مستعمل پانی پینا کیسا ہے، جائز ہے یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مستعمل پانی پی سکتے ہیں یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مستعمل پانی پینے کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ مکروہ تحریمی ہے؟
جواب
صحیح قول کے مطابق مستعمل پانی پاک ہے،البتہ اس کو پینے یا کھانے وغیرہ میں استعمال کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔
درمختار میں ہے:
”ھوطاھروھو الظاھر لكن يكره شربه والعجن به تنزيها للاستقذار“
ترجمہ:ظاہر قول کے مطابق مستعمل پانی پاک ہے،لیکن اس کا پینااوراس سے آٹا گوندھنا، مکروہ تنزیہی ہے، کیونکہ اس سے گھن آتی ہے۔(درمختار مع رد المحتار،جلد1،صفحہ 390،مطبوعہ کوئٹہ)
ردالمحتارمیں علامہ ابنِ عابدین شامی علیہ رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پرلکھتے ہیں:
” لأنه يصير شاربا،للماء المستعمل وهو مكروه تنزيها“
ترجمہ: کیونکہ وہ ماء مستعمل کو پینے والا ہوجائے گااوریہ مکروہ تنزیہی ہے۔(رد المحتار علی الدرالمختار،جلد1،صفحہ 351،مطبوعہ کوئٹہ )
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا رضا محمد مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2388
تاریخ اجرا: 07رجب المرجب1447ھ/28 دسمبر2025ء