر المختار ورد المحتار، جلد 2، صفحہ 193، 194، دار الفکر)
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے میت کو کپڑے سے ڈھکنے کی صورت میں اس کے پاس تلاوت کو بلا کراہت جائز قرار دیا اور اس پر، نجاست پر کپڑا وغیرہ کسی حائل کو بچھا کر اس پر نماز کے جواز سے استدلال فرمایا، تو نماز کے جواز سے ذکرِ الٰہی کے جواز پر استدلال، یہ وہی استدلال ہے جو ذکر و اذکار کے معاملے میں اوپر بیان ہوا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0727
تاریخ اجراء: 06 رمضان المبارک 1447ھ/25 فروری 2026 ء